کتنا فرق

حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو مدینہ میں نفاق نے سر اٹھایا اور عرب اور عجم میں ارتداد پھیل گیا۔ لوگ کہنے لگے کہ وہ شخص دنیا سے چلا گیا جس کی وجہ سے عرب کو خدا کی مدد ملتی تھی۔ اس وقت خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق نے مہاجرین اور انصار کو جمع کیااور کہاکہ ان عربوں نے ا پنی بکریوں اور اپنے اونٹوں کوروک دیا ہے۔اور اپنے دین سے پھر گئے ہیں۔ اور عجم کے لوگ نہاوند میں جمع ہیں تاکہ ہم سے جنگ کریں۔ ان لوگوں کا گمان ہے کہ وہ شخص جس کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی تھی وہ وفات پا گیا۔ اے لوگو اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو۔

راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی تقریر کے بعد لوگ سر جھکا کر خاموش ہو گئے اور دیر تک خاموش رہے۔ آخر حضرت عمر بن الخطاب گویا ہوئے اور انہوں نے کہا : ‌فَأَطرَقُوا ‌طَوِيلا، ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ فَقَالَ (کنز العمال، حدیث نمبر 14164)۔

حضرت ابوبکر صدیق کے سوال کے بعد لوگ کیوں دیرتک خاموش رہے۔اس کی وجہ ان کی سنجیدگی اور ان کا تقویٰ تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو پہلے سوچتے تھے اوراس کے بعد بولتے تھے۔ وہ ہر قول اور ہر فعل سے پہلے اللہ سے ہدایت اور رہنمائی کی دعاکرتے تھے۔ جب خلیفۂ اول نے مذکورہ مسئلہ ان کے سامنے رکھا تو اپنے مزاج کے مطابق سب کے سب سوچ میں غرق ہو گئے۔ ہر ایک دل ہی دل میں اللہ کی طرف متوجہ ہو گیا۔ یہی وہ چیز تھی جس نے ہر ایک پر خاموشی طاری کر دی۔

حقیقت یہ ہے کہ ان کی یہ خاموشی ایک عظیم گفتگو تھی، ان کا یہ سر جھکانا سب سے بڑا اقدام تھا۔ چنانچہ وہ جب بولے تو ان کا بول تمام بولوں پر بھاری ہو گیا۔ جب وہ اٹھے تو ان کا اٹھنا تمام دشمنوں کو پست کرنے کے ہم معنی بن گیا۔کیوں کہ ان کا بول خدا کی رہنمائی کے تحت تھا، ان کے اقدام میں خدا کی مدد ان کے ساتھ شامل ہو گئی تھی۔

اب دیکھیے کہ اس معاملہ میں موجودہ مسلمانوں، خاص طور پر ان کے رہنماؤں، کا کیا حال ہے اس کا منظر دیکھنا ہو تو مسلمانوں کی کسی ایسی مجلس میں شریک ہو کر دیکھ لیجیے جو اس نوعیت کے ہنگامی مسئلہ پراکٹھا ہوئی ہو۔ مثلاً فلسطین، فرقہ وارانہ فساد، بابری مسجد، سلمان رشدی جیسے مسائل۔ آپ دیکھیں گے کہ موضوع کا ذکر چھڑتے ہی ہر آدمی لسانی جہاد کا شہنشاہ بن گیا ہے۔ ہر آدمی پرجوش طور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ سب سے پہلے بولے، اور آتشیں الفاظ کی پوری ڈکشنری کو بیک وقت اپنی زبان سے دہرا ڈالے۔

مگر یہ لفظی جوش دکھانے والے عمل کے وقت پھسڈی ثابت ہوتے ہیں۔ مارچ کے موضوع پر تقریروں کا دریا بہانے والے مارچ کی تاریخ آنے کے بعد خاموش ہو کر گھر میں بیٹھے رہتے ہیں۔ بول میں آگے رہنے والے عمل میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بحث میں سب سے پہلے کھڑے ہونے والے اس وقت سر جھکا کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں جب کہ عملی اقدام کا وقت سر پر آ گیا ہو۔

جو برتن جتنا زیادہ خالی ہو، وہ اتنا ہی زیادہ آواز دیتا ہے۔ اسی طرح جو آدمی جتنا زیادہ بے عمل ہو اتنا ہی زیادہ وہ پُرشور الفاظ بولتا ہے۔ بولنے والے کرتے نہیں، اور کرنے والے بولتے نہیں۔ اور حقیقت کی دنیا میں کرنے کی قیمت ہے، نہ کہ بڑے بڑے الفاظ ہوا میں بکھیرنے کی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion