احساس امانت کا فقدان

پروفیسر مسعود الحسن(پاکستان) کی ایک انگریزی کتاب ڈاکٹر سَر محمد اقبال کے بارے   میں ہے۔ اس کا نام ہے— حیات اقبال (Life of Iqbal)۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ سَرمحمد اقبال14جنوری1929ء کو بذریعہ ٹرین حیدر آباد پہنچے۔ وہاں ریلوے اسٹیشن پر ان کو شاہانہ استقبال دیا گیا۔ پلیٹ فارم پر کھڑے ہوئے طالب علموں نے اقبال کے اس شعر کو گاکر انہیں خراج تحسین پیش کیا:

چین و عرب ہمارا ہندستان ہمارا       مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

15-17جنوری کو اقبال نے حسب ذیل موضوع پر عثمانیہ یونیورسٹی میں توسیعی لکچر دیے:

‘‘Reconstruction of Religious Thought in Islam’’

18جنوری1929 کو اقبال کی ملاقات نظام حیدر آباد سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران نظام نے اقبال سے پوچھا کہ ہماری ریاست کے انتظام(ایڈمنسٹریشن) کے بارے میں آپ کے تاثرات کیا ہیں۔ اقبال نے ریاست حیدر آباد کے انتظام کی تعریف کی۔

پھر اقبال نے کہا کہ مگر ایک چیز کو دیکھ کر مجھے سخت تکلیف پہنچی۔ نظام نے بے تابی کے ساتھ پوچھا کہ وہ کیا ہے۔ اقبال نے کہا کہ آپ کا خاندان تین سو سال سے حیدر آباد پر حکومت کر رہا ہے۔ مگر آپ نے تبلیغ پر کوئی توجہ نہ دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان یہاں بہت کم تعداد میں ہیں۔ نظام نے کہا کہ میں آپ کی بات سمجھ گیا۔ کیا آپ بتائیں گے کہ اس سلسلے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔

اقبال نے جواب دیا کہ آپ کے اجداد کو اسلام کی تبلیغ میں حقیقی کوشش کرنا چاہیے تھا۔ وہ اس کو کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے نہیں کیا۔ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اب اگر اسلام کی اشاعت کے لیے کوئی کوشش کی جاتی ہے تو وہ پریشان کن ثابت ہوگی۔ نظام نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا کہ ہاں بات تو ایسی ہی ہے۔ اس کے بعد19 جنوری1929کو اقبال حیدر آباد سے واپس ہو کر لاہور چلے گئے۔ مصنف کتاب کے الفاظ یہ ہیں:

‘‘Iqbal said, ‘‘Your Exalted Highness, your dynasty has ruled over the State for the last three hundred years or so, but you paid little attention to the spreading of Islam. The result is that the Muslims are only a small percentage of the population. The Nizam said, ‘‘Yes, I understand your point. Could you suggest what should be done’’ The Allama said  ‘‘Your Highness forefathers should have made real effort to spread Islam. They could have done that. Now it is rather late, and if any attempt is made to spread Islam that would be embarrassing. The Nizam sighed and said ”yes, that is so.“

اقبال کی یہ گفتگو بتاتی ہے کہ حیدر آباد کے غیر مسلموں میں دعوت و تبلیغ کا مسئلہ ان کے لیے مسلم سیاست کی توسیع کا مسئلہ تھا ، نہ کہ حقیقی معنوں میں خدا کے پیغام کی پیغام رسانی کا مسئلہ۔ انہوں نے اس کو خود اپنے قومی مسئلے کے طور پر سوچا ، نہ کہ مخاطب کی اپنی نجات کے مسئلے کے طور پر۔

یہ اندازِ فکر امانت کے تصور کے سراسر خلاف ہے۔ امین اور امانت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی یہ سوچے کہ میرے پاس جو دین ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کے بندوں کی امانت ہے۔ مجھے اس امانت کو بہرحال اس کے حق دار تک پہنچانا ہے۔ اگر میں اس فرض کو ادا کیے بغیر مر گیا تو میں خدا کے یہاں غیر امین قرار پاؤں گا اور عدم ادائیگی فرض کے جرم میں پکڑا جاؤں گا۔ مگر اقبال اس انداز پر نہیں سوچتے۔ ان کے لیے دعوت محض مسلم قومی سیاست کا ایک ضمیمہ ہے ، نہ کہ خود غیر مسلموں کے ایک حق کو غیر مسلموں تک پہنچانا۔

موجودہ زمانے میں یہی تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ میں موجودہ زمانے کے معلوم اور معروف مسلمانوں میں کسی ایک شخص کو بھی نہیں جانتا جو اس معاملے کو امانت کا معاملہ سمجھتا ہو۔ جو اس احساس سے بے تاب ہوگیا ہو کہ یہ خدائی امانت اگر میں نے خدا کے بندوں تک نہ پہنچائی تو خدا کے یہاں میرا کوئی انجام نہیں۔

نصح ا ور امانت کا مذکورہ جذبہ داعی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ مگر موجودہ زمانےکے مسلمانوں میں غیر اقوام کے لیے یہ جذبہ موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ مسلمانوں کے درمیان حقیقی دعوت کا عمل بھی زندہ نہ ہو سکا۔ اور یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس نے موجودہ زمانےمیں خدا کی نصرتوں کی بارش کو مسلمانوں کے اوپر سے روک رکھا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion