قناعت کیجیے
بنگلہ دیش کے سابق فوجی صدر جنرل محمد ارشاد(پیدائش 1930) ایک فوجی بغاوت کے ذریعہ اقتدار میں آئے ۔ اس کے بعد دوسری فوجی بغاوت ہوئی۔ جس کے تحت قائم شدہ حکومت نے ان پر بدعنوانی کے کئی مقدمات چلائے ۔ پہلے غیر قانونی اسلحہ ر کھنے کے الزام میں تیرہ برس قید کی سزا ہوئی تھی،مالی بدعنوانی کے تحت انھیں مزید سات سال کی سزا کا حکم سنایا گیا۔
لاہور کے روزنامہ نوائے وقت (8 جون 1993) میں اس سلسلے میں جو خبر چھپی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے:جنرل محمد ارشاد اور ان کی اہلیہ روشن کو ڈھاکہ کی خصوصی عدالت نے زمینوں کے لین دین کے سلسلے میں بدعنوانیوں کا مرتکب قرار دے کر 77برس کی قید کی سزا سنائی۔ جنرل ارشاد نے کئی افراد کو ڈھاکہ کے قیمتی علاقہ میں زمینیں دلوائیں اور پھر ان کا کچھ حصہ ان افراد سے سستے داموں میں خرید کر اس زمین پر ’’جنتا ٹاور‘‘ کے نام سے ایک عمارت تعمیر کروائی اور اس پر خرچ ہونے والی رقم کا بڑا حصہ انھوں نے خود اپنی جانب سے ادا کیا۔ چوں کہ یہ رقم ان کی آمدنی سے زیادہ تھی ، عدالت نے مذکورہ تمام اراضی اورجنرل ارشاد کی عمارت کو بحق سرکار ضبط کا حکم دےدیا ہے اب وہ اور ان کی بیوی دونوں جیل میں ہیں ۔
اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں اس چیز کو کتنی زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ جس کو دینی اصطلاح میں قناعت کہا جاتا ہے۔ جنرل ارشاد کا یہ افسوس ناک انجام اس لیے ہوا کہ وہ قناعت نہ کر سکے۔ انھوں نے جنرل کے عہدہ پر قناعت نہ کر کے صدر کےعہدے پر پہنچنا چاہا۔ انھوں نے چھوٹی زمین پر قناعت نہ کر کے بڑی زمین حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ انھوں نے ایک منزلہ مکان پر قناعت نہ کر کے تیرہ منز لہ مکان کا مالک بننا چاہا۔
انھیں جو کچھ فطری طور پر ملا تھا، اگر وہ اس پر قناعت کرتے تو وہ اطمینان کے ساتھ ایک پر مسرت زندگی گزار سکتے تھے، مگر وہ ملے ہوئے پر قناعت نہ کر کے نہ ملے ہوئے پر دوڑے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مزیدکی حرص میں وہ ملے ہوئے سے بھی محروم ہو کر رہ گئے۔زندگی کے مسائل کا حل قناعت ہے، نہ کہ حرص۔
