فاطمہ کا جہیز
وہ ’’جہیز‘‘ کیا تھا جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاجزادی حضرت فاطمہ کو دیا۔ اس کی تفصیل روایات میں آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معروف معنوں میں کوئی جہیز نہ تھا بلکہ انتہائی معمولی قسم کا چند ضروری سامان تھا۔ یہاں ہم اس سلسلہ کی چند روایات نقل کرتے ہیں:
عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:جَهَّزَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ، وَقِرْبَةٍ، وَوِسَادَةِ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفُ الْإِذْخِرِ(مسند احمد،حدیث نمبر643)۔ يعني،حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کو جہیز میں ایک چادر ، ایک مشکیز ہ اور ایک چمڑے کا تکیہ دیا جس میں اذخر گھاس کا بھراؤ تھا۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قالَ: لَمَّا جَهَّزَ رَسُولُ اللهِ صلى اللهُ عليه وسلم فَاطِمَةَ إِلى عَلِيٍّ بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلٍ قالَ عَطَاءٌ: مَا الْخَمِيلُ؟ قالَ: قَطِيفَةٌ وَوِسادَةٌ مِنْ أُدُمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ،أو إِذْخِرٌ وَقِرْبَةٌ كَانَا يَفْتَرِشَانِ الْخَمِيلَ وَيَلْتَحِفَانِ بِنِصْفِهِ( المعجم الكبير للطبراني، حديث نمبر 1446)۔يعني، حضرت عبد اللہ بن عمرکہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کے نکاح کے بعد ان کو حضرت علی کے یہاں بھیجا تو ان کے ساتھ ایک خُمیل تھا۔ عطا راوی نے پوچھا کہ خمیل کیا ہے۔ حضرت عبد اللہ نے کہا کہ چادر۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چمڑے کا ایک تکیہ دیا جس کا بھراؤ کھجور کی چھال يا اذخرتھا اور ایک مشکیزہ۔ وہ دونوں اس چادر کا آدھا حصہ بچھاتے اور آدھا اوڑھ لیتے۔
عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةَ عُمَيْسِ قَالَتْ:لَمَّا أُهْدِيَتْ فَاطِمَةُ إِلَى عَلِيٍّ لَمْ نَجِدْ فِي بَيْتِهِ إِلَّا رَمْلَا مَبْسُوطًا، وَوِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ، وَجَرَّةً وَكُوزًا (مصنف عبد الرزاق، حديث نمبر 9781)۔يعني، حضرت اسماء بنت عمُیس کہتی ہیں کہ فاطمہ جب رخصت کرکے علی کے یہاں بھیجی گئیں تو ہم نے ان کے گھر میں اس کے سوا کچھ نہ پایا کہ وہاں ریت بچھی ہوتی تھی۔اور ایک تکیہ تھا جس کا بھر اؤ کھجور کی چھال تھا۔ اور ایک گھڑا تھا اور ایک پانی پینے کا پیالہ۔
