اسلام کیا ہے

اسلام ایک لفظ میں توحید کا نام ہے۔ جس طرح درخت اصلاً ایک بیج کا نام ہوتا ہے اسی طرح اسلام کی اصل حقیقت توحید ہے اور بقیہ تمام چیزیں اسی توحید کے مظاہر اور تقاضے۔ توحید بظاہر یہ ہے کہ خدا کئی نہیں ہیں بلکہ خدا ایک ہے۔ مگر یہ توحید کوئی خشک گنتی کا عقیدہ نہیں ہے جو کچھ مقرر الفاظ دہرا کر آدمی کو حاصل ہو جائے۔ یہ اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر خدا کا اثبات ہے، یہ خدا کے مقابلے میں اپنے آپ کو دریافت کرنا ہے۔ خدا قادر مطلق ہے اور بندہ عاجز مطلق۔ کوئی بندہ جب خدا کے ساتھ اپنی اس نسبت کو پا لیتا ہے تو اسی کا نام توحید ہے۔ توحید یا ایک اللہ پر ایمان ایک شعوری فیصلہ ہے۔ یہ حق کا انکار کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے حق کو مان لینا ہے۔ اس اعتبار سے ایمان حقیقتِ واقعہ کے اعتراف کادوسرا نام ہے۔ اور حقیقت واقعہ کا شعوری اعتراف بلاشبہ اس دنیا کی سب سے بڑی نیکی ہے۔

یہی توحید دنیا کی تمام چیزوں کا دین ہے۔ زمین اور سورج انتہائی کامل صورت میں خدا کی تابعداری کر رہے ہیں۔ شہد کی مکھی کمال درجہ پابندی کے ساتھ خدا کی مقرر کی ہوئی راہوں پر چل رہی ہے۔ مگر ان میں سے کسی کی محکومی شعوری محکومی نہیں۔ وہ خود اپنی بناوٹ کے اعتبار سے ویسے ہی ہیں جیسا کہ انہیں ہونا چاہیے۔ ساری کائنات میں یہ صرف انسان ہے جو ارادہ اور شعور کے ساتھ اپنے کو محکوم بناتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز کامل طور پر خدا کی فرماں برداری کر رہی ہے۔ مگر انسان کی فرماں برداری اختیاری ہے اور دوسری چیزوں کی فرمانبرداری بے اختیاری۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام چیزیں خدا کو سجدہ کر رہی ہیں۔ مگر ایک انسان جب سجدہ کرتے ہوئے زمین پر اپنا سر رکھتا ہے تو یہ تمام عالم کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ دوسری چیزیں مجبورانہ سجدہ کر رہی ہیں مگر انسان شعور اور ارادےکے تحت اپنا سر خدا کے آگے جھکا دیتا ہے۔

انسان کےذریعہ اس کائنات میں شعوری اور اختیاری محکومی کا واقعہ وجود میں آتا ہے جس سے بڑا کوئی دوسراواقعہ نہیں۔ یہی انسان کی اصل قیمت ہے۔ انسان وہ نادر مخلوق ہے جو اس کائنات میں شعور قدرت کے مقابلہ میں شعور عجز کی دوسری انتہا بناتا ہے۔ وہ کائنات کے صفحہ پر’’عدد‘‘ کے مقابلہ میں’’صفر‘‘ کا ہندسہ تحریر کرتا ہے۔ وہ خداوندی انا کے مقابلہ میں اپنے بے انا (egoless)ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ ایک شخص کا موحد بننا اس آسمان کے نیچے ظاہر ہونے والے تمام واقعات میں سب سے بڑا واقعہ ہے جس کا انعام کوئی سب سے بڑی چیز ہی ہو سکتی ہے۔ اسی سب بڑی چیز کا نام جنّت ہے۔ جنّت کسی کے عمل کی قیمت نہیں۔ جنّت کسی بندے کے لیے خدا کی یہ بخشش ہے کہ اس کے بندے نے اپنے رب کو وہ چیز پیش کر دی جو کائنات میں کسی نے پیش نہ کی تھی۔ اس لیے خدا نے بھی اس کو وہ چیز دے دی جو اس نے کسی دوسری مخلوق کو نہیں دیا تھا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion