استقلال کی اہمیت
ایک بڑے تاجر کا قول ہے ’’کار و بارکو بار بار بدلنا کاروبار میں خود اپنے ہاتھ سے آگ لگانا ہے‘‘۔ جب کوئی شخص اپنے کاروبار کو بدلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اپنی سابقہ تاریخ سے کاٹ دیتا ہے۔ پھر جو شخص خود ہی اپنی تاریخ سے اپنے آپ کو کاٹتا ہے اس کے پاس کیا چیز باقی رہے گی جو اس کاسرمایہ بن سکے۔
کاروبار ملازمت کی طرح نہیں کہ ایک مہینہ کام کیا تو پہلی تاریخ کو اس کی تنخواہ مل گئی۔ کاروبار ایک درخت کی مانند ہے جو سالوں کے بعد اپنے پھل دیتا ہے ۔ اب اگر کوئی شخص ایسا کرے کہ ایک درخت لگائے اور سال بھر کے بعد اس کو کاٹ کر دوسرا درخت لگائے اور اگلے سال تیسرا درخت۔ اسی طرح وہ پچیس سال تک کرتا رہے تو پچیس سال کی لمبی مدت گزار نے کے باوجود ایسا آدمی پھل دار درخت کا مالک نہ بن سکے گا۔ ایسے شخص کے لیے اس دنیا میں ہرا بھرا باغ مقدر نہیں۔
کسی شخص کے لیے پھل دار درخت حاصل کرنے کی ایک ہی صورت ہے ۔ وہ یہ کہ وہ ایک درخت لگائے۔ اور اسی ایک درخت کو برابر بڑھا تا ر ہے۔ وہ ایک ہی درخت پر اپنی ساری توجہ لگا دے۔ اس کے بعد جب مدت پوری ہوگی تو اس کا درخت بڑھ کر ایک پورا پھل دار درخت بن جائے گا۔ اسی طرح کاروبار میں بھی آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر ایک کاروبار شروع کرے اور پھر پوری طرح اس میں لگ جائے۔ وہ کسی حال میں نہ اپنے کاروبار کو چھوڑے اور نہ اس کو بدلے ۔ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ ایک نہ ایک وقت کامیاب ہوکر رہے گا۔ گوئٹے نے سچ کہا ہے ’’جس شخص کے اندر اٹل اور مستحکم ارادہ ہے وہ دنیا کو اپنے سانچے میں ڈھال سکتا ہے‘‘۔
آپ اپنے آس پاس کے لوگوں کا مطالعہ کیجیے آپ کو نظر آئے گا کہ کام کرنے والے تو بہت ہیں مگر کامیاب ہونے والے بہت کم۔ اس کی وجہ اکثر حالات میں عدم استقلال ہوتا ہے۔ جو لوگ استقلال کا ثبوت دیتے ہیں وہ کامیاب رہتے ہیں اور جو لوگ استقلال کا ثبوت نہیں دے پاتے وہ ناکام ہو جاتے ہیں۔ استقلال کا نہ ہونا کسی کو پیچھے ڈھکیل دیتا ہے اور استقلال کا ہونا کسی کو زندگی میں اعلیٰ درجات تک لے جاتا ہے ۔
کسی مفکرنے سچ کہا ہے کہ ’’لوگوں میں طاقت کی اتنی کمی نہیں جتنی مستقل ارادے کی‘‘ طاقت اور صلاحیت اکثرلوگوں کے پاس ہوتی ہے ۔ اور سب لوگ اپنی طاقت اور صلاحیت کو استعمال بھی کرتے ہیں۔ مگر بڑی کامیابی بہت کم لوگوں کے حصہ میں آتی ہے ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ بڑی کامیابی مستقل ارادہ مانگتی ہے۔ اور یہی وہ امتحان ہے جس میں اکثر لوگ ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ شروع کرنے کو تو ہر آدمی کوئی نہ کوئی کام شروع کر دیتا ہے۔ مگر اکثر لوگ زیادہ دیر تک اپنے کام کو جاری نہیں رکھ پاتے ۔ اور یہیوہ چیز ہے جو ان کو زندگی میں ناکام بنادیتی ہے۔
ترقی اور خوش حالی مسلسل آگے بڑھتے رہنے کا دوسرا نام ہے۔ زندگی ایک ایسا مقابلہ ہے جس میں ٹھہر نا بھی گویا پیچھے ہٹنا ہے۔ اور جو شخص ایک بار پیچھے ہو گیا اس کو دوبارے آگے بڑھنے کے لیے کئی گنا زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔ آگے بڑھنا چلنا ہے۔ اور آگے نہ بڑھنا تھک کر بیٹھ جانا۔رگ وید میں کہا گیا ہے کہ ’’قدم پیچھے نہ ہٹانے والا ہی خوش حالی کو فتح کرتا ہے‘‘۔
اس دنیا میں نتیجہ ہمیشہ اس شخص کے حصے میں آتا ہے جو نتیجہ کی پروا کیے بغیر اپنا عمل برابر جاری رکھے۔ جس کی نظر ہر وقت نتیجہ پر ہو وہ بہت جلد مایوس ہو کر بیٹھ جائے گا۔ وہ استقلال کے ساتھ اپنا کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ جس شخص کا یہ حال ہو کہ عمل ہی اس کے لیے لذت بن جائے۔ دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ اپنے عمل میں لگا رہنا جس کو کافی نظر آئے وہ مستقل عمل پر قائم رہے گا ۔ اور وہی حقیقی معنوں میں کامیاب ہوگا۔ یہی بات ہے جو مہا بھارت کے ایک کردار کی زبان سے ان لفظوں میں ادا ہوئی ہے۔ ’’پھل کی خواہش کیے بغیر اپنا عمل کر‘‘۔
