چیف جسٹس کا ریمارک
محمد احمدشاہ بانوکیس (کریمنل اپیل نمبر103۔1981۔ مورخہ 23 اپریل 1985) میں فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف ، جسٹس وائی۔وی۔ چند ر اچوڑ نے ایک خصوصی نوٹ لکھا ہے۔اس نو ٹ میں وہ کہتے ہیں کہ عام دیوانی اور فوجداری قانون کے تحت کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں یہ سماج کے ایک بڑے حصہ کے لیے دور رس اہمیت کے حامل ہیں جو کہ روایتی طور پر غیر منصفانہ سلوک کا شکار رہا ہے۔ عورتیں اسی قسم کا ایک حصہ ہیں۔ قانون ساز منونے کہا کہ عورت آزادي كي مستحق نهيں هے۔ اور اسلام پر يه الزام هے كه اس كا ايك تباه كن پهلو عورت کو کمتر درجہ دینا ہے۔ پیغمبر اسلام کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے، امید افزا طورپر غلطی سے، کہ عورت ایک ٹیڑ ھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کروگے تو وہ ٹوٹ جائے گی۔ اس لیے تم اپنی بیویوں سے نرم سلوک کرو:
Some questions which arise under the ordinary civil and criminal law are of a far-reaching significance to large segments of society which have been traditionally subjected to unjust treatment. Women are one such segment. ‘‘Na stree swatantramarhati’’ (The woman does not deserve independence), said Manu, the law giver. And, it is alleged that the ‘‘fatal point in Islam is the degradation of woman.’’ To the Prophet is ascribed the statement, hopefully wrongly, that ‘‘woman was made from a crooked rib, and if you try to bend it straight, it will break; therefore treat your wives kindly.’’
واضح ہوکہ چیف جسٹس صاحب کی مذکورہ عبارت میں ’’ امید افزا طور پرغلطی سے‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ موصوف کے نزدیک پیغمبر کی طرف اس قول کو منسو ب کرنا غلط ہے۔ ان کا مطلب یہ کہ پیغمبر نے اگرچہ یہ کہا ہے کہ عورت ’’ ٹیڑھی پسلی‘‘ سے پیدا کی گئی ہے۔ مگر جو لوگ عورت اور مرد کے درمیان برابری قائم کرنا چاہتے ہیں ، ان کو اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ ہمارے لیے امید کا پہلویہ ہے کہ پیغمبر کا یہ ارشاد بطور واقعہ درست نہیں۔ چیف جسٹس کے اس فقرہ کا مقصد ’’ بیان ‘‘ کی تردید ہے، نہ کہ خود ’’ انتساب ‘‘ کی تردید۔
ایک چیف جسٹس کا یہ ریمارک خالص قانونی اعتبار سے کس حد تک باموقع ہے ، اس کے بارے میں کوئی قانون داں ہی قطعی رائے دے سکتا ہے۔ تاہم یہ یقینی ہے کہ وہ خالص علمی اعتبار سے صحیح نہیں۔
چیف جسٹس صاحب نے پیغمبر اسلام کا یہ قول اس دعویٰ کی تائید میں پیش کیا ہے کہ اسلام سماج کے ایک طبقہ (عورت ) کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کی حمایت کرتا ہے۔ حالاں کہ مذ کورہ قول اس کے برعکس ، عورت کے ساتھ منصفانہ سلوک کی تا کید کررہا ہے۔ محترم چیف جسٹس کا ریماک منو کے قول کے لیے تو ضرور درست ہے۔ مگر وہ پیغمبر اسلام کے قول پر با لکل صادق نہیں آتا۔
مذکورہ قولِ رسول میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ عورت کے ساتھ نرمی (خیر ) کا سلوک کرو۔ پھر اس حدیث کے بارے میں کس طرح یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ اس میں عورتوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک یا کمتر درجہ کا برتاؤ کرنے کی تلقین کی گئی ہے (جیسا کہ منو کے حوالے میں پایا جاتا ہے)۔
جہاں تک عورت کے پسلی کی مانند ہونے کا تعلق ہے، وہ عورت کے ساتھ بہتر سلوک کی توجیہ کے طور پر ہے ، نہ کہ بہتر سلوک کی تردید کے طورپر۔ اس کے بارے میں اوپر یہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ یہ محض ایک مثال ہے۔ عورت کی مخصوص نفسیات کی بنا پر اس کے معاملہ کو پسلی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے نرم سلوک کرو۔ اگر تم عورت کے ساتھ سخت سلوک کرو گے تو یہ عورت کی فطرت کے مطابق نہ ہوگا، اس سے بگاڑپیدا ہوگا ، نہ کہ اصلاح۔
