ایک عام برائی
یزید کی فوجوں سے حضرت حسین کی جو لڑائی کربلا کے میدان میں ہوئی، اس میں حضرت حسین کے ساتھ ان کے چار فرزند بھی مارے گئے تھے۔ مگر شیعہ مصنفین کی کتابوں میں حضرت حسین کی شہادت کے ذیل میں صرف ان کے ایک صاحبزادے کا ذکر آتا ہے جن کا نام عباس بن علی تھا۔ بقیہ تین صاحبزادوں کے نام سرے سے ذکر نہیں کیے جاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نام حضرت علی نے خلفائے ثلاثہ کے نام پر رکھے تھے جن کو شیعہ حضرات جائز خلیفہ نہیں مانتے۔ یعنی ان کے نام تھے — ابوبکر بن علی، عمر بن علی، اور عثمان بن علی۔
اپنی پسند کے ناموں کو تاریخ میں شامل کرنا اور جو نام پسند نہ ہوں ان کو تاریخ سے حذف کر دینا صرف شیعہ حضرات کا جرم نہیں ہے۔ اس میں سنی حضرات بھی یکساں طور پر شریک ہیں۔ خاص طور پر موجودہ زمانہ کے سنی حضرات تو اس میں اتنا زیادہ مبتلا ہیں کہ شاید ہی کوئی مثال اس کے خلاف مل سکے ۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی صحافت و قیادت کو دیکھیے۔ وہ واضح طور پر اسی صورت حال کی مثال ہے۔ وہ اپنے پسندیدہ لوگوں کے نام ہر جگہ شامل کرتے ہیں۔ وہ ہر موقع پر ان کی تشہیر کرتے ہیں، مگر جو ان کے مبغوض نام ہیں ان کو اس طرح نظر انداز کرتے ہیں جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہیں۔
ایسا کرنا حقیقت کو قتل کرنا ہے۔ اور حقیقت کا قتل بلاشبہ خدا کی دنیا میں سب سے بڑا جرم ہے۔ اس سے بڑا جرم اور کوئی نہیں۔
خدا کے نزدیک سب سے بڑی نیکی حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے۔ جس چیز کو ایمان کہتے ہیں وہ حقیقت واقعہ کے اعتراف ہی کا دوسرا نام ہے۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی کسی مجبوری کے بغیر خود اپنے اختیار سے خدا کی عظمت کو مان لے۔ انسان کی یہی وہ اعلیٰ ترین صفت ہے جس کو نفسیات کی زبان میں حقیقت واقعہ کا اعتراف کہا جاتا ہے۔ جنت کی لطیف دنیا میں وہی لوگ بسائے جائیں گے، جو اس اعلیٰ خصوصیت کا ثبوت دیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ حقیقت واقعہ کو چھپائیں یا اس کا اقرار نہ کریں، وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے لیے نااہل ٹھہریں گے۔
