رحمۃ للعالمین

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں رحمتہ للعالمین (سارے عالم کے لیے رحمت) کہا گیا ہے۔ اسی بات کو خواجہ الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس میں اس طرح نظم کیا ہے:

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

پیغمبر اسلام رحمت کا اعلیٰ ترین نمونہ تھے ۔ ایک مورخ کے الفاظ میں، رحمت آپ کی شخصیت کو سمجھنے کی کنجی ہے۔ آپ کا تمام قول اور تمام عمل جس بنیادی اصول کے ماتحت ہوتا تھا وہ یہی رحمت کا پہلو ہے۔ آپ وہی بات بولتے تھے جس میں انسانوں کے لیے رحمت کا سامان ہو ۔ آپ اسی طریقہ کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرتے تھے جو انسانی معاشرہ میں رحمت والا نتیجہ پیدا کرے۔

آپ جس دین کو لائے اس کی بابت قرآن میں یہ الفاظ ہیں کہ اللہ اس دین کے ذریعہ لوگوں کو سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ اسی لیے آپ کے لائے ہوئے دین کا نام اسلام قرار پایا جس میں سلامتی کا مفہوم شامل ہے ۔ آپ مکمل سلامتی تھے اور آپ نے لوگوں کو سلامتی کی طرف دعوت دی ۔

آپ نے انسان کو جس جنت کا طالب بننے کی دعوت دی ، اس کی تصویر قرآن میں یہ ہے کہ اس میں کوئی لغو بات یا گناہ کی بات نہ ہوگی۔ وہاں ہر طرف صرف سلامتی کا قول سنائی دے گا۔ اس طرح آپ نے لوگوں کو بتایا کہ اگر تم موت کے بعد والی دنیا میں جنت کے ماحول میں رہنا چاہتے ہو تو موت سے پہلے کی زندگی میں تم کو لغو باتوں اور گناہ والے کاموں سے بچنا ہو گا۔ تم کو دنیا کے لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ تمہارے دل میں لوگوں کے لیے سلامتی اور خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اگر تم نے اپنے بارے میں اس اخلاقی صفت کا حامل ہونے کا ثبوت نہیں دیا تو تم جنت کی نفیس آبادیوں میں بسائے جانے کے لیے نا اہل ٹھہر و گے۔

آپ نے انسان کو یہ تعلیم دی کہ جب ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملے تو وہ اس سے کہے:السلام علیکم ورحمۃ اللہ تمہارے اوپر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو ، یہ صرف ایک لفظی کلمہ نہیں ، بلکہ یہ دوسرے کے بارے میں اپنے دل کی کیفیت کا اظہار ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کہنے والا یہ کہہ رہا ہےکہ تمہارے لیے میرے دل میں صرف سلامتی کا جذبہ ہے۔ میں تمہارا اتنا زیادہ خیر خواہ ہوں کہ میرے دل سے تمھارے لیے امن و عافیت کی دعائیں نکلتی ہیں ۔ مجھ سے تم کوئی اندیشہ محسوس نہ کرو ، بلکہ میری طرف سے مامون رہو۔ کیوں کہ مجھ سے تم کو سلامتی اور رحمت کے سوا کوئی اور تجربہ ہونے والانہیں۔

آپ نے لوگوں کو تلقین کی کہ ہر شخص دوسرے کے لیے نفع بخش بننے کی کوشش کرے ، اگر وہ نفع بخش نہ بن سکے تو وہ اس کے حق میں اچھی بات کہے۔ اگر یہ بھی اس کے بس میں نہ ہو تو وہ کم از کم یہ کرے کہ وہ اپنے شرسے دوسروں کو بچائے(صحیح البخاری، حدیث نمبر 2518)۔ آپ نے راستہ سے پتھر یا کانٹا ہٹانے کو بھی ایمان کا جزء قرار دیا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 35)۔

آپ نے اپنے پیروؤں کے لیے جو عبادتی احکام مقرر کیے ، ان میں سے ایک زکوٰۃہے۔زکوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی کمائی کا ایک حصہ ہر سال دوسرے حاجت مندوں کو دیا جائے ۔ یہ گویا مال کے ذریعہ اس بات کی تصدیق کرنا ہے کہ میں سنجیدگی کی حد تک دوسروں کا خیر خواہ ہوں۔

انسانی اخلاقیات کی بنیا د آپ نے جس اصول پر رکھی وہ یہ تھا کہ — دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو(مسند احمد، حدیث نمبر 13875)۔ یہ اصول پوری سماجی زندگی کے لیے رحمت ہے ۔ ہر آدمی کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہوتی ہے کہ اس کو کیا چیز پسند ہے اور کیا چیز ناپسند۔ مثلاً ہر آدمی چاہتا ہے کہ مجھ سے محبت کی جائے، مجھ سے نفرت نہ کی جائے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ امانت داری کا معاملہ کیا جائے، اس کے ساتھ دغا بازی کا معاملہ نہ کیا جائے۔ ہر آدمی کو پسند ہے کہ لوگ اس سے میٹھا بول بولیں ، کڑ وا بول نہ بولیں ۔

بس پسند اور ناپسند کا ہی معاملہ ہر آدمی دوسروں کے ساتھ بھی کرنے لگے ۔ اگر ہر آدمی ایسا کرے کہ دوسروں کے ساتھ وہ وہی سلوک کرے جو سلوک وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے تو سارا سماج امن اور سلامتی کا گہوارہ بن جائے۔

آپ نے لوگوں کو جن باتوں کی تعلیم دی ، ان میں سے ایک اہم تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کرے، تب بھی تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ تم لوگوں کے ساتھ برابر کا اخلاق نہ بر تو بلکہ برتر اخلاق کا طریقہ اختیار کرو۔ دوسروں کے ساتھ تمہارا برتاؤ ان کے عمل کے ردعمل میں نہ ہو، بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی روشنی میں ہو۔

اس تعلیم میں بہت بڑی حکمت ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی کا یہی واحد رازہے ۔ یہاں دوسروں کی طرف سے بدی کا تجربہ پیش آنے کے باوجود ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا پڑتا ہے۔ جو لوگ ’’باوجود‘‘ کے اس اصول کو نہ مانیں وہ اس دنیا میں کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے، وہ کبھی اس اعلیٰ اخلاقی رویہ پر قائم نہیں رہ سکتے ، جس کا انھوں نے اپنی زبان سے اقرار کیا تھا۔

موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں ہر آدمی آزاد ہے ۔ ہر آدمی کو کھلا موقع حاصل ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ اس صورت حال کا یہ نتیجہ ہے کہ اس دنیا میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ تمام لوگ ایک جیسے ہو جائیں، ایسی یکسانیت پتھر کے بنے ہوئے مجسموں میں ہو سکتی ہے مگرزندہ انسانوں میں ایسی یکسانیت ممکن نہیں۔

اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے ایک کو دوسرے سے شکایت ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر لوگوں کا نظریہ یہ ہوکہ جو شخص ہم سے اچھا سلوک کرے، اس کے ساتھ ہم اچھا سلوک کریں گے ، اور جو شخص ہم سے برا سلوک کرے، اس کے ساتھ ہم بھی براسلوک کریں گے۔ اگر یہ نظر یہ ہو تو سماجی زندگی میں کبھی امن و سلامتی کا ماحول قائم نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے آپ نے کہا کہ لوگوں کی برائی کے باوجود تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ دوسروں سے تم کو ظلم کا تجربہ ہو تب بھی تم ان کے ساتھ ظلم نہ کرو (مسند احمد، حدیث نمبر 17452)۔

اس اخلاق کو قرآن میں خلق عظیم (68:4) برتر اخلاق کہا گیا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات بتاتے ہیں کہ آپ اس برتر اخلاق کا کامل نمونہ تھے۔

  اس برتر اخلاق پر قائم ہوناکوئی آسان کام نہیں ۔ اس کے لیے ایک برتر مقصد کا ہونا ضروری ہے۔ آپ نے لوگوں کو ایک انتہائی اعلی اور پاکیزہ مقصد دیا، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جن لوگوں کے دل میں یہ برتر مقصد پوری طرح بیٹھ جائے وہ اسی کے ساتھ ضرور اعلیٰ اخلاق والے بن جائیں گے۔

یہ برتر مقصد خدا کی معرفت ہے۔ اپنے آپ کو خدا تک پہنچانا ہے۔ اپنے آپ کو خدا کے قریب کرنا ہے ۔ جو لوگ اس مقصد کی اہمیت کو سمجھیں اور صحیح معنوں میں اللہ کے طالب بن جائیں ، ان کی نظر میں ہر دوسری چیز ہیچ ہو جائے گی ۔ کڑوے بول کو سہنا ، نقصان کو برداشت کرنا، وقار کھونے کوگوارا کرلینا، یہ سب ان کے لیے آسان ہو جائے گا۔ کیوں کہ وہ بہت بلند سطح پر جی رہے ہوں گے ۔ اور جو شخص اونچی سطح پر جئے وہ بھی چھوٹی باتوں کی پروا نہیں کرتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمتہ للعالمین ہونے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ معلوم تاریخ میں پہلی بار آپ نے جنگ اور صلح کا صحیح انسانی اصول مقرر کیا اور اس پر خود عمل فرمایا۔

آپ نے جارحانہ جنگ کو مطلق طور پر ممنوع قرار دیا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 2966؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1742)۔ آپ نے بتایا کہ جنگ صرف اس وقت کی جائے جب کہ دفاعی طور پر جنگ لڑنے کی ضرورت پیش آجائے ۔ یعنی اپنی طرف سے کبھی جنگ میں پہل نہ کی جائے۔ البتہ اگر دوسرا فریق جارحیت کر دے تو اس سے بچاؤ کے لیے لڑا جاسکتا ہے۔

دوسرا ضروری اصول آپ نے یہ مقرر کیا کہ جنگ کے مقابلہ میں امن ہر حال میں بہتر اور مطلوب چیز ہے۔ اس لیے جنگ پیش آجانے کی صورت میں بھی مسلسل امن کی تلاش جاری رکھی جائے ۔ اور اگر فریق ثانی صلح پر آمادہ ہو تو فوراً جنگ کو ختم کر کے اس سے صلح کر لی جائے ، خواہ یہ صلح خود فریق ثانی کی یک طرفہ شرط پر کیوں نہ ہو ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام اصولوں کے نہ صرف داعی تھے بلکہ وہ ان کے عامل بھی تھے۔ آپ نے ان تمام اصولوں پر انتہائی اعلیٰ اور معیاری صورت میں عمل فرمایا ، حتی کہ آپ کی زندگی ہمیشہ کے لیے ان تمام اصولوں کا معیاری عملی نمونہ قرار پائی۔ آپ کا کلام بھی سراسر رحمت تھا اور آپ کی زندگی بھی سراسر رحمت۔

______________________________________________

نوٹ:یہ تقریر 13اکتوبر 1989 کو آل انڈیا ریڈ یونئی دہلی سے نشرکی گئی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion