باب سوم

زوجین کے حقوق

قرآن میں  ارشاد ہوا ہے کہ عورتیں مردوں کے لیے لباس ہیں اور مرد عورتوں کے لیے لباس ہیں:

هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ(2:187)۔

یہ الفاظ تمثیل کے انداز میں  بتاتے ہیں کہ قرآن کے نزدیک عورت اور مرد ایک دو سرے کے لیے کیا ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے لیے لباس کی مانند ہیں۔ جسم لباس کے بغیر ادھورا ہے اور لباس جسم کے بغیر بے معنی ہے۔ یہی معاملہ مرد اور عورت کا ہے۔ لباس اور جسم کے درمیان جو مادی تعلق ہوتا ہے، وہی تعلق زیادہ گہرے نفسیاتی معنی میں  عورت اور مرد کے درمیان پایا جاتاہے۔

ایک چڑیا اپنے پر وں کے ساتھ قدر خوبصورت معلوم ہوتی ہے لیکن اگر چڑیا کے تمام پرَ اس کے جسم سے جدا کردیے جائیں تو اس کا پورا حُلیہ بگڑ کر رہ جائے گا۔ چڑیا کے لیے اس کے پروں کی جو اہمیت ہے وہی اہمیت انسان کے لیے اس کے لباس کی ہے۔ لباس کے بغیر انسان ویساہی ہے جیسے پرَوں کے بغیر چڑیا۔

لباس کی مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے کتنی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔ عورت اور مرد ایک دوسرے کے سب سے زیادہ قریبی ساتھی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے آخری حد تک جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم اور ملزوم ہیں۔ عورت کے بغیر مرد کا وجود ادھورا ہے اور مرد کے بغیر عورت کا وجود ادھورا۔ دونوں کو ایک دوسرے سے تقویت ملتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کاپردہ ہیں۔ ایک انگریزی مفسر کے الفاظ میں ، دونوں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح موزوں ہیں جس طرح لباس جسم کے اوپر موزوں ہوتا ہے۔

‘‘Fitting into each other as a garment fits the body.’’

مرد اور عورت کے درمیان پیدائشی طورپر صنفی کشِش رکھی گئی ہے۔ مرد کے لیے عورت کے اند ر کشش ہے اور عورت کے لیے مرد کے اندر کشش ہے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں  ان الفاظ میں  کہی گئی ہے:

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ(30:21)يعني، اور اس کی نشانیوں میں  سے یہ ہے کہ اس نے پیدا کیا تمہاری جنس سے جوڑے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں  نشا نیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کریں۔

اس فطری تعلق کی بنا پر عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کی طرف کھنچتے ہیں۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ عورت اور مردکے درمیان آزاد انہ اختلاط ہو۔ مگر یہ طریقہ فطرتِ انسانی کے سراسر خلاف ہے۔ انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ جو چیز اس کی ہے وہ صرف اسی کے لیے خاص رہے۔اس لیے آزادانہ صنفی تعلق کا طریقہ انسانی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اکثر غلط طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انسان ایک اخلاقی حیوان ہے۔ انسان اور حیوان میں  جسمانی مشابہت ہے۔ مگر اخلاقی اعتبار سے انسان کا معاملہ حیوانات سے یکسر مختلف ہے۔ حیوانات اپنے اندر کوئی اخلاقی احساس نہیں رکھتے۔ مگر انسان کےاندر اخلاقی احساس موجود ہے۔ اس اخلاقی احساس اور دوسرے تمدنی مصالح کا تقاضا ہے کہ مرد اور عورت آزادانہ طور پر جنسی تعلق قائم نہ کریں۔ بلکہ اخلاقی پابندیوں کے دائرے میں  رہ کر اپنے جنسی تقاضے پورے کریں۔ اسی مصلحت کی بنا پر شریعت میں  نکاح کا طریقہ مقررکیا گیاہے۔ کچھ متعین رشتوں کو حرام قرار دیتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ مرد اور عورت آپس میں  نکاح کا رشتہ قائم کرکے خاندانی زندگی گزاریں۔ قرآن میں  ارشاد ہوا ہے:

وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ (4:24)۔ اور ان (حرام عورتوں ) کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمہا رے لیے حلال ہیں، بشرطیکہ تم اپنے مال کے ذریعہ سے ان کے طالب بنو۔ ان کو قید نکاح میں  لے کر ، نہ کہ بد کاری کے طور پر۔

عورت اور مرد کے درمیان فطری طور پرصنفی کشش پائی جاتی ہے۔ اسی صنفی کشش کی اخلاقی تنظیم کا دوسرا نام نکاح ہے۔ انسانی نفسیات ،حیاتیاتی حقائق اور تمدنی مصالح سب کا مشترک تقاضا ہے کہ عورت اور مرد کا صنفی تعلق منظم انداز میں  ہو ، اور اس تنظیم کے لیے نکاح سے بہتر کوئی صورت نہیں ہوسکتی۔ نکاح کا طریقہ انسانی طریقہ ہے اور نکاح کے بغیر جنسی تعلق کرنا غیر انسانی طریقہ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion