پندرہ شعبان
قرآن کی سورہ نمبر 44میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قسم ہے اِس واضح کتاب کی۔ ہم نے اس کو ایک برکت والی رات میں اتارا ہے۔ بے شک ہم آگاہ کرنے والے تھے۔ اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے ہمارے حکم سے ، بے شک ہم تھے بھیجنے والے، تیرے رب کی رحمت سے ، وہی سننے والا ، جاننے والا ہے ۔ آسمانوں اور زمین کا رب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اگر تم یقین کرنے والے ہو ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زندہ کرتا ہےاور مارتا ہے۔ تمہارا رب اور تمہارے اگلے باپ دادا کارب (44:1-8)۔
قرآن کی ان آیات میں جس مبارک رات (لیلة مباركة ) کا ذکر ہے، اُس کے سلسلہ میں ایک رائے یہ ہے کہ اس سے مراد نصف شعبان کی رات ہے ۔ اس رائے کے مطابق، 15 شعبان کی رات اللہ تعالیٰ کے سالانہ فیصلوں کی رات ہے۔ اس رات کو اگلے سال بھر کے تمام معاملات طے کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انسانی دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہاں کثرت سےفرشتے جمع ہوتے ہیں۔ زمین کے اوپر خصوصی رحمتوں کا ماحول قائم ہو جاتا ہے۔
اس تفسیر کے مطابق ، 15 شعبان کی تاریخ گو یا رزق اور انعامات کی تاریخ ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کہ فرشتے لوگوں کی قسمتوں کے بارے میں اندراجات کرتے ہیں۔ اس تاریخ کی اِسی خصوصی اہمیت کی بنا پر اس رات کو مسلمان ذکر و عبادت میں مشغول ہوتے ہیں۔ وہ اپنے گنا ہوں سے تو بہ کرتے ہیں۔ وہ آئندہ کے لیے صالح زندگی گزارنے کا اقرار کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ اللہ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اُن کے حق میں اچھے فیصلے فرمائے ۔
15 شعبان کے سلسلے میں کچھ روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اگر چہ یہ روایتیں سند کے اعتبار سے زیادہ قوی نہیں ہیں۔ تاہم ان میں سے کچھ حدیثیں یہاں بیان کی جاتی ہیں۔
حضرت علی بن ابی طالب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرھویں تاریخ آجائے تو تم لوگ اُس رات کو نماز میں کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو۔ کیوں کہ اللہ اس تاریخ کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے ۔ پھر وہ فرماتا ہے کہ کیا کوئی معافی مانگنے والا ہے تو میں اس کو معاف کر دوں۔ کیا کوئی رزق کا طالب ہے تو میں اُس کو رزق عطا کروں۔ کیا کوئی مصیبت زدہ اپنی مصیبت سے نجات چاہتا ہے تو میں اُس کی مصیبت سے اُس کو نجات دوں۔ اسی طرح تمام حاجتوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکارا جاتا ہے اور یہ سلسلہ طلوع صبح تک جاری رہتا ہے (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1388)۔
ایک روایت کے مطابق ، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل میرے پاس آئے۔ اور کہا کہ یہ رات نصف شعبان کی رات ہے ۔ اور اللہ اِس رات کو اتنے آدمیوں کو آگ سے نجات دیتا ہے جتنا کہ قبیلۂ بنو کلب کی بکریوں کی تعداد ہے۔ مگر اللہ اس رات کو شرک کرنے والے کی طرف نہیں دیکھے گا۔ اور نہ کینہ والے آدمی کی طرف دیکھے گا۔ اور نہ اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرنے والے کی طرف دیکھے گا۔ اور نہ شراب پینے والے کی طرف دیکھے گا۔
