آخری کوشش
اس وقت مکہ کے مسلمانوں میں صرف ایک شخص تھا جو بلاخوف و خطر اپنے گھر سے نکلتا اور وہ خود پیغمبر اسلام تھے۔ حسب معمول ایک روز کعبہ میں داخل ہو کر آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل اونٹ کی ایک اوجھڑی ہاتھ میں لیے ہوئے آیا جو کہ خون اور غلاظت سے آلودہ تھی۔ عرب میں مجرموں کو چند طریقوں سے پھانسی دی جاتی تھی۔ ان میں سے ا یک یہ تھا کہ اونٹ کی اوجھڑی جو خون یا پانی سے بھری ہوتی تھی ، مجرم کے سر پر اس طرح ڈال دیتے کہ اس کا سر اور چہرہ اوجھڑی کے اندر چلا جاتااورنچلا حصہ جو تھیلی کی طرح گردن کو گھیرے رہتا تھا ، باندھ دیتے ۔ چونکہ مجرم کا منہ اورناک اوجھڑی کے اندر بند ہو جاتا تھا ، اس لیے نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ سانس نہ لے سکنے کے باعث مر جاتا۔ اس روز ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے یہی حرکت آپ کے ساتھی کی۔ وہ آہستہ سے کعبہ میں داخل ہوئے اور اونٹ کی اوجھڑی کو حضرت محمد کے اوپر اس طرح ڈال دیا کہ آپ کا سر اور چہرہ اس کے اندر چلا گیا۔ اس کے بعد ابوجہل نے اس کا آخری حصہ ایک تھیلی کے سرے کی طرح آپ کی گردن کے چاروں طرف باندھ دیا۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مصیبت سے اپنے آپ کو چھڑانے کی ناکام کوشش کرتے دیکھ کر ایک قریشی عورت کو رحم آیا۔ وہ حضرت محمد کے ہاتھ پاؤں مارنے کا منظر نہ دیکھ سکی۔ مگر وہ خود ان کی مدد نہ کر سکتی تھی کیوں کہ اس کو ابوجہل کا خطرہ تھا۔ وہ تیزی سے چل کر حضرت محمد کے مکان پر آئی اور آپ کی لڑکی حضرت رقیہ سے کہا کہ اپنے باپ کو بچانے کے لیے دوڑو، اگر دیر کی تو انہیں زندہ نہ پاؤ گی۔ حضرت رقیہ روتی ہوئی خانۂ کعبہ پہنچیں۔ ابوجہل اور دوسرے لوگوں نے جیسے ہی حضرت رقیہ کو دیکھا ، پیچھے ہٹ گئے۔ حضرت رقیہ نے اوجھڑی کو کھولا اور حضرت محمد کے سر اور چہرہ کو نکال کر اپنے دامن سے صاف کیا۔ حضرت محمد تقریباً ایک گھنٹہ حرکت نہ کر سکے اس کے بعد اپنی لڑکی رقیہ کے سہارے آہستہ آہستہ گھر آئے۔
اگلے دن سے حضرت محمد پھر اسی خانۂ کعبہ جانے لگے ، گویا کوئی واقعہ ہی پیش نہ آیا تھا۔ جب قریش نے دیکھا تو انہوں نے دوسری تدبیر کی۔ ایک روز عقبہ نامی ایک شخص ہاتھ میں چادر لیے ہوئے ننگے پاؤں کعبہ میں داخل ہوا۔ وہ آہستہ آہستہ آپ کے پاس پہنچا اور عین اس وقت جب کہ آپ سجدہ میں تھے ، اپنی چادر یکبارگی آپ کے سر پر ڈال دی اور ہاتھ سے اس طرح زور زور سے مارنا شروع کیا کہ پیغمبر اسلام کے ناک اور منھ خون آلود ہو گئے۔ کچھ دیر کی کشمکش کے بعد آپ نے اپنے کو عقبہ کے چنگل سے چھڑا لیا اور دوبارہ خون آلود شکل میں گھر واپس آئے۔ کیا وجہ ہے کہ اتنی سخت عداوت کے باوجود مکہ والوں نے سیدھے سیدھے آپ کو تلوار سے قتل کرنے کی کوشش نہ کی۔ اس کی وجہ اس وقت کا قبائلی نظام تھا۔ قریش والے دس قبیلہ میں تقسیم تھے جن میں سے ایک قبیلہ ہاشم تھا۔ حضرت محمد اسی قبیلہ کے فرد تھے۔ اگر دوسرے نو قبیلے حضرت محمد کو قتل کرتے تو قبائلی رسم کے مطابق ، یا تو آپ کے خون کی قیمت قبیلہ ہاشم کو ادا کرتے یا ان سے جنگ کے لیے تیار ہو جاتے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں حضرت محمد کو قتل کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔
آخر مشورہ سے طے پایاکہ سرداران قریش حضرت محمد کے چچا ابو طالب کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ وہ حضرت محمد کو اپنے قبیلہ سے خارج کر دیں اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کسی دوسرے قبیلہ کے ایک یا دو نوجوان اپنے قبیلہ میں داخل کر لیں۔ ابو طالب اگر حضرت محمد کو قبیلہ سے خارج کرنے کا اعلان کر دیتے تو قبائلی قانون کے مطابق آپ کا خون مباح ہو جاتا۔ قریش کے نمائندے ابو طالب کے پاس گئے اور انہیں اپنے قبیلہ کی بات پہنچائی۔ ابو طالب نے کہا ’’جہاں تک میرا تعلق ہے ، میں تم سے کہتا ہوں کہ میں مسلمان نہ ہوں گا۔ میں اپنے باپ دادا کے دین پر مروں گا۔ مگر اپنے بھتیجے کو قبیلہ سے خارج نہیں کر سکتا کہ تم اسے قتل کر ڈالو۔ البتہ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں ان سے بات کروں گا۔ ممکن ہے کہ میں انہیں نئے مذہب کو چھوڑنے پر آمادہ کر سکوں۔ تم لوگ کل میرے پاس آؤ، ابو طالب نے جب حضرت محمد سے گفتگو کی تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ’’اے چچا ، میں نے جس دن سے یہ کام شروع کیا ہے ، اسی دن سے میرا بھروسہ خدا کے سوا کسی اور پر نہیں ہے۔ اگر آپ قبیلہ سے خارج کرنا چاہیں تو کر دیجیے‘‘۔ ابو طالب نے اس کے بعد قریش والوں سے کہہ دیا کہ ’’ میں محمد صلی اللہ کو قبیلہ سے خارج نہیں کروں گا۔ لیکن جب تک زندہ ہوں ان کا مذہب بھی قبول نہ کروں گا‘‘۔
قریش والوں نے جب دیکھا کہ ابو طالب کے یہاں ا ن کی کوشش کامیاب نہ ہوئی تو انہوں نے ارادہ کیا کہ براہ راست حضرت محمد سے گفتگو کریں۔ مکہ کے سربرآوردہ قبیلہ قریش نے ایک روز جمع ہو کر کہا کہ ایک ایسے آدمی کو تلاش کرو جو تم سب میں بڑا جادوگر ، بڑا کاہن اور بڑا شاعر ہو، وہ محمد کے پاس جائے جس نے ہماری جماعت میں اختلاف پیدا کر رکھا ہے۔ سب نے کہا کہ اس کام کے لیے عتبہ بن ربیعہ سے بہتر کوئی آدمی نہیں۔
اس فیصلہ کے مطابق ،عتبہ نے آپ کے پاس آ کر کہا:اے محمد، تم بہتر ہو یا تمہارے والد عبداللہ۔ آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر پوچھا تم بہتر ہو یا عبدالمطلب۔ آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے بعد عتبہ نے کا اگر تم یہ مانتے ہو کہ یہ لوگ بہتر تھے تو ان لوگوں نے انہی معبودوں کی پرستش کی جن کو تم برا کہتے ہو۔ اگر تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ تم ان لوگوں سے بہتر ہو تو بیان کرو کہ ہم بھی تمہاری بات سنیں۔ خدا کی قسم ہم نے کبھی کسی بھیڑ کے بچے کو اپنے ریوڑ کے لیے اپنی قوم پر تم سے زیادہ منحوس نہیں پایا۔ تم نے ہماری جماعت میں پھوٹ ڈال دی ، ہمارے دین کو بدنام کیا ، ہم کو عرب میں یہاں تک رسوا کیا کہ عام شہرت ہے کہ قریش میں ایک جادوگر پیدا ہوا ہے۔ بخدا ہم لوگ حاملہ جیسی آواز کے منتظر ہیں کہ اس کے سنتے ہی ہمارا بعض بعض پر تلوار چھوڑ دے اور ہم آپس میں کٹ مریں ‘‘۔ پھر عتبہ نے کہا ’’اے شخص ، اگر تو حاجت مند ہے تو ہم تیرے لیے اتنا ڈھیر لگا دیں کہ تو قریش میں سب سے زیادہ دولت مند ہو جائے۔ اگر یہ کوئی آسیب ہے تو ہم اس کے علاج کے لیے اپنا خزانہ تک خرچ کر دیں گے۔ اگر شادی کی خواہش ہے تو قریش کی جن عورتوں کو چاہو، ان سے تمہارا نکاح کر دیں گے۔ اور اگر تمہارا ارادہ بادشاہت کا ہے تو ہم تم کو بادشاہ بنا دیں گے‘‘۔
آپ خاموشی سے اس تقریر کو سنتے رہے ، آخر میں بولے تم کہہ چکے ، عتبہ نے کہا ہاں۔ پھر آپ نے قرآن کی 41 ویں سورہ ابتدا سے پڑھنا شروع کیا۔ آپ تیرہویں آیت تک پہنچے تھے کہ عتبہ نے آپ کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا بس بس۔ پھر پوچھا کیا اس کے سوا اور کچھ کہنا ہے ، آپ نے کہا نہیں۔ اس کے بعد عتبہ واپس ہو کر اپنے گھر بیٹھ رہا اور لوگوں کے پاس نہ گیا۔ ابوجہل کو معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ اے برادران قریش ، خدا کی قسم ، میرا عتبہ کے بارے میں اس کے سوا اور کوئی خیال نہیں کہ وہ محمد کی طرف مائل ہو گیا اور اس کو محمد کا کھانا پسند آ گیا۔
اس کے بعد ابوجہل اور اس کے ساتھی عتبہ کے یہاں گئے۔ ابوجہل نے عتبہ سے کہا ’’اے عتبہ ، خدا کی قسم، ہم کو اس لیے آنا پڑا کہ تم محمد کی طرف مائل ہو گئے۔ اگر تمہیں کوئی حاجت ہے تو ہم تمہارے لیے اتنا مال جمع کر دیں کہ پھر تمہیں محمد کے کھانے کی ضرورت نہ رہ جائے۔ عتبہ یہ سن کر بگڑ گیا۔ اس نے کہا کہ تم لوگوں کو خوب پتہ ہے کہ میں قریش میں سب سے زیادہ مال دار ہوں۔ مگر خدا کی قسم، محمد نے مجھ کو ایسا جواب دیا کہ وہ نہ جادو ہے، نہ شعر ہے، نہ کہانت ہے۔ اس نے مجھ سے وہ کلام کیا کہ خدا کی قسم ، میرے کانوں نے اس جیسا کلام نہ سنا تھا۔ میں حیران رہ گیا کہ کیا جواب دوں۔ تم کو خوب پتہ ہے کہ محمد جُھوٹ نہیں بولتا۔ محمد کو ڈر ہے کہ تم پر آسمان سے کوئی عذاب نہ اتر آئے۔
اس کے بعد قریش نے ایک روز آپ کو بلایا اور آپ کے سامنے کچھ باتیں رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ لوگوں میں کوئی بھی نہیں جو ہم سے زیادہ تنگ شہر والا ہو۔ ہمارے یہاں پانی نہیں۔ ہم سے زیادہ تنگ زندگی والا کوئی نہیں۔ اس لیے جس رب نے آپ کو بھیجا ہے ، اس سے دعا کیجیے کہ وہ ان پہاڑوں کو ہم سے ہٹا دے جو ہماری زندگی کو تنگ کیے ہوئے ہیں۔ اور ہمارے شہروں کو کشادہ کر دے۔ اور ان میں ہمارے لیے شام و عراق جیسی ندیاں جاری کر دے۔
اسی طرح ہمارے خاندانی بزرگوں میں سے جو گزر چکے ہیں ، ان کو ہمارے لیے زندہ کر دے۔ ان زندہ ہونے والوں میں قصی بن کلاب ہوں ، کیوں کہ وہ ہمارے بڑے اور سچے تھے۔ پھر ہم ان سے پوچھیں کہ جو کچھ تم کہتے ہو، وہ حق ہے یا باطل۔ اگر انہوں نے تمہاری تصدیق کی، اور تم نے وہ چیزیں کر دیں جن کا ہم نے تم سے سوال کیا ہے ، تو ہم تمہاری تصدیق کریں گے اور اس کے سبب سے تمہارا وہ درجہ بھی مان لیں گے جو خدا کے یہاں تمہارے لیے ہے۔ اور ہم یہ بھی جان لیں گے کہ تم واقعی خدا کے رسول ہو جیسا کہ تم کہتے ہو۔
یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں ان چیزوں کے ساتھ تمہاری طرف نہیں بھیجا گیا ہوں۔ میں تو وہی چیز لے کر تمہارے پاس آیا ہوں جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے ، اور اللہ نے جس چیز کے ساتھ مجھے بھیجا ہے ، وہ میں نے تمہاری طرف پہنچا دی۔ اگر تم اس کو قبول کرو تو دنیا اور آخرت میں تمہارا حصہ ہے۔ اور اگر اسے رد کر دو تو میں اللہ کے حکم کا انتظار کروں گا ، یہاں تک کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے۔
قریش کے لوگوں نے کہا کہ اگر تم ہمارے لیے ایسا کرنے پر تیار نہیں ہو تو اپنی ذات ہی کے لیے کرو۔ تم اپنے رب سے سوال کرو کہ وہ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ بھیج دے جو ان باتوں کی تصدیق کرے جو تم کہتے ہو۔ اور اپنے رب سے کہو کہ وہ باغ اور محل اور سونے چاندی کے خزانے تمہیں دے دے ، اور اس طرح تم کو ان کاموں سے بے نیاز کر دے جن میں ہم تم کو مشغول دیکھتے ہیں۔ کیوں کہ تم بھی ایس طرح بازاروں میں جاتے ہو جس طرح ہم جاتے ہیں۔ تم بھی اسی طرح معاش کی تلاش کرتے ہو جس طرح ہم کرتے ہیں۔ ایسا ہو جائے تو ہم اس درجہ اور فضیلت کو جان لیں گے جو تمہارے رب کے یہاں تمہارا ہے ، اور یہ کہ تم رسول ہو جیسا کہ تم دعویٰ کرتے ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ میں ایسا کرنے والا نہیں۔ اور نہ میں ایسا شخص ہوں جو اپنے رب سے ان چیزوں کے لیے سوال کرے۔ اللہ نے تو مجھ کو خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اگر تم اس چیز کو قبول کر لو جس کو لے کر میں آیا ہوں تو وہ دنیا و آخرت میں تمہارا حصہ ہے۔ اور اگر تم اس کو میری طرف لوٹا دو تو میں اللہ کے حکم کا انتظار کروں گا ، یہاں تک کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے۔
قریش نے کہا کہ پھر تم ایسا کرو کہ ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو۔ جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے کہ اگر تمہارا رب چاہے تو وہ ایسا بھی کر دے۔ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تم ایسا نہ کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ یہ اللہ کے اوپر ہے ، اگر اس نے تمہارے ساتھ ایسا کرنا چاہا تو وہ ایسا ہی کرے گا۔
قریش نے کہا کہ اے محمد ، کیا تمہارے رب کو معلوم نہ تھا کہ ہم تمہارے ساتھ بیٹھیں گے اور تم سے وہ سوال کریں گے جو ہم نے کیا ہے۔ اور تم سے وہ چیزیں طلب کریں گے جو ہم نے تم سے طلب کیا ہے۔ پھر وہ پہل کرتا اور تم کو ان سوالوں کا جواب دے دیتا جو ہم نے کیے ہیں۔ اور وہ تم کو بتا دیتا کہ وہ اس معاملہ میں ہمارے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔
پھر قریش نے کہا کہ ہم تو تمہاری باتیں ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اور ہم کو معلوم ہوا ہے کہ ان باتوں کی تعلیم تم کو یمامہ کا ایک شخص دیا کرتا ہے جس کا نام رحمن ہے۔ اور ہم تو خدا کی قسم ، کبھی بھی رحمن پر ایمان نہ لائیں گے۔ اے محمد ، ہم نے اپنا عذر تمہارے سامنے بیان کر دیا ہے۔ خدا کی قسم ، ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے ، یہاں تک کہ یا تو تم ہم کو ہلاک کر دو یا ہم تم کو ہلاک کر دیں۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں، اور وہ خدا کی لڑکیاں ہیں ، اس لیے ہم تم کو نہیں مانیں گے یہاں تک کہ تم اللہ اور فرشتوں کو سامنے نہ لاؤ۔
جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا تو آپ ان کے پاس سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ کے ساتھ عبداللہ بن ابی امیہ بھی اٹھ کھڑا ہوا، وہ آپ کی پھوپھی عاتکہ بنت عبدالمطلب کا لڑکا تھا۔ اس نے کہا کہ اے محمد، قوم نے آپ کے سامنے پیش کیا جو کچھ پیش کیا ، مگر آپ نے اس کو قبول نہیں کیا۔ پھر انہوں نے اپنے لیے کچھ باتیں طلب کیں تاکہ اس کے ذریعہ سے وہ آپ کا وہ درجہ جانیں جو آپ کے دعویٰ کے مطابق اللہ کے یہاں آپ کا ہے ، اس طرح آپ کو پہچان کر وہ آپ کی تصدیق کریں اور آپ کی پیروی کریں۔ مگر آپ نے اس کو نہیں کیا۔
پھر انہوں نے آپ سے کہا کہ آپ خود اپنے فائدہ کے لیے وہ چیزیں اپنے رب سے حاصل کریں جس سے لوگ اللہ کے یہاں آپ کی فضیلت کو اور آپ کے درجہ کو جانیں ، مگر آپ نے ایسا بھی نہیں کیا۔ پھر انہوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ ان پر اس عذاب کا کوئی حصہ اتاریں جس سے آپ انہیں ڈراتے ہیں مگر آپ وہ بھی نہ کر سکے۔
عبداللہ بن امیہ نے کہا کہ خدا کی قسم ، میں تو کبھی آپ پر ایمان لانے والا نہیں، یہاں تک کہ آپ ایک ایسی سیڑھی لائیں جو آسمان تک جاتی ہو۔ پھر آپ اس پر چڑھیں اور میں آپ کو چڑھتے ہوئے دیکھوں۔ یہاں تک کہ آپ آسمان پر پہنچ جائیں۔ پھر آپ آسمان سے اپنے لیے ایک نوشتہ لائیں۔ اور آپ کے ساتھ چار فرشتے ہوں جو گواہی دیں کہ آپ وہی ہیں جو آپ اپنے بارے میں کہتے ہیں۔ خدا کی قسم، اگر آپ نے ایسا کر دیا تب بھی میں نہیں سمجھتا کہ میں آپ کی تصدیق کروں گا:وَاَيْمُ اللهِ، لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ مَا ظَنَنْتُ أَنِّي أُصَدِّقُكَ(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 298)۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کی طرف لوٹے، اور آپ غم اور افسوس کی حالت میں تھے۔ کیوں کہ آپ اپنی قوم کے پاس جو امید لے کر گئے تھے ، وہ امید پوری نہیں ہوئی۔ بلکہ اس کے بعد وہ لوگ اور بھی زیادہ آپ سے دور ہو گئے۔
