مسلمانوں کی تعلیمی ضرورت

 عام طور پر یہ محسوس کیا جاتا ہےکہ مدرسے کی تعلیم مسلمانوں کی پوری ملی ضرورت کے لیے کافی نہیں ۔ مسلمانوں کے لیے اس کے سوا ایک اور متوازن تعلیمی نظام درکار ہے۔ اس فکر کے لوگوں کے نزدیک موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ملی احیا کے لیے اس قسم کا متوازی نظام ضروری ہے۔ ایک مسلم دانشور نے اس متوازی نظام کو ارتقائی نظامِ تعلیم (progressive educational system)کا نام دیا ہے۔

راقم الحروف کے نزدیک مدارس کا نظام بنیادی طور پر بالکل درست ہے۔ جس مقصد کے لیے یہ نظام بنایا گیا تھا، اس مقصد کو وہ بڑی حد تک پورا کررہا ہے۔ مدارس کے موجودہ نظام میں کسی بڑی تبدیلی کی ضرورت نہیں ،البتہ مدارس کے موجودہ نظام میں ایک اصلاح کی ضرورت یقینی ہے۔ اس اصلاح کا تعلق مزاج سے ہے۔ اس کو ایک لفظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کھلے پن (openness)کا مزاج پیدا کرنا۔

مسلمانوں کی دوسری ضرورت وہ ہے، جس کو ایک حدیثِ رسول میں ’بصیرتِ زمانہ‘ (صحیح ابن حبان،حدیث نمبر 361)کہا گیا ہے، یعنی زمانۂ حاضر سے واقفیت حاصل کرنا۔ اس معاملے میں مسلم اسکول، مسلم کالج اور مسلم یونیورسٹی کی صورت میں جو ماڈل اختیار کیا گیا، نتیجہ بتاتا ہےکہ وہ درست ماڈل نہ تھا۔

راقم الحروف کے نزدیک اس معاملے میں وہ درست ماڈل ہے، جو مسیحی حضرات نے اختیار کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، مسیحی حضرات نے بڑی تعداد میں تعلیمی ادارے کھولے ہیں،مگر وہ اپنے تعلیمی اداروں کو کرسچن اسکول، کرسچن کالج اور کرسچن یونیورسٹی نہیں قرار دیتے۔ وہ انھیں اسی قسم کا سیکولر تعلیمی ادارہ قرار دیتے ہیں جیسے کہ دوسرے سیکولر ادارے ہیں۔ اس معاملے میں درست طریقہ یہ ہےکہ ہر مسلم خاندان اپنے بچوں کے اندر اسلامی ذہن پیدا کرے، ہر مسلم گھر انفارمل ایجوکیشن کا مرکز بن جائے اور جہاں تک عصری تعلیم کی بات ہے، مسلم نوجوانوں کو اس طرح اعلیٰ سیکولر تعلیم دلائی جائے، جیسا کہ ملک کے دوسرے نوجوان کررہےہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion