ترقی کے آداب

اس دنیا میں ہر آدمی ترقی کرنا چاہتا ہے، مگر بہت کم آدمی ہیں جو فی الواقع کوئی بڑی ترقی حاصل کرتے ہوں۔ زیادہ لوگ معمولی یا اوسط درجہ کی زندگی گزار کر مر جاتے ہیں۔

اس کا سبب کیا ہے۔ کیا کچھ لوگ خوش قسمت پیدا کیے گئے ہیں اور کچھ لوگ پیدائشی طور پر محروم اور بد قسمت ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ ایسا کہنا خدا پر بے انصافی کا الزام عائد کرنا ہے۔ اور خدا کبھی کسی کے ساتھ بے انصافی کا معاملہ نہیں کرتا۔

اصل یہ ہے کہ ہر آدمی اعلیٰ صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ ہر آدمی بڑی بڑی ترقیوں کا امکان اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ جو آدمی عقلمندی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتا ہے وہ اعلیٰ ترقی حاصل کرتا ہے۔ اور جو آدمی اپنی خداداد صلاحیتوں کو استعمال نہیں کرتا ۔ یا اسی کے ساتھ مہلک نادانیاں بھی کہتا رہتا ہے وہ کامیابی اور ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔

مثلا کچھ لوگ چھلانگ لگانے کی فکر میں پڑے رہتے ہیں۔ حتی کہ بعض اوقات غیر دانش مندانہ طور پر چھلانگ لگاکر اپنا ہاتھ پاؤں توڑ لیتے ہیں۔ حالانکہ اس دنیا میں ترقی ہمیشہ لمبی محنت اور مستقل کوشش سے ملتی ہے۔ وقتی چھلانگ لگانے سے کسی کو ترقی نہیں مل سکتی۔

کچھ لوگ دوسروں سے چھین جھپٹ میں ترقی کا راز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ بہت بڑی بھول ہے۔ دوسرے کی چیز کبھی آپ کی چیز نہیں بن سکتی ۔ اگر بالفرض آپ کسی غلط تدبیر سے دوسرے کی چیز کو ہڑپ کر لیں، دوسرے کی چیز پر نا جائز قبضہ کر کے بیٹھ جائیں تو اس طرح آپ کبھی ترقی کا مقام نہیں پاسکتے۔ یہ قدرت کے قانون کے خلاف ہے۔ قدرت کا قانون جلد یا بدیر آپ کو رسوا کر کے رکھ دےگا۔ وہ آپ کی آئندہ نسلوں تک کوترقی اور کامیابی سے محروم کر کے چھوڑ دے گا۔

کچھ لوگوں کی ترقی اس لیے رک جاتی ہے کہ وہ حرص اور خود غرضی میں حد سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ سب کچھ اپنی ذات کے لیے سمیٹ لیں، دوسروں کو کچھ نہ ملنے دیں۔ حالانکہ اس دنیا کو بنانے والے نے اُس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں دینے والا پائے۔ دوسروں کو نفع پہنچانے والا خود بھی نفع اٹھائے۔ اپنی کمائی میں دوسروں کا حصہ لگانے والا دوسروں کی کمائی میںحصہ دار بنے۔

کچھ لوگ حسد اور جلن میں پڑ کر اپنی ترقی کا راستہ روک لیتے ہیں۔ جب وہ کسی کو ابھرتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کی کاٹ میں لگ جاتے ہیں۔ وہ اس کی کامیابیوں پر جلنے لگتے ہیں۔ حالانکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپ دوسروں کو آگے بڑھتا ہوا دیکھیں تو آپ بھی آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔دوسروں کی ترقی سے آپ کے اندر شوق پیدا ہونا چاہیے نہ کہ حسد۔

بڑی ترقی حاصل کرنے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ آپ دوسروں کو ساتھ لے کر چل سکیں۔ کوئی بھی آدمی اکیلے اکیلے بڑی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ آپ اگر بڑی ترقی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو دوسروں کا دل جیتنا ہو گا۔ دوسروں کے اندر اپنا اعتماد پیدا کرنا ہو گا۔ اس طرح رہنا ہوگا کہ دوسرے لوگ آپ کو اپنا سچا خیر خواہ سمجھیں۔ آپ کو ایسا بننا ہوگا کہ جو کچھ آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی آپ دوسروں کے لیے بھی پسند کریں ۔ اور جو کچھ آپ کو اپنے لیے پسند نہیں ہے وہ آپ کو دوسروں کے لیے بھی پسند نہ ہو۔

اس دنیا میں ترقی ہر آدمی کا حق ہے۔ ترقی ہر آدمی کا مقدر ہے۔ ترقی ہر آدمی کے لیے لکھ دی گئی ہے۔ مگر ترقی صرف اس کے لیے ہے جو ترقی کے اصول اور آداب کو جانے اور ان کو درست طور پر اپنی زندگی میں استعمال کرے۔

زلزلہ قدرت کا ایک مظہر ہے۔ دنیا کے اکثر حصوں میں زلزلے آتے رہتے ہیں۔ پہلے جب زلزلہ آتا تھا تو بہت زیادہ جانی نقصان ہوتا تھا۔ مگر اب ترقی یافتہ ملکوں، مثلاً جاپان، کیلی فورنیا ( امریکہ) وغیرہ میں زلزلہ آتا ہے تو بہت کم آدمی مرتے ہیں۔

اس کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مطالعہ اور تجربہ سے لوگوں نے جانا کہ زلزلہ میں جان کا نقصان زیادہ تر مکانوں کے گرنے سے ہوتا ہے۔ اس کا حل زیا دہ پختہ یا زیادہ مضبوط مکان بنانا نہیں ہے۔ کیوں کہ زلزلہ کے مقابلہ میں کوئی بھی مکان مضبوط نہیں ۔ اسی طرح اس کا یہ حل بھی نہیں تھا کہ زلزلہ کے خلاف شکایت اور احتجاج کیا جائے۔ کیوں کہ زلزلہ نیچر کے قانون کے تحت آتا ہے، اور نیچر کے خلاف احتجاجی شور و غل کبھی موثر نہیں ہو سکتا۔

ترقی یافتہ ملکوں میں اس مسئلہ کا حل یہ نکالا گیا کہ وہ لوگ اپنے مکان زیادہ پختہ بنانے کے بجائے لوز انداز میں بنانے لگے۔ وہاں زلزلہ اب بھی آتا ہے ۔ مگر اب یہ ہوتا ہے کہ زلزلہ کے جھٹکے کے وقت مکانات صرف ہل کر رہ جاتے ہیں ۔ وہ ٹوٹ کر گرتے نہیں۔ اس طرح انسانوں کے مرنے کی نوبت نہیں آتی ۔ کیوں کہ انسان چھتوں اور ملبوں کے نیچے دب کر مر جاتےتھے، نہ کہ محض جھٹکے سے ۔

یہی معاملہ خود انسانوں کا بھی ہے۔ ہر آدمی اپنے سینہ کے اندر ایک خطرناک زلزلہ چھپائے ہوئے ہے۔ یہ غصہ اور انتقام کا زلزلہ ہے۔ ایک آدمی کو جب دوسرے آدمی سے کوئی ٹھیس پہنچتی ہے۔ ایک شخص کو جب دوسرے شخص سے کوئی جھٹکا لگتا ہے تو اس کے بعد اس کے اندر غصہ کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ اس کے سینہ میں انتقام کا زلزلہ آجاتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو قتل کر دیتا ہے۔ ایک آدمی دوسرے آدمی کے گھر اور دکان میں آگ لگا دیتا ہے۔ ایک آدمی دوسرے آدمی کے نقصان کے درپے ہو جاتا ہے۔

یہ گو یا سماجی زلزلہ ہے۔ یہ زلزلہ بھی فطرت کا ایک مظہر ہے ۔ ہم اس کے وجود کو مٹانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہاں بھی ہم یہی کر سکتے ہیں کہ حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچالیں۔ اپنی عقل کو استعمال کر کے اپنے آپ کو اس کی زد میں نہ آنے دیں۔

اس سماجی زلزلہ کے مقابلہ میں حکیمانہ تدبیر کیا ہے۔ ایک لفظ میں ، وہ اعراض ہے یعنی ٹکراؤ کے مواقع کو اوائڈ کرنا۔ آپ کو کوئی برا کہے تو اس کا اثر نہ لیجیے۔ کسی کی طرف سے کوئی اشتعال انگیز کلمہ آپ کے کان میں پڑے تو اس کو سنی ان سنی کر دیجیے۔ کوئی آپ کے کپڑے کے اوپر کیچڑ ڈال دے تو کیچڑ ڈالنے والے سے الجھنے کے بجائے پانی کے نل کے پاس جائیے اور اس کو دھو دیجیے۔ راستہ چلتے ہوئے کوئی شخص آپ کے اوپر کنکری پھینک دے تو اس کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جائیے۔ غرض ناخوش گوار باتوں کو بھلا کر اعتدال کے ساتھ اپنا سفر حیات جاری رکھیے۔

زمینی زلزلے کبھی بند نہیں ہوں گے۔ زمینی زلزلوں کے سلسلہ میں صرف یہ ممکن ہے کہ ہم ان کے نقصان سے اپنے آپ کو بچا لیں۔ اسی طرح انسانی یا سماجی زلزلے بھی کبھی ختم ہونے والے نہیں۔ یہاں بھی جو چیز ممکن ہے وہ صرف یہ کہ ہم اعراض اور بر داشت کی تدبیر کو استعمال کر کے اپنے آپ کو ان کی زد میں نہ آنے دیں ۔ اپنے آپ کو ان کے نقصانات سے محفوظ رکھیں۔

یہ دنیا مسائل کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو آزادی ہے۔ ایک آدمی جب اپنی آزادی کو بے جا استعمال کرتا ہے تو وہ دوسرے آدمی کے لیے مسئلہ پید اکرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایک آدمی جب اپنی زبان، اپنے ہاتھ اور اپنے پاؤں کو بے قید طور پر استعمال میں لاتا ہے تو وہ ایسا کر کے دوسرے لوگوں کو مسائل و مشکلات میں مبتلا کر دیتا ہے۔

اس کا حل کیا ہے۔ اس کا حل یہ نہیں کہ ہم لوگوں کی آزادی کو ختم کرنے کی مہم چلائیں۔ ایسی مہم بے معنی شور و غل کے سوا اور کچھ نہیں ۔ کیوں کہ لوگوں کو یہ آزادی ان کے خالق نے دی ہے۔ اور جو چیز خود خالق نے دی ہو اس کو ہم لوگوں سے چھین نہیں سکتے۔

ایسی حالت میں مسئلہ کا حل صرف ایک ہے ، اور وہ ہے تدبیر۔ حکیمانہ اصول پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کے ضرر سے کسی حد تک اپنے آپ کو بچانا اور اپنی تعمیر کے مواقع تلاش کر کےاس کے حصول میں لگ جانا۔

مثلاً ٹکراؤ سے اعراض کرنا، چھوٹے نقصان کو برداشت کر لینا ، اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا ، دوسروں سے مطالبہ کرنے کے بجائے خود اپنے استحکام پر توجہ دینا۔ مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع اور امکانات کو استعمال کرنا۔

موجودہ امتحان کی دنیا میں کامیابی کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ نہیں جس کے ذریعے کوئی شخص اس دنیا میں کامیابی حاصل کر سکے۔

حکیمانہ تدبیر ہر مسئلہ کا حل ہے۔ حکیمانہ تدبیر ہر نقصان سے بچنے کا یقینی نسخہ ہے۔ آپ حکیمانہ تدبیر کو اپنا اصول بنا لیجیے اور پھر آپ کو کسی سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔

________________________________________________

نوٹ:یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے 16 دسمبر 1993کو نشر کی گئی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion