عورت کا مقام
اسلام نے عورت کو جو با عزت مقام دیا ہے اس کی ایک علامتی مثال وہ ہے جو حضرت ہاجرہ کی شکل میں پائی جاتی ہے۔ اسلام کی عبادتوں میں ایک عظیم ترین عبادت حج ہے۔ ہرصاحب استطاعت آدمی پر فرض ہے کہ وہ زندگی میں کم ازکم ایک بارضرور مکہ جا کر حج کے مراسم ادا کرے۔ حج کے دوران جوا عمال کیے جاتے ہیں ان میں سے ایک خاص عمل وہ ہے جس کو صفااور مروہ کے درمیان سعی کرنا کہا جاتا ہے۔ ہر آدمی خواہ عالم ہو یا جاہل۔ امیر ہویا غریب ، بادشاہ ہو یا کوئی معمولی آدمی ہو ، اس پر لازم ہے کہ وہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سات بار دوڑے۔ یہ دوڑنا کیا ہے ، یہ ایک خاتون کے عمل کی تقلید ہے جس کا نام ہاجرہ تھا۔ وہ ان دونوں پہاڑوں کے درمیان پانی کی تلاش میں سات باردوڑی تھیں۔ اس لیے ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ جب وہاں جائے تو وہ بھی وہاں سات بار دوڑے۔ گویا ایک عورت کے نقشِ قدم پر چلنے کا حکم تمام انسانوں کو دے دیا گیا۔ چارہزار سال پہلے مکہ بالکل غیر آباد تھا۔ اس وقت حضرت ابرا ہیم خدا کے حکم سے حضرت ہاجرہ اور ان کے چھوٹے بچے (اسماعیل ) کو لے کر یہا ں آئے اور اس بے آب وگیاہ علاقہ میں ان کو بسا دیاتاکہ یہاں کے آزاد ماحول میں ایک زندہ قوم بنے اور بعد کو پیغمبر آخرالزماں کا ساتھ دے کر انقلابی کردار ادا کرے۔
حضرت ابراہیم جب حضرت ہاجرہ کو اس خشک مقام پر چھوڑکر چلے گئے تو ایک بار پانی کی تلاش میں وہ صفا اور مردہ پہاڑیوں کے درمیان سات بار دوڑیں۔ یہی وہ عمل ہے جس کی تقلید میں ہر حاجی آج بھی دونوں پہاڑیوں کے درمیان سات بار سعی کرتا ہے۔ یہ اﷲ کے لیے سر گرم ہونے کا ایک سبق ہے جو تمام مردوں اور عورتوں کو ایک خاتون کے عمل کی پیروی کی صورت میں دیا جاتا ہے۔
عورت کی عظمت کا شاید اس سے بڑا کوئی مظاہرہ نہیں ہوسکتا کہ ہمیشہ کے لیے تمام مردوں کو ایک عورت کے نقشِ قدم پر چلنے کا حکم دے دیا جائے۔
