قربانی کیوں
روایات میں آتا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:مَا هٰذِهِ الأُضَاحِي يَا رَسُولَ اللهِ (اے خدا کے رسول یہ قربانیاں کیا ہیں)۔ آپ نے جواب دیا: سَنَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ(یہ تمھارے باپ ابراہیم کا طریقہ ہے) (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3127)۔ گویا عید اضحی میں جانور کو ذبح کرنا اس عظیم تاریخی واقعہ کی یاد تازہ کرنا ہے جو چار ہزار سال پہلے پیش آیا۔
قربانی ، حضرت ابراہیم کی زندگی کو اپنا آئیڈیل بنانے کا عزم ہے۔ یہ ایک وقتی قسم کی سالانہ رسم نہیں بلکہ مستقل زندگی کا ایک سالانہ مظاہرہ ہے۔ قربانی کی عبادت کو آدمی اگر اس کی اصلیت کے اعتبار سے سمجھ کر ادا کرے اسی وقت اس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ سال بھر تک اس کے پیغام کو اپنی زندگی میں دہرائے گا۔ اور اگر وہ قربانی کے دن اس کے اصل مفہوم کو سامنے نہ رکھے تو سال کے بقیہ دنوں میں کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اس کا نمونہ بنائے گا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام 2160 ق م میں عراق کے ایک قدیم شہر اُر میں پیدا ہوئے۔ تورات کے بیان کے مطابق آپ نے 175سال کی عمر پائی۔ آپ کی قوم اس زمانہ میں سورج کو پوجتی تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ اس کو جو کچھ مل رہا ہے سورج سے مل رہا ہے۔ آپ نے کہنا شروع کیا کہ سورج اور ستارے سب ایک خدا کی مخلوق ہیں۔ تم لوگ خالق کو پو جو اور اسی سے لو لگا ؤ آدمی جس چیز کو مقدس سمجھ لے اس کے بارے میں وہ بہت حساس ہو جاتا ہے۔ چنانچہ قوم آپ کی دشمن ہوگئی ۔ توحید کا داعی بننے کی آپ کو یہ قیمت دینی پڑی کہ آپ کے لیے اپنے وطن میں رہنا مشکل ہو گیا۔ دوست اور رشتہ دار سب آپ کے مخالف ہو گئے۔ وقت کے حکمران طبقہ نے آپ کو آگ میں ڈال دیا۔ مگر خدا نے اپنی خصوصی مدد سے آپ کو بچا لیا۔ جب پوری قوم نے آپ کو رد کر دیاتو بالآ خر آپ اپنے وطن سے نکل پڑے ۔ صرف آپ کی بیوی اور آپ کے بھتیجے (حضرت لوط ) نے آپ کا ساتھ دیا۔ آپ شام، فلسطین، شرق اردن، مصر اور عرب کے ملکوں میں پھرتے رہے۔ کوئی انسانی بستی ایسی نہیں ملی جو آپ کی دعوت توحید کو قبول کرے۔ بالآ خر آپ حجاز کے ایک غیر آبا دمقام (موجودہ مکہ) پر پہنچے اور خدا کے بھروسہ پر وہاں ریگستان میں اپنے بیوی بچوں کو بسا دیا۔
اب حضرت ابراہیم بوڑھے ہو چکے تھے وہ خدا کی راہ میں اپنی ہر چیز لٹا چکے تھے۔ گھر، خاندان، جائداد، مال، وطن، کوئی چیز نہ تھی جس کو انھوں نے خدا کے حضور پیش نہ کر دیا ہو۔ حتی کہ آگ میں ڈالے جانے والے واقعہ کی صورت میں گویا اپنی جان بھی آپ قربان کر چکے تھے۔ تاہم ایک آخری قربانی ابھی باقی تھی ۔ یہ عزیز بیٹے کی قربانی تھی۔ چھیاسی سال کی عمر میں آپ کو پہلی اولاد ملی تھی۔ فطری طور پر اکلوتا ہو نہار بیٹا آپ کو ہر چیز سے زیادہ عزیز تھا۔ بوڑھے باپ کی تمناؤں کا یہ مرکز جب بڑا ہوا اور باپ کے ساتھ دوڑنے پھرنے کے قابل ہو گیا تو خواب کی صورت میں خدا کا حکم آیا کہ اپنے بیٹے کو ہماری راہ میں قربان کر دو۔ تنہائی اور مشقت کی ایک پوری عمر گزارنے کے بعد جو ایک سہارا نصیب ہوا تھا اس کو بھی توڑ دینے کاحکم ہوگیا۔ اور وہ بھی اس طرح کہ خود اپنے ہا تھ سے اس کو توڑا جائے۔ بوڑھے باپ نے خدا کے حکم کی تعمیل میں اپنے عزیز بیٹے کی گردن پر چھری رکھ دی۔ عین اس وقت خدا کی طرف سے آواز آئی کہ بس تم نے اپنا خواب پورا کر دیا۔ اس کے بعد فرشتہ نے آپ کو ایک مینڈھا پیش کیا اور آپ نے اپنے بیٹے کے فدیہ میں مینڈھے کو خدا کی راہ میں ذبح کیا ۔ یہ واقعہ ہجری ماہ ذی الحجہ کی دس تاریخ کو پیش آیا۔ اس لیے دنیا بھر کے مسلمان اس تاریخ کو جانور کی قربانی کرتے ہیں ۔ یہ قربانی گویا خود اپنی جان کا فدیہ ہے۔ اس طرح قربانی کرنے والا گو یا عمل کی زبان میں کہتا ہے کہ خدایا ہماری جانیں تیرے لیے حاضر ہیں ۔ آج ہم اپنی حوالگی کی علامت کے طور پر جانور کو پیش کر رہے ہیں اور ہر وقت اس کے لیے تیار ہیں کہ جب بھی تیرا حکم ہو اپنے آپ کو اور اپنے اثاثہ کو تیری خدمت میں پیش کر دیں ۔
ہر بالغ مسلمان جو صاحب نصاب ہو اس کے اوپر قربانی واجب ہے ۔ قربانی کے لیے تندرست اور فربہ جانور منتخب کرنا چاہیے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سَمِّنُوا ضَحَايَاكُمْ فَإِنَّهَا عَلَى الصِّرَاطِ مَطَايَاكُمْ(اپنی قربانی کے جانوروں کو فربہ کرو۔ کیوں کہ وہ پل صراط پر تمھاری سواری ہوں گے )(الفردوس بماثور الخطاب، حدیث نمبر 268)۔ یہ تمثیل کی زبان میں اس بات کی تلقین ہے کہ قربانی کے لیے آدمی کو پورا اہتمام کرنا چاہیے ۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے دنیا کے سفر میں آدمی یہ کوشش کرتا ہے کہ اچھی سے اچھی سواری کو اپنے لیے منتخب کرے۔ دنیا کی چیزوں میں آدمی جس طرح اہتمام کرتا ہے اسی طرح اس کو ان چیزوں میں بھی اہتمام کرنا چاہیے جو آخرت میں کام آنے والی ہیں۔ جس طرح دنیا کے سفر میں اچھی سواری بخیر و خوبی منزل تک پہنچنے کی ضمانت ہوتی ہے اسی طرح آخرت کے سفر میں بھی وہی شخص سلامتی کے ساتھ منزل تک پہنچے گا جس نے اس کے لیے اپنے امکان کے مطابق ’’اچھی سواری‘‘ کا انتظام کیا ہو ۔ ناقص سواری کے ساتھ نہ دنیا کا سفر کامیابی کے ساتھ طے ہو سکتا ہے اور نہ آخرت کا۔
مستحب یہ ہے کہ جانور کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرے ۔ نذر یا تحفہ آپ کسی ہرکارہ کے ذریعہ بھی بھیج سکتے ہیں۔ مگر وہ نذر جو کسی بڑی ہستی کے پاس بھیجی جارہی ہو اس کو آدمی خود لےکر حاضر ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کرتا کہ کسی کو چند روپے دے اور کہے کہ بازار سے خرید کر اس کو فلاں صاحب تک پہنچا دینا۔ قربانی محض جانور کا ہدیہ نہیں بلکہ جذبات کا ہدیہ ہے اور اپنے جذبات کا ہدیہ آدمی اپنی ذات ہی کے ذریعہ پیش کر سکتا ہے۔ قربانی کرتے وقت جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ یہ ہے:
اني وَجَهتُ وَجْنِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔ إِنَّ صَلواتي ونسكي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَريكَ لَهُ وَبِذٰ لِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ المُسلِمِينَ اللهُمَّ منك ولك ۔ یعنی، میں نے اپنا رخ کر لیا اس ذات کی طرف جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے ، بالکل یکسو ہوکر ۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز اور میری قربانی، میری زندگی اور میری موت خدا ہی کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے ایسا ہی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور میں اپنے آپ کو اس کے حوالے کرتا ہوں۔ خدایا تجھ ہی نے دیا ہے اور تیرے ہی لیے قربانی کر رہا ہوں ) اس دعا کے الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ قربانی کے وقت قربانی کرنے والے کی کیفیات کیا ہونی چاہئیں۔ یہ دعا در اصل مومن کی نفسیاتی حالت کی تصویر ہے ۔
قربانی کرنے والا حقیقت میں وہ ہے جو خود اپنی جان کو لے کر مذبح میں پہنچ گیا ہو، جیسے حضرت ابراہیم نے اپنے عزیز بیٹے کو ذبح کے لیے لٹا دیا تھا۔ اور جانور کو ذبح کرنا گویا یہ معنی رکھتا ہے کہ خدا نے از راہ کرم ایک جانور بھیج دیا ہے کہ اس وقت تم اپنی جان کے بدلے اس کو ذبح کر دو۔ قربانی حضرت ابراہیم کے واقعہ کی تمثیل ہے کسی کی قربانی اللہ کی نظر میں اسی وقت قربانی ہے جب کہ وہ ابراہیمی روح کے ساتھ ادا کی گئی ہو۔
’’ میری نماز اور میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے‘‘ ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز آدمی کی زندگی کی علامت ہے اور قربانی آدمی کی موت کی علامت ۔ نماز میں آدمی اللہ کی طرف رخ کرتا ہے۔ وہ اپنے جسم اور خیال کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ یہی روح اس کی تمام سرگرمیوں میں مطلوب ہے ۔ اس کو دنیا میں اس طرح رہنا ہے کہ اس کی زندگی خدا رخی زندگی بن گئی ہو، جس طرح اس کی نماز خدا رخی نماز ہوتی ہے۔ یہی معاملہ قربانی کا ہے آدمی پر موت اس طرح آتی ہے کہ اس کی موت قربانی کی موت بن گئی ہو۔ اس کا مرنا عام معنوں میں طبعی عمر پوری کر کے مر جانا نہ ہو بلکہ قربانیوں کی ایک مسلسل زندگی کی تکمیل ہو۔ جانور کی قربانی اس بات کا ایک علامتی عزم ہے کہ آدمی اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ کھپاتا رہے گا، یہاں تک کہ اسی حالت میں اس کا خاتمہ ہو جائے۔
جانور کے ذبح کے فورا بعد یہ دعا پڑھی جاتی ہے:اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِيلِكَ إِبْرَاهِيمَ وَحَبِيبِكَ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ (خدایا میری طرف سے اس قربانی کو قبول فرما جس طرح تو نے اپنے خلیل ابراہیم اور اپنے حبیب محمد سے قبول فرمایا تھا)۔ اس طرح ہم کو بہ شکل دعایہ بتایا گیا کہ قربانی کی قبولیت کے لیے اسی جذبہ فدائیتکی ضرورت ہے جو سیدنا ابراہیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر پیدا ہوئی ۔ قربانی کی قبولیت کا راز یہ ہے کہ اس کے پیچھے حقیقی فداکاری کی روح پائی جاتی ہو، وہ فداکاریجو اپنی کامل صورت میں خدا کے نبیوں نے پیش کی۔ قربانی اسی کی قربانی ہے جس نے روزانہ کی زندگی میں اپنے کو قربان کر رکھا ہو نہ کہ سال میں ایک دن جانور کو ذبح کر دینا۔ ابراہیمی قربانی یہ ہے کہ خدا کی راہ میں سب کچھ دے دینے کے بعد آدمی کے پاس صرف اس کی جان رہ گئی تھی جس کو لے کر وہ خدا کے یہاں حاضر ہو گیا۔ مگر خدا نے اپنی رحمت و شفقت کی بنا پر اس کی جان کے بدلے جانور کی قربانی قبول کرلی۔ قربانی کی حقیقت آخری متاع کو بھی اللہ کی راہ میں دے دینا ہے۔ نہ یہ کہ آدمی آخری متاع تک ہر چیز اپنے پاس بچائے رکھے اور سال میں صرف ایک جانور خدا کے نام پر ذبح کر دیا کرے۔
قربانی کی حقیقت کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے:لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ(22:37)۔ یعنی، خدا کو قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا۔ خدا کو تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ گویا خدا کے یہاں جس چیز کی قدر ہے وہ خدا سے ڈرنے والا دل ہے نہ کہ کوئی چوپایہ۔ چوپایہ کی قربانی تو محض دل کی اندرونی حالت کی ایک ظاہری علامت ہے ۔
اگر دل کے اندر مطلوب حالت موجود نہ ہو تو اوپر اوپر جانور کو ذبح کر دینا ایسا ہی ہے جیسے دکان کے اندر سامان موجود نہ ہو اور اس کے باہر فرضی طور پر ایک سائن بورڈ لٹکا دیا جائے ۔
______________________________________________
نوٹ:یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے 28 اکتوبر 1979 کو نشر کی گئی۔
