عوام و خواص
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر قدیم مکہ میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان میں سے ایک نام رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن المطلب بن عبد مناف کا ہے۔ وہ قریش کے پہلوانوں میں سے تھے۔ روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور رکانہ میں کُشتی ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ کو کشتی میں پچھاڑ دیا۔ اس کے بعد رکانہ نے اسلام قبول کر لیا۔
یہ کشتی کیسے ہوئی۔ اس سلسلہ میں ایک روایت یہ ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ سے کہا:أَفَرَأَيْتَ إنْ صَرَعْتُكَ؛ أَتَعْلَمُ أَنَّ مَا أَقُولُ حَقٌّ؟(سيرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 28)۔ یعنی، اگر میں کشتی میں تم کو پچھاڑ دوں تو کیا تم جان لو گے کہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہ حق ہے۔
دوسری روایت میں اس قول کو رکانہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، رکانہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:فَإِنْ صَرَعْتَنِي عَلِمْتُ أَنَّكَ صَادِقٌ (الكامل في التاريخ ،جلد 1، صفحہ 672)۔ یعنی، اگر آپ کشتی میں مجھے پچھاڑ دیں تو میں جان لوں گا کہ آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔
رکانہ کی طرح عمر بن الخطابؓ بھی قدیم مکہ کے پہلوانوں میں سے تھے۔ مگر نہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی میں پچھاڑنے کی بات کی اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایسا کہا۔ اس کے برعکس، عمر فاروقؓ نے قرآن کو پڑھا۔ اس کو پڑھنے سے ان پر حقیقت منکشف ہوئی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
اصل یہ ہے کہ انسانوں میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک عوام اور دوسرے خواص۔ عوام وہ ہیں جو پیدائشی طور پر کم تر ذہنی سطح سے تعلق رکھتے ہوں اور خواص وہ ہیں جو بلند ذہنی سطح کے مالک ہوں۔ دونوں کی ذہنی ضرورتیں الگ ہیں اور دونوں کو ان کی ذہنی ضرورت یا ذہنی سطح کے مطابق اسلام کا پیغام دیا جاتا ہے۔
رکانہ کا تعلق عوام کے طبقہ سے تھا۔ وہ کُشتی کی ہار جیت سے مطمئن ہو سکتے تھے۔ مگر عمر فاروق خواص کے طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اعلیٰ ذہنی صلاحیت کے مالک تھے۔ اور اعلیٰ ذہن کے لوگ دلائل و حقائق سے متاثر ہوتے ہیں ، نہ کہ مذکورہ نوعیت کی کسی چیز سے عوام و خواص یا کم تر ذہنی سطح اور اعلیٰ ذہنی سطح کی یہ تقسیم خود خالق فطرت کی قائم کردہ ہے۔ یہ فطری فرق تقاضا کرتا ہے کہ اسلام کی دعوت دو سطح پر چلائی جائے۔ ایک عوام کی سطح پر جہاں قصے اور مثالیں اور فضائل کی زبان میں لوگوںکو دین کی طرف متوجہ کیا جائے۔
دوسری سطح خواص کی ہے۔ یہاں لوگوں کو اسلام کا پیغام دلائل و حقائق کی زبان میں دینا ہو گا۔ یہاں اسلام کی تعلیمات کو اعلیٰ عقلی اسلوب میں ڈھال کر پیش کیا جائے گا۔ اسی لیے ایک صحابی نے کہا کہ لوگوں سے ان کے عقلی معیار کے مطابق بات کرو: كَلِّمُوا النَّاسَ عَلَى قَدْرِ عُقُولِهِمْ (الآداب الشرعية والمنح المرعية، جلد1، صفحہ 279)۔
اس تقسیم کو توڑا نہیں جا سکتا۔ عوام کے سامنے اگر منطقی اسلوب یا دلائل کی زبان میں بات کی جائے تو وہ ان کے ذہن کو اپیل نہیں کرے گی۔ وہ اس سے فائدہ اٹھانے سے عاجز رہیں گے۔ اسی طرح اگر خواص کے سامنے عوام کی زبان میں بات کہی جائے تو وہ خواص کو متاثر کرنے میں ناکام ثابت ہو گی۔
اسلام کے احیاء کے لیے عوام اور خواص دونوں قسم کے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اگر خواص دین سے دور ہوں تو صرف عوام میں دین کا پھیلنا احیا اسلام کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اگر عوام میں دین نہ پھیلا ہو تو صرف خواص کا اسلام پسند بن جانا کوئی حقیقی انقلاب لانے کے لیے کافی نہیں ہو گا۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے درمیان ایسی تحریکیں جاری ہوں جو دوطرفہ تقاضوں کو پورا کرنے والی ہوں۔ ایک طرف وہ عوام کے اندر عمومی دینی فضا پیدا کریں۔ دوسری طرف خواص کے اندر ذہنی انقلاب پیدا کر کے انہیں دین کی خدمت کے لیے تیار کیا جائے۔ دین کی گاڑی پہلے بھی انہیں دونوں پہیوں کی یکجائی سے چلتی تھی اور آج بھی وہ اسی طرح چلے گی۔ اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ دین کی گاڑی کو چلانے والا نہیں ۔
