دعوتی واقعات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائی تین سال تک خاموش اندازمیں اسلام کی طرف دعوت دی۔ آپ اپنے جاننے والے افراد سے ملتے اور ان کو شرک کے بجائے توحید اختیار کرنے کی دعوت دیتے۔ یہاں تک کہ سورہ الشعراء میں کھلے طور پر وعوت دینے کا حکم نازل ہوا۔

مکہ کے قریب صفا پہاڑی تھی۔ آپ ایک روز اس کے اوپر کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے پکارا:يَا ‌صَبَاحَاهُ۔ یہ آواز عربوں میں اس وقت پکاری جاتی تھی جب کہ کسی دشمن کے فوری حملہ کا خطرہ ہو۔ چنانچہ اس پکار کو سن کر قریش کے لوگ صفا کے پاس جمع ہو گئے۔

جب لوگ وہاں جمع ہو گئے تو آپ نے کہا کہ اے لوگو، اگر میں تمہیں اس بات کی خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے لشکر کھڑا ہے اور وہ تمہارے اوپر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کو مانو گے۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں ، ہم نے تمہارے بارے میں اب تک سچ ہی کا تجربہ کیا ہے۔ آپ نے کہا کہ پھر سن لو کہ تم ایک سخت عذاب کے کنارے کھڑے ہوئے ہو اور میں تم کو اس سے ہوشیار کرنے والا ہوں۔

آپ نے کہا کہ جس طرح تم سوتے ہو اسی طرح تم مرو گے ، اور جس طرح تم جاگتے ہو اسی طرح تم دوبارہ حساب و کتاب کے لیے اٹھائے جاؤ گے۔ اسکے بعد یا تو ہمیشہ کے لیے جنت ہے یا ہمیشہ کے لیے آگ کا عذاب۔ لوگ آپ کی یہ بات سن کر چپ رہے۔ مگر آپ کے چچا ابولہب نے کہا:تمہارا برا ہو۔ کیا تم نے یہی کہنے کے لیے ہم کو بلایا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات بتاتے ہیں کہ آپ کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ لوگ آگ کے عذاب سے بچیں اور اللہ کی رحمتوں کے مستحق قرار پائیں۔ قرآن میں ہے کہ آپ کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: شاید تم اپنے آپ کو اس غم میں ہلاک کر ڈالو گے کہ لوگ ایمان قبول نہیں کرتے (26:3)۔

معاویہ بن حَیدہ القشیری کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے کہا  کہ اے خدا کے رسول میں نے اپنی انگلیوں کے پوروں کی تعداد سے بھی زیادہ بار یہ قسم کھائی تھی کہ میں آپ سے نہیں ملوں گا اور نہ آپ کے دین کو قبول کروں گا۔ اب میں آپ کے پاس آیا ہوں اور میں آپ کو اللہ کی عظیم ہستی کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ ہمارے رب نے آپ کو کس چیز کے ساتھ ہمارے پاس بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دین اسلام کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام کیا ہے۔

آپ نے فرمایا یہ کہ تم کہو:میں نے اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کر دیا اور میں اس کے لیے یکسو ہو گیا۔ اور تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ اداکرو اورہر مسلمان دوسرے مسلمان کے اوپر حرام ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی اور مددگار ہیں۔ شرک کے بعد جو شخص اسلام قبول کرے ، اس کے عمل کو اللہ اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ مشرکین سے علیٰحدہ نہ ہو جائے۔

پھر آپ نے فرمایاکہ مجھے کیا ضرورت تھی کہ میں تمہاری کمر پکڑ کر تم کو آگ سے بچاؤں۔ مگر بات یہ ہے کہ میرا رب مجھ کو بلانے والا ہے اور وہ مجھ سے پوچھنے والا ہے کہ کیا تم نے میرے بندوں تک پہنچا دیا۔ میں کہوں گا کہ ہاں ، اے میرے رب ، میں نے پہنچا دیا۔ سن لو کہ تم میں سے جو حاضر ہے وہ غائب کو پہنچا دے۔ اس کے بعد معاویہ بن حیدہ نے اسلام قبول کر لیا۔

ابوبکر بن ابی قحافہ اپنے گھر سے نکلے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کریں۔ وہ زمانۂ جاہلیت میں آپ کے دوستوں میں سے تھے۔ انہوں نے کہاکہ اے ابوالقاسم، میں آپ کو برادری کی مجلسوں میں نہیں پاتا۔ لوگ آپ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ آپ نے ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیا اور ہمارے بزرگوں کو بیوقوف بنایا اور ہمارے باپ دادا کو گمراہ ٹھہرایا۔

آپ نے کہا کہ ہاں، میں اللہ کا پیغمبر ہوں۔ اور میں تم کو بھی ایک اللہ کی طرف اور اس کی اطاعت کی طرف بلاتا ہوں۔ خدا کی قسم ، یہی حق ہے۔ تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ اور صرف اسی کی عبادت کرو۔ اس کے بعد آپ نے قرآن کی چند آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ حضرت ابوبکر نے اسی وقت آپ کی نبوت کا اقرار کرکے اسلام قبول کر لیا۔ حضرت ابوبکر کے اسلام قبول کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا خوش ہوئے کہ اس وقت مکہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان کوئی بھی آپ سے زیادہ خوش نہ تھا۔

عمرو بن عبسہ کہتے ہیں کہ میں جاہلیت کے زمانہ میں باپ دادا کے دین پرمطمئن نہ تھا۔ میں بتوں کو بے حقیقت سمجھتا تھا۔ کچھ دن بعد میں نے سنا کہ مکہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے۔ وہ نئی نئی باتیں بیان کرتا ہے۔ میں اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر مکہ پہنچا۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپ کر تبلیغ کرتے ہیں اور قوم کے لوگ آپ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

تلاش کرتے ہوئے آخرکار میں آپ کے پاس پہنچا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں۔ آپ نے کہاکہ میں اللہ کا رسول ہوں میں نے پوچھا کہ رسول کس کو کہتے ہیں ۔ آپ نے کہاکہ رسول وہ ہے جو اللہ کی طرف سے اس کا پیغام لائے۔ میں نے کہا کیا واقعتاً اللہ نے آپ کو بھیجا ہے۔ آپ نے کہا کہ ہاں۔ میں نے کہاکہ اللہ نے کیا چیز لے کر آپ کو بھیجا ہے۔ آپ نے کہا یہ کہ اللہ کو ایک مانا جائے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا جائے۔ بتوںکو توڑ دیا جائے اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔

اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اس کام میں آپ کے ساتھ کون ہے۔ آپ نے کہا کہ ایک آزاد اور ایک غلام (یعنی ابوبکر اور بلال)۔ میں نے کہاکہ میں آپ کی اتباع کرتا ہوں۔ آپ نے کہا کہ اس وقت تم میری اتباع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اس وقت تم اپنے گھر واپس چلے جاؤ۔ جب تم سنو کہ میں غالب ہو گیا ہوں ، اس وقت آ کر تم میرے ساتھ ہوجانا۔ عمرو بن عبسہ کہتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کر لیا اورمیں اپنے گھر واپس آ گیا۔

قرآن میں یہ حکم اترا کہ اپنے قریبی رشتہ داروںکو خبردار کرو (26:214)۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائی علی ابن ابی طالب سے کہا کہ کچھ کھانا تیار کرو اور بنوہاشم کے لوگوں کو میرے پاس بلاؤ۔ اس کے مطابق گوشت اور دودھ کا انتظام کیا گیا اور لوگوںکو بلایا گیا۔ تقریباً 40 آدمی جمع ہوئے۔

جب لوگ کھا چکے تو آپ نے ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی اور کہا کہ مجھ کو اللہ نے اس کام کے لیے اپنا پیغمبر بنایا ہے۔ تم لوگ اس کام میں میرا ساتھ دو۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ تم میں سے کون میرے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری لیتا ہے اور میرے پیچھے میرے اہل خانہ میں میری نیابت کے لیے تیار ہوتا ہے۔

حضرت علی کہتے ہیں کہ یہ سن کر تمام لوگ چپ ہو گئے۔ کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ آپ نے دوسری بار اور تیسری بار یہی بات کہی۔ مگر حاضرین میں سے کسی شخص نے حمایت کا وعدہ نہ کیا۔ جب میں نے سب کو خاموش دیکھا تو میں کھڑا ہو گیا۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، اگرچہ میری آنکھیں دکھ رہی ہیں اور میری ٹانگیں پتلی ہیں۔ مگر میں اس راہ میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ تم اے علی، تم اے علی:أَنْتَ يَا عَلِيُّ أَنْتَ يَا عَلِيُّ (مسند البزار، حدیث نمبر456) ۔

ضماد قبیلہ از دشنوہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ زیارت کے لیے مکہ آئے۔ ایک مجلس میں ابو جہل اور عتبہ بن ربیعہ اورامیہ بن خلف تھے۔ وہ لوگ باتیں کر رہے تھے۔ ضماد بھی ان کے پاس بیٹھ گئے۔ ابوجہل نے کہا کہ اس شخص (محمد) نے ہماری جماعت میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ اس نے ہم سب کو بے وقوف کہا اور ہمارے بزرگوں کو گمراہ بتایا۔ ہمارے معبودوں (بتوں) کو برا کہا۔ امیہ بولاکہ اس آدمی کے مجنوں ہونے میں کوئی شک نہیں۔

ضماد کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی بات سن کر مجھے خیال ہوا کہ محمد پر شاید آسیب کااثر ہو گیا ہے۔ چوں کہ میں آسیب کا علاج کرنا جانتا تھا، میں محمد کی تلاش میں چل پڑا۔ پہلے دن تلاش کے باوجود میں آپ کونہ پا سکا۔ جب اگلا دن ہواتو میں نے آپ کو مقام ابراہیم میں نماز پڑھتے ہوئے پا لیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو میں آپ کے پاس گیا۔ میں نے کہا کہ اے محمد، میں ان چیزوں کاعلاج کرتاہوں۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کا علاج کروں۔ شاید اللہ آپ کو شفا دے دے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضماد کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ نے کہا کہ تمام تعریف صرف اللہ کے لیے ہے۔ ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ اللہ جس کو صحیح راستہ پر لگائے ، کوئی اسے گمراہ کرنے والانہیں ، اور جس کو وہ بے راہ کر دے اس کو کوئی راستہ بتانے والا نہیں۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ صرف ایک اللہ عبادت کے لائق ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، یہ بات آپ نے تین بار فرمائی۔

ضماد نے کہا کہ خدا کی قسم، میں نے کاہنوں اورجادوگروں کی باتیں سنی ہیں اور میں شاعروں کے کلام سے بھی واقف ہوں۔ مگر آپنے جوکلمات کہے ، ایسے کلمات میں نے کبھی نہیں سنے۔ اپنا ہاتھ لایئے، میں آپ سے اسلام پر بیعت کرتا ہوں۔ وہ اسی وقت اسلام میں داخل ہو گئے۔

حصین کہتے ہیں کہ قریش کے کچھ لوگ ان کے پاس آئے۔ حصین زیادہ عمر کے آدمی تھے اور قریش ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ قریش نے حصین سے کہاکہ آپ اس شخص (محمد) سے بات کیجیے ۔ وہ ہمارے معبودوں کو بہت برا بتاتے ہیں۔ وہ لوگ حصین کے ساتھ آپ کے پاس آئے۔ حصین نے کہاکہ یہ کیا باتیں ہیں جو ہم کو آپ کی طرف سے پہنچ رہی ہیں۔ آپ ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں۔ حالانکہ آپ کے والد تو بہت اچھے آدمی تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حصین سے کہا کہ یہ بتاؤ کہ تم لوگ کتنے معبودوں کی پرستش کرتے ہو۔ حصین نے کہا کہ سات معبودوں کی زمین پر اورایک معبود وہ جو آسمان میں ہے۔ آپ نے کہا کہ جب تمہارے اوپر مصیبت آتی ہے تو کس معبود کو پکارتے ہو۔ حصین نے کہا کہ آسمان والے معبود کو۔ آپ نے دوبارہ کہا کہ جب تمہارے مال میں نقصان ہوتا ہے تو اس وقت کس کو پکارتے ہو۔ حصین نے کہا کہ آسمان والے کو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاکہ تمہاری فریاد رسی کرنے والا خدا تو ایک ہے اور تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو۔ حصین کہتے ہیں کہ مجھے محسوس ہوا کہ میں نے ایسے آدمی سے کبھی بات نہیں کی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اے حصین ، اسلام قبول کرو، تم نجات پاؤ گے۔ حصین نے کہا کہ میرے اور بھی گھر والے ہیں ، تو ان کے لیے میں کیا کہوں۔ آپ نے کہاکہ اس طرح دعا کرو کہ:اے اللہ ، میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تو میرے معاملہ کو درست کر دے۔ اور مجھے ایسا علم دے جو مجھے نفع پہنچانے والا ہو۔ حصین نے اس دعا کو دہرایا اور رخصت ہونے سے پہلے اسلام قبول کر لیا۔

ہجرت سے پہلے مدینہ کے قبیلہ خزرج کا ایک وفد مکہ آیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ قریش سے اپنی حمایت کا عہد لیں۔ اس وفد میں ایاس بن معاذ بھی شامل تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے آنے کی خبر ہوئی تو آپ ان کی قیام گاہ پر جا کر ان سے ملے۔

جب آپ ان کے پاس بیٹھ گئے تو آپ نے ان سے کہاکہ کیا تم چاہتے ہو کہ جس کام کے لیے تم لوگ یہاں آئے ہو ، اس سے زیادہ بھلی بات میں تم کونہ بتا دوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کون سی بات ہے۔ آپ نے کہا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ نے مجھ کو اپنے بندوں کی طرف بھیجا ہے کہ میں لوگوں کو اللہ کی طرف بلاؤں اوران سے کہوں کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اوراس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کریں۔ اللہ نے میرے اوپر اپنا کلام اتارا ہے۔ اس کے بعد آپ نے قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر انہیں سنایا۔

ایاس بن معاذ جواس وقت نوجوان تھے ، انہوں نے آپ کی باتیں سن کر اپنے لوگوں سے کہا کہ اے قوم، خدا کی قسم، یہ چیز اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم یہاں آئے ہو۔ یہ سن کروفد کے ایک شخص انس بن رافع نے اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر ایاس بن معاذ کے چہرہ کی طرف پھینکی اور کہاکہ ان باتوںکو چھوڑو۔ خدا کی قسم ، ہم تو کسی اور ہی کام کے لیے یہاں آئے ہیں۔ ایاس بن معاذ چپ ہو گئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ آئے اور وہ لوگ اپنا کام کرکے مدینہ واپس چلے گئے۔

مدینہ پہنچ کرایاس بن معاذ کا انتقال ہو گیا۔ ان کے قبیلہ کے جو لوگ وفات کے وقت ان کے پاس موجود تھے ، ان میں سے ایک شخص کا بیان ہے کہ آخر وقت میں لا الہٰ الا اللہ ، اللہ اکبر اور سبحان اللہ کے الفاظ ان کی زبان پرجاری تھے۔ان کے قریب جو لوگ تھے وہ اس کو برابر سُن رہے تھے۔

عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت ملنے کے بعد تین سال تک چھپ کر مکہ میں تبلیغ کرتے رہے۔ اس کے بعد تقریباًد س سال تک آپ نے کھلے طور پر لوگوں کو توحید کا پیغام دیا۔

ابو طالب کی وفات کے بعد آپ حج کے موسم میں عکاظ اور مجنہّ اور ذوالمجاز کے میلوں میں جاتے اور لوگوں کی قیام گاہوں میں ان سے مل کر انہیں اپنا پیغام دیتے۔ اسی کے ساتھ آپ یہ بھی کہتے کہ تم لوگ مجھے اپنی حفاظت میں لے لو تاکہ میں اللہ کا پیغام پہنچانے کا کام کر سکوں۔ جو اس کام میں میری مدد کرے گا، اللہ اس کے بدلے اس کو جنت دے گا۔

مگرکوئی قبیلہ آپ کی مدد اورحفاظت کے لیے تیار نہ ہوا۔ آپ عرب کے ایک ایک قبیلہ کے پاس گئے۔ مگر کسی نے بھی آپ کی حفاظت کی ذمہ داری نہ لی۔ اسی دوران آپ بنو عامر بن صعصعہ کے پاس پہنچے۔ انہوں نے آپ کے ساتھ بہت برا سلوک کیا۔ آپ اس حال میں ان کے پاس سے لوٹے کہ وہ لوگ آپکے اوپر پتھرپھینک رہے تھے۔

آپ قبیلہ بنو محارب بن خصفہ سے ملے۔ اس قبیلہ میں ایک بوڑھا آدمی تھا جس کی عمر سو سال سے زیادہ تھی۔ آپ نے اس کو توحید کی دعوت دی اور کہا کہ تم لوگ مجھے اپنی حفاظت میں لے لو تاکہ میں اللہ کا پیغام پہنچانے کا کام کر سکوں۔ اس بوڑھے آدمی نے جواب دیا کہ تمہاری قوم تمہاری حالت کو زیادہ جانتی ہے۔ خدا کی قسم، جو شخص تم کو لے کر یہاں سے اپنے مقام پر جائے گا ، وہ تمام موسم حج میں جمع ہونے والوں میں سب سے بری چیز لے کر جائے گا۔ اس لیے تم ہم کو معاف رکھو۔

آپ کا چچا ابولہب بھی وہاں موجود تھا۔ آپ کے چلے جانے کے بعد اس نے بوڑھے آدمی سے کہا کہ اگر حج کے موسم میں جمع ہونے والے تمام لوگ تمہاری طرح کا جواب دیں تو یہ شخص (محمد) جس نئے دین کو لے کر اٹھا ہے اس کو وہ چھوڑ دے۔

عبداللہ بن وابصہ العبسی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری قیام گاہ پر آئے اور ہم لوگ مسجد خیف کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ اونٹنی پر سوار تھے۔ آپ کے پیچھے زید بن حارثہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے ہم کو توحید کی دعوت دی۔ خدا کی قسم ، ہم نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا اور ہم نے یہ کوئی اچھا کام نہیں کیا۔

ہم لوگوں نے آپ کے بارے میں پہلے ہی سن رکھا تھا کہ آپ حج کے موسم میں قبیلوں کے پاس جاتے ہیں اور ان کو اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس کھڑے ہوئے اپنی بات کہتے رہے اور ہم چپ چاپ سنتے رہے۔

ہمار ساتھ میسرہ بن مسروق عبسی تھے۔ انہوں نے قبیلہ کے لوگوں سے کہاکہ خدا کی قسم، اگر ہم اس آدمی کی بات مانیں اوراس کو لے جا کر اپنے قافلہ کے بیچ میں ٹھہرائیں تو یہ بہت اچھی بات ہو گی۔ اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس شخص کی بات یہاں تک غالب ہو گی کہ وہ ہر جگہ پہنچ جائے گی۔ اس کو سن کر قوم نے میسرہ سے کہاکہ ان باتوں کو چھوڑو۔ تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کو ماننے کے لیے ہم میں سے کوئی شخص تیار نہیں۔

میسرہ کی بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے کچھ امید ہوئی۔ آپ نے میسرہ سے کہا کہ تم ہی میری بات مان لو۔میسرہ نے کہاکہ آپ کی بات بہت اچھی ہے اور اس میں روشنی ہے لیکن میں کیاکروں۔ اگر میں آپ کی بات مانوںتو میری قوم میری مخالف ہو جائے گی۔ اور آپ جانتے ہیں کہ آدمی اپنی قوم کے ساتھ ہی رہ سکتا ہے۔ اگر اپنی قوم وقت پر ساتھ نہ دے تو دشمنوں سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔

نبوت کے ابتدائی دنوں کا واقعہ ہے، آپ کے چچا کے لڑکے علی بن ابی طالب آپ کے گھر آئے۔ آپ اور آپ کی بیوی خدیجہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو علی نے پوچھا یہ آپ کیا کر رہے تھے۔ آپ نے جواب دیا ، یہ اللہ کا دین ہے جس کو اللہ نے اپنے لیے پسند کیا ہے اور مجھے اس کی تبلیغ کے لیے بھیجا ہے۔ میں تم کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے حکم دیا ہے کہ صرف اس کی عبادت کی جائے۔ نوجوان علی نے کہا ، یہ ایسی بات ہے جس کو آج سے قبل میں نے نہیں سنا۔ میں اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا جب تک اپنے باپ ابو طالب سے بیان نہ کر لوں۔ یہ نبوت کا ابتدائی زمانہ تھا۔ حضرت محمد ابھی نہیں چاہتے تھے کہ ابو طالب کو اس کی خبر ہو۔ آپ نے کہا ، اے علی! اگر تم اسلام نہیں لاتے تو اس معاملہ کو ابھی پوشیدہ رکھنا ۔ اس واقعہ کے چند دن بعد علی نے اسلام قبول کر لیا۔

حضرت عثمان بن عفان کہتے ہیں کہ میں اپنی خالہ ارویٰ بنت عبدالمطلب کے یہاں ان کی عیادت کے لیے گیا۔ وہاں حضرت محمد بھی موجود تھے۔ میں نے آپ کی طرف بغور دیکھنا شروع کیا۔ آپ کی نبوت کاتذکرہ ان دنوں ہو چلا تھا۔

حضرت محمد مجھ کو اس طرح متوجہ دیکھ کر بولے ’’عثمان کیا بات ہے۔‘‘ میں نے کہا، مجھے آپ پر بڑا تعجب ہے کہ آپ کا ہم لوگوں میں کیا مرتبہ تھا اور اب آپ پر کیا افترا پردازی ہو رہی ہے۔ حضرت محمد نے اس کےجواب میں قرآن کی چند آیتیں پڑھیں۔ اس کے بعد جانے لگے تو میں بھی آپ کے پیچھے چل پڑا۔ یہاں تک کہ آپ کے پاس حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔

ایک روز حضرت محمد ایک پہاڑی کے اوپر عبادت کر رہے تھے۔ ابوجہل نے دیکھاتو ایک پتھر کھینچ مارا جس سے آپ زخمی ہو گئے اور خون بہنے لگا۔ ایک شخص یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اسنے جا کر آپ کے چچا حمزہ سے کہا ’’اے حمزہ تمہاری غیرت کو کیاہوا۔ لوگ تمہارے بھتیجے کو پتھر مار رہے ہیں اور تم ان کی مدد نہیں کرتے۔‘‘ حمزہ ایک پہلوان آدمی تھے اور ابھی ابھی شکار سے واپس ہوئے تھے۔ان کے ہاتھ میں لوہے کی کمان تھی۔ اس کو لیے ہوئے سیدھے ابوجہل کے گھر گئے اور کمان اس زور سے اس کے سر پرماری کہ خون جاری ہو گیا۔ اس کے بعد حمزہ حضرت محمد کے پاس آئے اور کہا ’’بھتیجے! میں نے تمہارا بدلہ لے لیا۔‘‘ آپ نے فرمایا ’’چچا!! اگر آپ اسلام قبول کر لیتے تو یہ میرے لیے زیادہ خوشی کی بات ہوتی۔ ‘‘ اس کے بعد حمزہ مسلمان ہو گئے۔

حمزہ کے اسلام لانے کے بعد چند اور آدمی بھی مسلمان ہو گئے اور اب مسلمانوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی۔ قریش دارالندوہ (قبائلی پارلیمنٹ) میں جمع ہوئے تاکہ غورکریں کہ اسلام کے پھیلاؤکوروکنے کے لیے کیا کیاجائے۔ عمر بن الخطاب نے جوش میں آ کر کہاکہ میں محمدکو قتل کر دیتا ہوں اور مکہ کو ان کے شرسے نجات دلا دیتا ہوں۔ عمر بڑے پختہ ارادہ کے آدمی تھے۔ ان کا قد اتنا لمبا تھاکہ ہجرت کے بعد جب مدینہ میں مسجد بنائی گئی اور عمر اس میں داخل ہوئے تو ان کا سر چھت سے ٹکرا گیا۔

