علما کم ، خطبا زیادہ
مشہور صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا:إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ:كَثِيرٌ فُقَهَاؤُهُ، قَلِيلٌ خُطَبَاؤُهُ....وَسَيَأْتِي مِنْ بَعْدِكُمْ زَمَانٌ:قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ، كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ (الادب المفرد للبخاری، اثر نمبر789)۔ یعنی، آج تم ایک ایسے زمانے میں ہو، جب کہ امت میں علما بہت ہیں اور خطبا کم ہیں۔ تمھارے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا، جب کہ امت میں خطبا زیادہ ہوں گے اور علما کم ہوں گے۔
اِس قول میں علما (اور بعض روایت کے مطابق فقہا) سے مر اد حقیقی اہلِ علم ہیں، اور خطبا سے مراد عوامی انداز میں بولنے والے مقررین ہیں۔ بعد کے زمانے سے مراد اسٹیج اور میڈیا کا زمانہ ہے۔
یہ بعد کا زمانہ آج پوری طرح ہمارے سامنے آچکا ہے۔ قدیم زمانے میں، جب کہ پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا وجود میں نہیں آیا تھا اور نہ جدید قسم کا اسٹیج بنا تھا، اُس وقت تقریر و خطابت میں کوئی کشش موجود نہ تھی۔ اُس وقت کے حالات میں لوگ زیادہ تر علمی مطالعہ اور علمی کاموں میں مشغول رہتے تھے۔ اِس بنا پر قدیم زمانے میں یہ ممکن تھا کہ بڑے بڑے اہلِ علم پیدا ہوں۔
موجودہ زمانے میں، اسٹیج اور میڈیا کے ظہور نے صورتِ حال کو بالکل بدل دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ آدمی پُر جوش تقریریں کر کے اسٹیج پر نمایاں ہو۔ اخباروں میں اس کی تصویریں چھپیں۔ ٹی وی کے پروگراموں میں اس کا شان دار مظاہرہ ہو، وغیرہ۔
اِس طرح کی چیزوں نے آج کے ذہین لوگوں کو علم سے بے رغبت کردیا ہے۔ اسٹیج اور میڈیا میں نمایاں ہونا، اُن کے لیے زیادہ پرکشش بن گیا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو صحابی رسول نے پیشین گوئی کے انداز میں بیان کیا۔
علم والا آدمی سوچ کر بولتا ہے اور خطابت والا آدمی سوچے سمجھے بغیر اپنی تقریر شروع کر دیتا ہے۔ اِس فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ علم والا آدمی مُصلح کا درجہ پاتا ہے، اور خطابت والا آدمی مفسد کا درجہ۔ مستقبل کی تعمیر کے لیے ہمیشہ صاحب بصیرت اہلِ علم درکار ہوتے ہیں، نہ کہ اہلِ خطابت۔ (الرساله، فروري 2009)
