کا میاب ازدواجی زندگی
قَالَ عبد الله ابن جَعْفَر یوصی ابنتہ عند زواجہا:
يَا بُنَيَّةِ إِيَّاكِ وَالْغَيْرَةَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ الطَّلاقِ، وَإِيَّاكَ وَكَثْرَةَ الْمُعَاتَبَةِ فَإِنَّهَا تُورِثُ الضَّغِينَةَ۔(انساب الاشراف للبلاذري، جلد 2، صفحه 50)۔يعني، حضرت عبداللہ بن جعفر نے نکاح کے وقت اپنی لڑکی کو نصیحت کی۔ انھوں نے کہا کہ اے میری بیٹی، تم غیرت اور نخوت سے بچو، کیونکہ وہ طلاق کا دروازہ کھولنے والی چیز ہے۔ اور تم غصہ اور ناراضگی سے بچو، کیوں کہ اس سے کینہ پیدا ہوتا ہے۔
یہ بہتر ین نصیحت ہے جو ایک باپ اپنی بیٹی کو شادی کے وقت کرسکتا ہے۔ شادی کے بعد لڑکی ایک غیر شخص کے گھر جاتی ہے۔ اس سے پہلے وہ خونی رشتہ داروں کے درمیان رہ رہی تھی۔ اب وہ ایسے لوگوں کے درمیان جاتی ہے جن سے اس کا خون کا کوئی رشتہ نہیں۔ خونی رشتہ دار (باپ، ماں ، بھائی بہن) لڑکی کی ہر بات کو برداشت کرتے ہیں۔ وہ اپنے میکے میں نخوت دکھا کر بھی بے قد رنہیں ہوتی۔ وہ غصہ دکھا ئے تب بھی لوگ اس سے بیزار نہیں ہوتے۔ مگر سسرال کا معاملہ اس سے سراسر مختلف ہوتاہے۔
سسرال میں لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے وہ پیدائشی نرمی نہیں ہوتی جو میکے کے لوگوں میں ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سسرال میں اس کا ہر عمل ایک ردّعمل پیداکرتا ہے۔ میکہ میں لوگ اس کی نخوت کو نظر انداز کردیتے تھے، مگر سسرال میں اس کی نخوت کو لوگ اپنی یادوں میں رکھ لیتے ہیں۔ میکہ میں لوگ اس کے غصہ کو بھلادیتے تھے، مگر سسرال میں کوئی شخص اس کے غصہ کو بھلانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
ایسی حالت میں سسرال میں نباہ کی واحد شرط یہ ہے کہ لڑکی اپنے مزاج کو نئے ماحول کے مطابق بنا کر رہے۔ وہ ایسے عمل سے بچے جو نا موافق ردّعمل پیدا کرنے والا ہو۔ کوئی بات اپنی پسند کے خلاف ہو تو اس کو گوارا کرے۔ کسی بات سے اس کے دل کو رنج پہنچے تواس کو دل ہی دل میں ختم کردے۔ کسی سے امید کے خلاف سلوک کا تجربہ ہوتو اس کی اچھی توجیہ کرکے اس کو دماغ سے نکال دے۔ ایک لڑکی کے لیے سسرال میں کامیاب زندگی بنانے کی یہی واحد تدبیر ہے۔ اس کے سواسسرال کے مسئلہ کا کوئی دوسرا حل نہیں۔
نادان باپ اپنی بیٹی کو یہ سبق دیتا ہے کہ سسرال میں اکڑکر رہنا ورنہ لوگ تم کو دبا لیں گے۔اس کے بر عکس سمجھ دار باپ کی نصیحت اپنی بیٹی کےلیے یہ ہوتی ہے کہ سسرال میں دب کررہنا ورنہ لوگ تم سے اکڑیں گے۔ انھیں دوفقروں میں کامیاب ازدواجی زندگی اور ناکام ازدواجی زندگی کے فرق کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔
