ذہنی مسائل
گھر یلومسائل میں سے ایک مسئلہ وہ ہے جو سو تیلی اولاد کی نسبت سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک عورت کسی شخص کی دوسری بیوی بن کر ایک گھر میں داخل ہو اور وہاں پچھلی بیوی سے ہونے والی اولاد موجود ہوتو عام طور پر گھر کے اندر نازک مسائل پیدا ہوجاتے ہیں جو بعض اوقات گھر کی بربادی کا سبب بنتے ہیں۔
ہر عورت کو فطری طورپر اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے جب تک دوسری بیوی کے یہاں اولاد نہ ہو، اس وقت تک اس کی یہ کمزوری چھپی رہتی ہے۔مگر جیسے ہی دوسری بیوی کے یہاں اولاد پیداہوئی ،اس کی دل چسپیاں اور توجہات اپنی اولاد کی طرف مائل ہوجاتی ہیں۔ بس یہیں سے بگاڑکا آغاز ہوجاتا ہے۔ پچھلی بیوی کی اولاد اپنے آپ کو گھر کے اندر بے جگہ محسوس کرنے لگتی ہے۔ اب کشمکش شروع ہوجاتی ہے جو بعض اوقات ایسے نتائج تک پہنچ جاتی ہے جو دونوں میں سے کسی کے حق میں بھی مفيد نہیں ہوتی۔
اس صورت حال کا حل نہایت آسان ہے۔ اور وہ ایک لفظ میں ’’ وضع داری‘‘ ہے۔ جب بھی گھر کے اندر ایسی صورت حال پیش آئے تو عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے دلی جذبات پر وضع داری کاپردہ ڈال لے۔ اس کے بعد ان شاء اﷲ کوئی نزاکت پیدانہ ہوگی۔
دوسری بیوی کو جاننا چاہیے کہ اگر وہ عام معاملات میں اپنی سگی اولاد کا بظاہرکم لحاظ کرے تو اس سے اس کی اولاد کے لیے کوئی مسئلہ پیدانہیں ہوگا۔ کیوں کہ اولاد کے لیے سب سے بڑی چیز ماں ہوتی ہے اور وہ زندہ حالت میں پوری طرح اسے حاصِل ہے۔ مگر پہلی بیوی کی اولاد اپنی ماں کی وفات کی وجہ سے احساسِ محرومی میں مبتلا رہتی ہے۔ اس لیے ظاہری معاملات میں اگر اس کا کچھ کم لحاظ کیا جائے تو اس کو فوراً اس کا احساس ہوگا۔ اس کی یہ نفسیاتی حالت اس کو ذلت کے احساس میں مبتلا کر دے گی، اور اجتماعی زندگی میں کسی شخص کا احساس ذلت میں مبتلا ہونا ہمیشہ فساد پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
یہاں میں ایک عملی مثال دیتا ہوں، مولانا سید سلیمان ندوی(1884-1953ء) کی اہلیہ سلیمہ خاتون (1905-1987) مولانا مرحوم کی دوسری بیوی تھیں۔ 1923 ء میں جب وہ شادی کے بعد مولانا مرحوم کے یہاں آئیں توپچھلی بیوی سے ان کے یہاں ایک صاحبزادے تھے جن کا نام ابو سہیل تھا۔ سلیمہ خاتون جب کسی کو خط لکھتیں تو قدیم روایت کے مطابق اپنا نام نہ لکھتیں، بلکہ ’’ والدہ ابو سہیل ‘‘ لکھتیں۔
یہاں تک کہ خود ان کے یہاں اولاد ہوئی۔ وہ چار لڑکیوں اور ایک لڑکے کی ماں بن گئیں۔مگر ان کی سابقہ وضع میں فرق نہیں آیا۔ وہ اپنی تحریروں میں بدستور ’’ والدہ ابو سہیل ‘‘ لکھتی رہیں۔ان کے صاحبزاد ےڈاکٹر سلمان ندوی بذات خود ایک مشہور شخصیت ہیں ، مگر سلیمہ خاتون صاحبہ نے کبھی اپنے آپ کو ’’ والدہ سلمان‘‘ نہیں لکھا۔ بلکہ ہمیشہ” والدہ ابوسہیل ‘‘ لکھا۔ مرحومہ ایک دین دار خاتون تھیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی کی وفات کے بعد وہ دنیا میں 34 سال تک رہیں مگر ان کی اس وضع داری میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا(ماهنامه معارف، اعظم گڑھ، اگست 1987، ’’شذرات‘‘)۔
سلیمہ خاتون مرحومہ کا وضع داری کا یہی رویہ گھر کی عام زندگی میں تھا۔ ہر ماں کی طرح انھیں بھی قلبی طور پر اپنی سگی اولاد سے زیادہ محبت ہوگی۔ مگر عام رویے میں انھوں نے کبھی اپنی اس قلبی حالت کو ظاہر ہونے نہیں دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ابوسہیل صاحب اپنے سوتیلے بہن بھائی کے ساتھ بالکل سگے بھائی کی طرح رہے اور گھرکے اندر کبھی کوئی نزاکت پیدانہیں ہوئی۔
حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام مسائل جن کو گھر یلومسائل کہا جاتا ہے، وہ99 فی صد محض نفسیاتی ہوتے ہیں۔ وہ ایک نفسیات کے تحت پیداہوتے ہیں اور دوسری نفسیات کے تحت انھیں ختم کیاجاسکتا ہے۔ ان کا حقیقی کے بجائے نفسیاتی ہونا نہایت آسانی کے ساتھ اس طرح معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ایک ساس کو جب اپنی بہوسے کوئی شکایت پیداہوتو وہ سوچے کہ یہی کام اگر اس کی بیٹی کرتی ، کیا تب بھی اس کو اس پر شکایت ہوتی۔ اسی طرح جب ایک بہو کو اپنی ساس سے کسی معاملہ میں شکایت ہوتووہ سوچے کہ یہی معاملہ اگر ماں کی طرف سے پیش آیا ہوتا، کیا تب بھی وہ اس پر رنجیدہ ہوکر بیٹھ جاتی۔
ساس اور بہواگر اس اعتبار سے غور کریں تو انھیں معلوم ہوگا کہ ان کی شکایت سراسر بے بنیادتھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے تما م مسائل ذہن میں پیدا ہوتے ہیں اور ذہن ہی میں انھیں ختم کیا جاسکتا ہے۔ ذہن سے باہر نہ ان کا کہیں وجود ہے اور نہ ذہن سے باہر کہیںان کو حل کرنے کی ضرورت۔
