قدردانی
قرآن کی سورہ محمد (47:24) میں کہا گیا ہے کہ یہ منافقین قرآن پر تدبر نہیں کرتے ، یا ان کے دلوں پر ان کے تالے لگے ہوئے ہیں۔ اس آیت کے ذیل میں تفسیروں میں ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے::
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ تَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا (أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا) فَقَالَ شَابٌّ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ بَلْ عَلَيْهَا أَقْفَالُهَا حَتَّى يَكُونَ اللهُ تَعَالَىٰ يَفْتَحُهَا أَوْ يُفَرِّجُهَا يَكُونُ اللهُ تَعَالَىٰ فَتْحَهَا أَوْ يُفَرِّجُهَا. فَمَا زَالَ الشَّابُّ فِي نَفْسِ عُمَرَ حَتَّى وَلِيَ فَاسْتَعَانَ بِهِ (تفسیر الطبری، جلد 22، صفحہ 180)۔ یعنی، ہشام بن عروہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز یہ آیت تلاوت فرمائی (کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر اس کے تالے ہیں) یہ سن کر یمن کے ایک نوجوان نے کہا ہاں، ان کے دلوں پر تالے ہیں، یہاں تک کہ خدا ہی ان تالوں کو کھول د ے۔ اس نوجوان کی یاد برابر حضرت عمرؓ کے دل میں رہی۔ یہاں تک کہ جب وہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس سے حکومت کے کام میں مدد لی۔
اسی صفت کا نام قدردانی ہے۔ کسی قوم یا کسی حکومت کا نظام اچھا رہنے کی ایک ضمانت یہ ہے کہ اس کے ذمہ دار لوگ افراد کی صلاحیتوں کو پہچانیں اور ان کی قدردانی کریں، وہ ایسے افراد کو ان کی صلاحیت کی نسبت سے کام کے مواقع فراہم کریں۔ ایسے کسی فرد کو وہ جہاں پائیں اس کو اس طرح اٹھا لیں جس طرح ایک جوہری راکھ میں پڑے ہوئے سونے کے ٹکڑے کو اٹھا لیتا ہے۔
اس کے برعکس، جب ذمہ دار لوگوں کا حال یہ ہو جائے کہ وہ افراد کو اس اعتبار سے دیکھیں کہ وہ میرا رشتہ دار ہے یا اجنبی ہے۔ وہ میری تعریف کرتا ہے یا میرا ناقد ہے۔ وہ میرے گروہ سے تعلق رکھتا ہے یا میرے گروہ سے باہر کا آدمی ہے۔ وہ ہر معاملہ میں مجھ سے اتفاق رائے رکھتا ہے یا کسی معاملہ میں اس کی رائے مجھ سے مختلف ہے۔
کسی قوم یا کسی حکومتی نظام میں اول الذکر صفت والے اشخاص کا اختیار کے مناصب پر ہونا اس قوم یا حکومت کی ترقی کی ضمانت ہے۔ اس کے برعکس جس قوم یا حکومتی نظام میں ثانی الذکر صفت والے اشخاص اختیار کے مناصب پر قابض ہو جائیں ، اس کو کوئی چیز تباہی اور بربادی سے بچانے والی نہیں۔