قبیلہ بنی مالک بن کنانہ کے ایک شخص نے بیان کیاکہ میں نے رسول اللہ کو ذوالمجاز کے بازار میں چلتے ہوئے دیکھا۔ آپ کہہ رہے تھے کہ لوگو، لا الٰہ الا اللہ کہو، تم فلاح پاؤ گے۔ ابو لہب آپ پر مٹی پھینکتا اور کہتاکہ اس سے بچو ، ایسانہ ہو کہ وہ تم کو تمہارے دین سے گمراہ کردے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم لوگ اپنے معبودوں کو چھوڑ دو۔ مگر رسول اللہ اس کی باتوں کی طرف کوئی توجہ نہ فرماتے۔

ابوسفیان اپنی بیوی ہندہ کو گھوڑے پر بٹھا کر اپنی کھیتی کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کے لڑکے معاویہ آگے تھے۔ وہ اس وقت نوعمرتھے اور گدھے پر سوار تھے۔ اتنے میں حضرت محمد سامنے آتے ہوئے نظر پڑے۔ ابوسفیان نے کہا ، معاویہ تم اتر جاؤ تاکہ محمد اس پرسوار ہو جائیں۔ معاویہ کہتے ہیں کہ میں اتر گیااور حضرت محمد میرے گدھے پر سوار ہو کر ہمارے آگے آگے تھوڑی دیر چلے۔ پھر ہم لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا ،اے سفیان بن حرب اور اے ہند بنت عتبہ ، خدا کی قسم یقینا تمہیں مرنا ہے۔ اس کے بعد تم دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے۔ پھر جو نیک ہو گا ، جنت میں داخل ہو گا اورجو برا ہو گا جہنم میں جائے گا۔ ابوسفیان نے کہا کیا آپ کہہ کر فارغ ہو گئے۔ آپ نے کہا ہاں اور گدھے سے اتر گئے اور میں سوار ہو گیا۔ میری ماں ہندہ نے ابوسفیان سے کہا ’’کیا اسی جادوگرکے لیے تم نے میرے بیٹے کو سواری پر سے اتار دیا تھا۔ ‘‘ ابوسفیان نے کہا ، ’’خدا کی قسم وہ جادوگرنہیں ، وہ جھوٹا نہیں۔‘‘

ابوجہل کی ایک خادمہ تھی جس کانام سُمَیَّہ تھا۔ ابو جہل کو معلوم ہوا تو کہا نئے مذہب کو چھوڑ دو۔ سمیہ نے کہا کہ میں محمد کے مذہب کو نہیں چھوڑوں گی۔ابوجہل نے ان کو باندھ دیااور اتنے کوڑے مارے کہ ان کی حالت بگڑ گئی۔ حضرت ابو بکر جواب تک چھ غلاموں کو خرید کر آزاد کر چکے تھے۔ ابوجہل کے پاس پہنچے اور ایک سو دینار کی پیشکش کی۔جب وہ راضی نہ ہواتو کہا کہ ڈیڑھ سو دینار دوں گا۔ ابوجہل اب بھی راضی نہ ہواتو آپ نے کہا کہ تم جو بھی قیمت مانگو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ مگروہ کسی قیمت پر سُمیّہ کوفروخت کرنے پر تیار نہ ہوا۔ سُمیّہ دایہ گیری کا کام بھی کرتی تھیں۔ چنانچہ جن قریشی عورتوں کے یہاں بچوں کی پیدائش کے موقع پر انہوں نے مدد کی تھی ، سب نے ابوجہل سے سفارش کی کہ وہ سُمیّہ کو نہ مارے۔ مگر ابوجہل نے یہ درخواست بھی قبول نہ کی۔ابوجہل نے سُمَیَّہ کو اتنے کوڑے مارے کہ ان کا سارا بدن زخمی ہو گیا۔ حرکت کی تاب نہ رہی مگروہ یہی کہتی رہیں کہ محمد کے دین کونہ چھوڑوں گی۔آخر ابوجہل ایک روز سُمَیَّہ کو خانہ کعبہ کے پاس لے گیا اور سب کے سامنے کہا کہ تو محمد کےدین وک چھوڑتی ہے یا نہیں۔ سمیہ نے انکار کیا۔ ابوجہل نے اپنا نیزہ ان کے سینے پرمارا جو پیٹھ سے پار ہو کر نکل گیا۔ اور اس طرح تاریخِ اسلام میں سُمَیَّہ کو شہیدِ اول کا درجہ حاصل ہوا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion