چند مثالیں
ہمارے آس پاس جو واقعات ہیں ان کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ بات نہایت آسانی کے ساتھ سمجھی جا سکتی ہے کہ کلچر کا فرق یا کلچر کی یکسانیت اضافی چیزیں ہیں۔ ایکتا سے ان کا کوئی لازمی تعلق نہیں۔ چند مثالیں لیجیے۔
بمبئی میں پارسی اور ہندو ہزار برس سے ایک ساتھ رہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ پارسی سماج ایک بند سماج ہے۔ وہ لوگ اپنے سے باہر شادی بیاہ کو صحیح نہیں سمجھتے چنانچہ بمبئی کے ہندؤوں اور پارسیوں میں آپس میں شادی بیاہ نہیں ہوتا۔ اگر کوئی مثال اس سے مختلف ہو تو وہ ایک نادر استثناء ہے نہ کہ کوئی عام قاعدہ۔ اس کے باوجود آج تک وہاں کبھی ہندوؤں اور پارسیوں میں لڑائی نہیں ہوئی۔ دونوں کے درمیان معیاری حد تک پر امن تعلقات ہیں۔ اس کے بر عکس مثال ہندؤوں اور سکھوں کی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہندؤوں اور سکھوں میں باہمی شادی کا بے روک ٹوک رواج تھا۔ مگر انھیں دونوں فرقوں میں آج پنجاب میں اتنے بڑے پیمانہ پر لڑائی ہو رہی ہے جیسے کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہوں۔ یہ سلسلہ بھنڈراں والا اور آپریشن بلو اسٹار (اپریل 1986) کے وقت سے پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ اور ہر قسم کی کوششوں کے باوجود ابھی تک وہ ختم نہ ہوسکا۔
اسی طرح مثلاً کہا جاتا ہے کہ تمام فرقوں کی زبان ایک ہو جائے تو اس کے بعد لوگوں کے درمیان ایکتا پیدا ہو جائے گی۔ مگر یہ بھی ایک غیر متعلق اور غیر مفید تجویز ہے ۔ سوئزر لینڈ میں کئی زبانیں رائج ہیں۔ ان میں سے تین زبانوں کو سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ فرنچ، جرمن ، اٹالین۔ مگر زبانوں کی کثرت کے باوجود ان کے درمیان کامل اتحااد اور ایکتا پائی جاتی ہے۔ بلکہ سوئزر لینڈ موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ پُر امن ملک ہے۔ اس کے برعکس، مثال پاکستان کی ہے۔ وہاں باقاعدہ طور پر صرف ایک سرکاری زبان ہے، یعنی اُردو۔ اس کے باوجود پاکستان میں اتنے زیادہ باہمی جھگڑے ہیں کہ پاکستان کے قیام پر چالیس سال سے زیادہ بیت گئے مگر آج تک وہاں کا جھگڑا ختم نہیں ہوا۔
اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ یک جہتی اور اتحاد کا تعلق لوگوں کی سوچ سے ہے نہ کہ ان کے ظاہری رسوم اور آداب سے۔ ملک کے باشندوں میں اگر صحیح سوچ موجود ہو اور وہ زندگی گزارنے کا راز جانتے ہوں تو وہ ظاہری فرق کے باوجود مل جل کر رہیں گے۔ اس کے برعکس، اگر ان کی سوچ درست نہ ہو، وہ زندگی کے راز سے واقفیت نہ رکھتے ہوں تو وہ ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہیں گے ، خواہ ان کے ظاہری نشانات ایک جیسے کیوں نہ ہوں حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے معاملات کی درستگی میں اصل اہمیت طرز فکر (attitude of mind)کی ہے۔ اگر ہم اس ملک میں یک جہتی اور مفاہمت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں لوگوں کے طرز فکر کو درست کرنا ہو گا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کا یہی واحد راستہ ہے ۔ اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔
یہ واحد راستہ احترام اور رواداری کا راستہ ہے ۔ لوگوں میں یہ مزاج پیدا کیا جائے کہ وہ دوسروں کے ساتھ روادارانہ برتاؤ کریں۔ وہ ہر آدمی کا احترام کریں ، خواہ وہ اپنی برادری کا ہو یا اپنے سے باہر کی برادری کا۔ یہی مزاج اتحاد اور یک جہتی کی اصل بنیاد ہے۔ یہ مزاج جہاں ہو گا وہاں اتحاد ہو گا ، جہاں یہ مزاج نہ ہو ، وہاں کسی اور تدبیر سے اتحاد پیدا نہیں کیا جا سکتا۔
