محفوظ دوری
قرآن (2:36)میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد سے فرمایا کہ تم لوگ زمین پر آباد ہو اور تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن بنو گے (بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ) ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ امتحانی دنیا میں انسان کو جن حالات کے درمیان رہنا ہے ان میں ایسا بھی ضرور ہوتا ہے کہ لوگوں میں اختلاف اور مقابلے جاری ہوں جو بڑھ کر عداوت تک پہنچ جائیں۔ حتیٰ کہ قتل و خون کی نوبت آجائے۔ ایسا ہونا خود تخلیقی منصوبہ کے مطابق ہے۔ اس لیے اس کو ختم کرنا اتناہی ناممکن ہے جتنا کہ درخت سے کانٹے کو ختم کرنا۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسی حالت میں کامیاب زندگی کی تعمیر کے لیے کیا کیا جائے۔ کیونکہ لڑائی اور ٹکراؤ کے درمیان صحت مند زندگی کی تعمیر نہیں کی جا سکتی ۔ صحت مند زندگی بنانے کے لیےمعتدل حالات کی موجودگی لازمی طور پر ضروری ہے ۔
اس کا جواب خود خالق حقیقی نے پیشگی طور پر دے دیا ہے ۔ اور وہ صبر و اعراض ہے۔ عداوت کی اس دنیا میں کامیاب زندگی بنانے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ ٹکراؤ کے مواقع سے اعراض کیا جائے۔ اشتعال انگیزی اور ناخوش گواری اور ضرر رسانی کے تجربات پیش آئیں مگر ان کو نظر انداز کیا جائے۔زیادہ فائدہ کی خاطر کم نقصان کو برداشت کر لیا جائے ۔
جنگل کے جانوروں میں بھی عداوت کا یہی اصول کار فرما ہے ۔ پھر جنگل کے جانور کیا کرتے ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک یہ کرتا ہے کہ فطرت کی رہ نمائی کے تحت وہ اپنے آپ کو اپنے دشمن یا حریف کے مقابلے میں محفوظ فاصلہ (safe distance) پر رکھتا ہے۔ یہی واحد فطری اصول ہےجس پر جنگل کی زندگی کروروں سال سے قائم ہے۔
محفوظ دوری پر رہنے کا یہ اصول فطرت کا اصول ہے ۔ اس کو قرآن میں اعراض کہا گیا ہے۔ سڑک پر آپ اپنے کو دوسری گاڑیوں سے محفوظ دوری پر رکھتے ہیں، اس لیے آپ کامیابی کے ساتھ اپنا سفر طے کر کے منزل پر پہنچتے ہیں۔ یہی اصول گھر کے لیے، بازار کے لیے ، اجتماعی زندگی کے تمام مواقع کے لیے ضروری ہے۔ ہر جگہ ہمیں اپنے آپ کو دوسروں سے محفوظ دوری پر رکھنا ہے ۔ اس دنیا میں یہی کامیابی کا واحد طریقہ ہے، اس کے بغیر موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کا حصول ممکن نہیں ۔
