کثرت میں وحدت
کائنات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کثرت میں وحدت کا اصول کار فرما ہے ۔ یعنی چیزیں بظاہر مختلف اور متعدد ہیں ۔ مگر جب ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام چیزیں اپنی آخری حقیقت کے اعتبار سے ایٹم (atom) کا مجموعہ ہیں ۔ ہر چیز بالآخر ایٹم ہے ، خواہ بظاہر وہ کچھ بھی دکھائی دیتی ہو۔
یہی کائناتی پیٹرن انسانوں کے اندر بھی ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ انسان بظاہر دیکھنے میں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں۔ ان میں رنگ اور دوسری چیزوں کے اعتبار سے بہت سے فرق پائے جاتے ہیں۔ مگر ان کا تاریخی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام نسلیں آخر کار ایک ماں باپ پر جا کر ختم ہوتی ہیں ۔ گویا سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں نہ کہ ایک دوسرے کے غیر۔
یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا نکالا ، اور پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت زمین پر پھیلا دیے:يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً (4:1)۔
یہی بات حدیث میں اس طرح آئی ہے:سن لو کہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے تھے (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 5116)۔ وحدتِ انسانیت کا یہ تصور ہر انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لیے محبت اور خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔و ہ پوری انسانی نسل کو ایک خاندان اور ایک برادری کی مانند بنا دیتا ہے ۔ چنانچہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے:
اَلْخَلْقُ عِيَالُ اللهِ، فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللهِ مَنْ أَحْسَنَ إِلَى عِيَالِهِ (شعب الإيمان للبيهقي، حديث نمبر 7456)۔یعنی، تمام مخلوق اللہ کی کنبہ ہے ۔ پس تمام لوگوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کے کنبہ کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔
کائناتی ماڈل کثرت میں وحدت کی صفت رکھتا ہے ۔ انسان کو بھی اسی کائناتی ماڈل پر اپنی زندگی کانقشہ بناناچاہیے ۔ اس کو کئی میں ایک کا نمونہ بن جانا چاہیے ۔ کائنات میں جب کثرت میں وحدت (unity in diversity)کا اصول کار فرما ہے ، تو انسان کے لیے درست نہیں کہ وہ یہاں کثرت کو ایک کرنے (unification of diversity) کے طریقہ پر زندگی کا نظام بنانے کی کوشش کرے ۔
