ذہنی تناؤ
جدیدصنعتی دورنےانسانی زندگی کوبعض نئی قسم کی پیچیدگیوں میں مبتلاکردیاہے۔یہ چیزیں ابتدائی درجہ میں موجودتھیں مگر موجودہ انتہائی درجہ میں ان کاتجربہ انسان کوپہلی بارہوا ہے۔ انہی میں سےایک نمایاں مسئلہ وہ ہےجس کوذہنی تناؤ (mental tension) کہا جاتاہے۔
پیس آف مائنڈکےڈسٹرب ہونےکاسبب زیادہ تروہ چيزہوتی ہےجس کوٹینشن یااسٹرس کہاجاتاہے۔یہ ایک حقیقت ہےکہ موجودہ دنیامیں کسی بھی شخص کےلیے ٹینشن اسٹرس سےبچناممکن نہیں۔اب سوال یہ ہےکہ اس معاملہ میں کیاکیاجائے۔مگرمیں کہوں گا کہ ٹینشن یا اسٹرس کوئی برائی (evil) نہیں۔ بلکہ وہ انسان کےلیے ایک نعمت (boon) کی حیثیت رکھتی ہے۔کیونکہ اگرآدمی کےاندرمنٹل ٹینشن نہ ہوتواس کے اندر برین اسٹار منگ نہیں ہوگی۔ اور اگر برین اسٹارمنگ نہ ہو تو مائنڈ کے اندر وہ سرگرمیاں (activities) پیدا نہیں ہوں گی جو اعلیٰ انٹلکچول ڈیولپمنٹ کا واحد ذریعہ ہیں۔
میں سمجھتاہوں کہ ٹینشن اوراسٹریس کایہ کوئی صحت مندحل نہیں ہےکہ اس کوروکنےکی کوشش کی جائےیااس کومکمل طورپردبادینے کی کوشش کی جائے۔اس قسم کاحل ایک قسم کی ذہنی تخدیر (intellectual anesthesia)ہے۔ ایسی تخدیرذہنی ترقی کےعمل کوروک کرانسان کوحیوانی سطح پرلےجانےکےہم معنی ہے۔
So the solution lies in managing the crisis/ tension and not in suppressing it.