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم مجھ کو اس رات میں قیام کرنے کی اجازت دیتی ہو۔ میں نے کہا کہ ہاں ، میرے باپ اور ماں آپ پر فدا ہوں۔ پھر آپ اٹھے۔ آپ نے نماز پڑھی اور طویل سجدہ کیا ، یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ کی روح قبض کر لی گئی۔ پھر میں اٹھی اور آپ کو دیکھا۔ میں نے اپنا ہاتھ آپ کے قدموں پر رکھا۔ پھرت قدموں میں حرکت ہوئی ۔ پھر میں خوش ہو گئی ۔ پھر میں نے سنا کہ آپ سجدہ میں دعا کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں:
اے اللہ ، میں تیری معافی کے ذریعہ تیری پکڑ سے پناہ مانگتا ہوں ۔ میں تیری رضا مندی کے ذریعہ تیری ناراضی سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری ہی ذات کے ذریعہ تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔ تو بڑی شان والا ہے۔ میں تیری تعریف و توصیف بیان نہیں کر سکتا۔ تیری ذات ویسی ہی ہے جیسی تو نے خود اس کی توصیف بیان کی۔
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ پھر جب صبح ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دعا کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے عائشہ ، تم بھی اس دعا کو سیکھ لو اور دوسروں کو بھی اُسے سکھاؤ۔ کیوں کہ جبریل نے مجھے تعلیم دی ہے اور مجھ سے کہا ہے کہ میں اس کو سجدہ میں دہراؤں (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 3837)۔
ان آیتوں اور حدیثوں پر غور کرنے سے چند باتیں سامنے آتی ہیں۔ اور یہی وہ باتیں ہیں جن پر نصف شعبان کی تاریخ کو سب سے زیادہ دھیان دینا چاہیے ۔
1۔ شعبان کے مہینہ کی پندرہویں تاریخ اللہ تعالیٰ کے سالانہ فیصلوں کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ کو اللہ تعالیٰ خصوصی طور پر اپنے بندوں کی طرف توجہ فرماتا ہے۔ اس لیے اس تاریخ کو خصوصی طور پر اللہ کی یاد اور اس کی عبادت میں مشغول ہونا چاہیے ۔
2۔ اس تاریخ کا سب سے اہم عمل استغفار ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے معلوم ہوتا ہے ۔ ضرورت ہے کہ اس تاریخ کو ہر آدمی اپنا احتساب کرے۔ اپنی پچھلی غلطیوں کا اقرار کر کے اُس سے معافی مانگے۔ اور آئندہ کے لیے اللہ کے سامنے یہ عہد کر لے کہ وہ اپنے آپ کو ایسی غلطیوں سے بچائے گا۔
3۔ اس تاریخ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو رحمت اور انعام دیا جاتا ہے۔ مگر جیسا کہ حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ یہ رحمت اور انعام فرماں برداروں کے لیے ہے۔ وہ سرکش اور نافرمان لوگوں کے لیے نہیں ہے۔ اللہ کی رحمت اور انعام کا سچا امیدوار وہ ہے جو امیدواربننے کے ساتھ اللہ کی نافرمانی کو بھی چھوڑ دے ۔
4۔ خاص طور پر کچھ گناہ ایسے ہیں جن سے بہت زیادہ بچنے کی ضرورت ہے ۔ ورنہ اللہ کی رحمتوں کی تقسیم کے خصوصی دن بھی آدمی اس کی رحمت سے حصہ پانے میں ناکام رہے گا۔ مثلاً اللہ کے ساتھ کسی اور چیز کو شریک کرنا، اپنے سینہ کو حسد اور انتقام سے گندا کرنا، رشتہ داروں کے ضروری حقوق ادا نہ کرنا۔ شراب جیسے برے کام میں مبتلا ہونا ، وغیرہ ۔
ہر چیز کے آداب ہوتے ہیں۔ اسی طرح 5 اشعبان کے بھی آداب ہیں ۔ اور 15 شعبان کا فائدہ وہی شخص پائے گا جو اس کے آداب اور اس کے تقاضوں کو پورا کرے۔
________________________________________________
نوٹ:یہ تقریر 19 فروری 1992کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی ۔
