ایجاب و قبول کی روایت
زندگی نام ہے لین دین کا، لینے کا اور دینے کا۔ دوسروں کو متاثر کرنے کا اور دوسروں سے متاثر ہونے کا۔ یہ ایک عام سماجی قانون ہے جو ساری تاریخ میں جاری رہا ہے اور جاری رہے گا۔ جہاں انسانی تعلقات ہوں گے، وہاں یہ با ہمی عمل بھی جاری رہے گا۔
باہمی تبادلہ کی ایک مثال تجارت ہے ۔ تجارتی لین دین میں لوگ ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔ اسی طرح مکانات بنانے میں لوگ ایک دوسرے کے تعمیری تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ اسی طرح فرنیچر ، سواری ، زراعتی سامان اور دوسری تمام چیزوں میں ایک انسانی گروہ اور دوسرے انسانی گروہ کے درمیان لین دین کا عمل جاری رہتا ہے۔ اور یہ عین فطری بات ہے کہ یہ دو طرفہ عمل انسانوں کے درمیان برابر جاری رہے۔
تاہم لین دین کے واقعات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو اس سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ وہ یہ کہ یہ عمل محدود ہے نہ کہ لا محدود۔ اس دو طرفہ عمل میں ایک خاص حد بندی کا طریقہ رائج ہے۔ یعنی دونوں طرف کی کچھ چیزیں ایسی ہیں جو برابر ایک دوسرے کے اثر سے بدلتی رہتی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ کچھ اور چیزیں ہیں جو ہمیشہ یکساں رہتی ہیں۔ وہ اثر قبول کیے بغیر یکساں حالت میں اپنے آپ کو باقی رکھتی ہیں۔
اس معاملہ میں زندگی کی مثال سمندر کے پانی کی سی ہے۔ سمندر میں اوپر کی سطح پر موجیں اٹھتی ہیں۔ ایک طرف کا پانی دوسری طرف کے پانی میں برابر ملتا رہتا ہے۔ مگر سمندر کے نیچے کا پانی بالکل ساکن ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ ایک حالت پر قائم رہتا ہے۔ سمندر کے اوپر کے پانی میں تبادلہ کا عمل جاری رہتا ہے اور سمندر کے نیچے کے پانی میں یکسانیت اور بر قراری کا عمل۔
یہ فرق عین فطری ہے اور اس کو لازماً باقی رہنا چاہیے ۔ اس فرق کو ختم کرنا فطرت کے خلاف ہے۔ اس سے ٹکرانا فطرت سے ٹکرانا ہے۔ اور فطرت سے ٹکرانے والا خود اپنے کو تباہ کرتا ہے ، وہ فطرت کے ابدی عمل میں تبدیلی لانے پر قادر نہیں ہوتا۔ اس دنیا میں تغیّر پذیر امور میں ٹھہراؤ پر اصرار کرنا بھی غلط ہے اور ٹھہراؤ والے امور میں تغیر کی کوشش بھی یکساں طور پر غلط اور بے فائد ہ ہے۔
اب اس کی روشنی میں ’’مذہب میں ایجاب و قبول کی روایت‘‘ پر غور کیجیے ۔ مذہب کا معاملہ بھی اسی عام قانون کے تحت آتا ہے ۔ مذہب میں بھی کچھ ابدی اصول ہیں، اور کچھ اس کے اضافی پہلو ہیں ۔ مذہب کے ابدی اصول ہمیشہ یکساں حالت پر باقی رہتے ہیں۔ مگر اس کے اضافی پہلو میں تبادلہ کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس دوسرے پہلو میں ایک مذہب دوسرے مذہب سے لیتا بھی ہے اور اسی کے ساتھ اس کو دیتا بھی ہے ۔ ایک اعتبار سے مذہب سمندر کی تہ کی مانند ہے اور دوسرے اعتبار سے مذہب سمندر کی سطح کی مانند۔
سمجھنے کی آسانی کے لیے ان دونوں چیزوں کو مذہبی حقیقت اور مذہبی کلچر کہا جاسکتا ہے۔ ان کو ہم مختص طور پر مذہب اور کلچر کہیں گے۔ مذہب بنیادی طور پر کچھ اصول اور کچھ قدروں کا نام ہے۔ یہ اصول اور قدریں ابدی اہمیت رکھتی ہیں۔ وہ صداقت کی حامل ہیں۔ ان میں کسی قسم کی تبدیلی یا مصالحت ممکن نہیں۔
مگر کلچرل کا تعلق زیادہ تر اجتماعی رہن سہن سے ہے۔ وہ جغرافی تقاضوں اور قومی حالات اور تاریخی عوامل سے ایک یا دوسری شکل میں متشکل ہوتا ہے۔ ان میں مذہب کے بنیادی اصولوں کا انعکاس بھی ضرور موجود ہوتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ وقتی یا مقامی حالات سے بھی اثر قبول کرتا ہے۔
اسلام کی مثال لیجیے۔ اسلام ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں شروع ہوا۔ اس کے بعد وہ ساری دنیا میں پھیل گیا۔ اسلام کی بنیا د جن ابدی اصولوں پر تھی۔ مثلاً توحید، رسالت، آخرت ، ان معاملات میں مسلمانوں نے کسی ملک میں کوئی اثر قبول نہیں کیا ۔ یہ اصول ہر جگہ اپنی حالت میں یکساں طور پر بر قرار ہے۔ مگر ، مثال کے طور پر لباس کے معاملہ میں، مسلمانوں نے ہر ملک کے مقامی رواج کا اثر قبول کیا ۔ آج عرب، ایران ، ہندستان ، یورپ، ہر جگہ مسلمان موجود ہیں ۔ مگر ہر جگہ ان کا لباس جداگانہ ہے ۔
تاہم ایک اصول ہر جگہ کار فرما نظر آئے گا۔ لباس کے ستر کے بارے میں اسلام نے جو اصول مقرر کیے تھے ، اس کو مسلمانوں نے ہر جگہ یکساں طور پر برقرار رکھا۔ مگر لباس کی وضع کے بارے میں ہر جگہ وہ مقامی رواج کا اثر قبول کرتے رہے۔ گویا لباس کے معاملہ میں انھوں نے پچاس فیصداسلام کی تعلیمات پر عمل کیا، اور بقیہ پچاس فیصد میں مقامی حالات کا۔
اگر آپ مختلف ملکوں کا سفر کریں تو آپ ہر ملک کے مسلمانوں کے دستر خوان میں فرق پائیں گے ۔ عرب کا کھانا، ایران کا کھانا ، یورپ کا کھانا ، ہر جگہ کے مسلمانوں کے کھانے کا طریقہ الگ الگ ہے۔ مگر یہاں بھی فرق کے ساتھ یکسانیت کا ایک پہلو ہر جگہ موجود ہے۔ مسلمانوں نے کھانے کے طریقوں میں ہر جگہ مقامی اثر قبول کیا ، مگر کھانے کے بارے میں اسلام نے حرام و حلال کی جو حد مقرر کی تھی ، اس کو ہر جگہ بر قرار رکھا۔
یہی معاملہ مکانات کا ہے۔ مختلف ملکوں میں مسلمانوں کے مکانات دیکھئے تو ایک جگہ اور دوسری جگہ کے طرز تعمیر میں کافی فرق نظر آئے گا۔ ہر جگہ مسلمانوں نے مقامی طرز تعمیر کا اثر قبول کیا اور مکانات بنانے میں اس کا لحاظ کیا۔ مگر اسی کے ساتھ ایک اصول ہر جگہ ان کے یہاں غیر متغیر طور پر موجود ملے گا۔ اور وہ پردہ کا اصول ہے۔ مسلمانوں نے اپنے مکانات میں زنان خانہ اور مردان خانہ کی تقسیم رکھی۔ ان کو انھوں نے اس طرح بنایا کہ پردہ کے حدود کو باقی رکھتے ہوئے وہ اس کے اندر اپنے خاندان کے ساتھ رہ سکیں۔
خلاصہ یہ کہ مذہبی نقطۂ نظر سے اس ایجاب و قبول کے دو پہلو ہیں ۔ ایک اصول اور اقدار کے اعتبار سے ، اور دوسرا، کلچرل مظاہر کے اعتبار سے ۔ اصولی امور میں مذہب کا طریقہ صد فی صد برقراری کا ہے۔ اور کلچرل مظاہر کے معاملہ میں پچاس فیصد اور پچاس فیصد کا طریقہ کار فرما ہے۔ یعنی مذہب اپنے اصول اور عقائد کے معاملہ میں صد فی صد غیر متغیر حالت میں باقی رہنا چاہتا ہے ۔ اور کلچرل مظاہر کے معاملات میں پچاس فیصد کی حد تک اپنی قدروں کو باقی رکھتے ہوئے بقیہ پچاس فیصد میں مطابقت اور ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔
_______________________________________________
نوٹ:یہ تقریر 22مارچ 1991کو آل انڈ یا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی۔
