مشکل آسان ہوگئی
پیغمبر اسلام ﷺنے اپنے دس ہزار سے زیادہ اصحاب کے ساتھ مکہ سے طائف جارہے تھے۔ درمیان میں ایک پہاڑی راستہ آیا جو بظاہر کشادہ نہ تھا۔آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ راستہ کیسا ہے۔ لوگوں نے راستہ کو اس کی حیثیت ظاہری (face value) پر لیتے ہوئے کہاکہ یہ ایک تنگ راستہ ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دس ہزار سے زیادہ آدمیوں کا یہ قافلہ اس تنگ راستہ سے گزر نہیں سکے گا۔
آپ نے فرمایا کہ نہیں،یہ ہمارے لیے ایک کشادہ راستہ ہے۔ اور پھر آپ نے یہ تدبیر بتائی کہ تم لوگ مجمع کی صورت میں اس راستے سے گزرنا چاہتے ہو اس لیےتم کو یہ راستہ تنگ دکھائی دیتا ہے۔کیوں کہ بیک وقت پورے مجمع کو اس سے گزارنا ہو تو وہ ہمارے لیے تنگ ہی ثابت ہوگا۔ اب تم ایسا کرو آگے پیچھے ہو کر قطار بنا لو۔چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔اب وہ آسانی کے ساتھ چلتے ہوئے اس راستہ سے گزر گئے۔ مجمع کی صورت میں جو راستہ تنگ دکھائی دے رہا تھا قطار کی صورت میں وہ ایک کشادہ راستہ بن گیا۔
یہ سوچ کا فرق ہے۔ اس دنیا میں سب کچھ سوچ پر منحصر ہے۔ غلط سوچ آسان کو مشکل بنا دیتی ہے اور صحیح سوچ مشکل کو آسان کر دیتی ہے سوچ کے اس فرق کا تعلق زندگی کے چھوٹے معاملات سے بھی ہے اور بڑے معاملات سے بھی۔ اس کا تعلق گھریلو مسائل سے بھی ہے اور قومی اور بین الاقوامی مسائل سے بھی۔
