ذہاب العلما
مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ایک ممتاز مسلم رہنما اورایک مستند عالم دین تھے۔ وہ 9اکتوبر 1939ء کو دربھنگہ میں پیدا ہوئے۔ وہ مختلف اعلیٰ حیثیتوں کے ساتھ اسلام اور ملت اسلام کی قابل قدر خدمات انجام دیتے رہے۔ اپنی آخری عمر میں وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے چیئر مین تھے۔ 4اپریل 2002ء کو دہلی میں اُن کا انتقال ہوگیا۔ إنا للّٰہ وإنا الیہ راجعون۔
مولانا مجاہد الاسلام قاسمی کی موت دور آخر کے اس ظاہرہ کی ایک مثال ہے جس کو حدیث میں ذہاب العلما کہا گیا ہے۔ یعنی علما کا چلے جانا یا علما کا اُٹھ جانا۔ عام طور پر اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ علما ایک کے بعد ایک مرجائیں گے اور پھر کوئی عالم دنیا میں باقی نہ رہے گا۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہاں علما سے مراد اجتہادی صلاحیت کے علما ہیں ۔
اصل یہ ہے کہ اس حدیث میں علما سے مراد بلند پایہ علما ہیں ۔ تاہم اس کا مطلب سادہ طورپر بلند پایہ علما کی رحلت نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ملت کے بلند پایہ افراد کا علما کی صف میں شامل نہ ہونا ہے۔ یعنی علما بننے کے قابل لوگ علما بننا چھوڑ دیں گے۔ اس سے مراد اشخاص کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ دور کا خاتمہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی بہت سی حدیثیں صنعتی دور میں پیدا ہونے والے حالات کی پیشین گوئی ہیں ۔ صنعتی دور میں ترقی کے مواقع اور مادی چمک دمک بہت بڑھ جائے گی، اس بنا پر دنیا کی طرف رغبت (temptation) میں اتنا زیادہ اضافہ ہوجائے گا کہ اعلیٰ صلاحیت کے لوگ دنیوی شعبوں کی طرف بھاگنے لگیں گے۔ اس صورت حال کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
فریبِ جلوہ اور کتنا مکمل اے معاذ اللہ بڑی مشکل سے دل کو بزم عالم سے اُٹھا پایا
خِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر10296)کے مطابق، اعلیٰ صلاحیت کا آدمی ہی اعلیٰ عالم بنتا ہے۔ جب اعلیٰ اذہان دین کی طرف راغب نہ ہوں گے تو فطری طورپر یہ ہوگا کہ دین کی صفیں اعلیٰ قسم کے علما سے خالی ہو جائیں گی۔ اس کے بعد صرف وہ لوگ دینی شعبوں اور دینی اداروں کو مل سکیں گے جو اپنی کم تر صلاحیت کی بنا پر مادی ترقی کے بڑے مناصب میں اپنی جگہ بنانے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں ۔
مولانا مجاہد الاسلام قاسمی غیر معمولی صلاحیت کے مالک تھے۔ وہ تقریر اور تحریر، انتظام اور معاملہ فہمی، بصیرت اور تدبر میں اعلیٰ قابلیت رکھتے تھے۔ وہ اگر سیکولر ڈگری اور سیکولر پروفیشن کو اپنا میدان بناتے تو یقیناً وہ بڑے بڑے دنیوی مناصب پر فائز ہوسکتے تھے۔ اس طرح یہ ذہاب العلما کا ایک واقعہ ہوتا۔ مگر انہوں نے اپنی اعلیٰ صلاحیت کو اسلام اور ملت اسلام کی خدمت میں لگانے کو ترجیح دی۔ دنیا کے مادی بازار میں اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کی بڑی قیمت لینے کے بجائے قناعت کا طریقہ اختیارکرتے ہوئے انہوں نے اپنے آپ کو دین کے لیے وقف کردیا۔ وہ ایک ایسے عالم بن گئے جنہوں نے مادی ترقی کے حصول کو اپنا نشانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے دنیا کی طرف جانے کے بجائے دین کی طرف جانے کو اپنی توجہات کا مرکز بنالیا۔
وہ ان خوش قسمت افراد میں سے تھے جنہوں نے اپنی اعلیٰ فطری صلاحیت کے باوجود اپنی صلاحیت کو دنیا کے بازار میں کیش نہیں کرایا بلکہ اس کو دین کے حوالے کر دیا۔ انہوں نے مختلف مقامات پر سیکڑوں کی تعداد میں ملّی ادارے قائم کیے۔ ملک کے اندر اور ملک کے باہر بہت سی ممتاز علمی اور ملی تنظیموں میں انہیں اعلیٰ مناصب دیے گئے، وغیرہ۔
مولانا اشرف علی تھانوی (وفات 1943) سے کسی نے کہا کہ آپ کے مدرسوں میں آج کل اعلیٰ قابلیت کے علما پیدا نہیں ہوتے۔ مولانا نے جواب دیا کہ اصل بات یہ نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ اعلیٰ قابلیت کے لوگ اب مدرسوں میں نہیں آتے۔
یہی مطلب ذہاب العلما کا ہے جس کو مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنے سادہ انداز میں اس طرح بیان کردیا۔ یہ نئی صورت حال جو موجودہ زمانہ میں پیدا ہوئی، اس کا سبب کیا ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، اس کا سبب یہ ہے کہ جدید صنعتی انقلاب نے دولت کمانے کے جو نئے نئے طریقے پیدا کیے ہیں اُس میں اعلیٰ صلاحیت کے لوگوں کو ایسے برتر امکانات نظر آنے لگے جو پہلے کبھی نہیں تھے۔
قدیم زمانہ میں معیشت کا دارومدار زیادہ تر روایتی انداز کی زراعت پر تھا۔ اس نظام کے تحت کمائی کے مواقع بہت محدود ہوتے تھے۔ مگر جدید ٹیکنالوجی اور جدید تجارتی شعبوں نے کمائی کے مواقع لاکھوں گُنا زیادہ بڑھا دیے ہیں ۔ اب ’’عاجلہ‘‘ میں اتنی زیادہ کشش پیدا ہوگئی ہے جو پہلے کبھی نہیں تھی۔ مادی ترقی کی یہی بڑھی ہوئی کشش ہے جس نے اعلیٰ صلاحیت کے لوگوں کا رُخ اُن تعلیمی اداروں سے ہٹا دیا جہاں علما پیدا کیے جاتے ہیں ۔ وہ تیزی کے ساتھ اُن سیکولر تعلیمی اداروں کی طرف بھاگنے لگے جہاں وہ افراد پیدا کیے جاتے ہیں جو جدید ترقیاتی شعبوں میں اعلیٰ مناصب پاسکیں ۔
اس اعتبار سے دیکھیےتو مولانا مجاہد الاسلام قاسمی حقیقی معنوں میں دور جدید کے اسلامی مجاہد تھے۔ موجودہ زمانہ میں سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ ایک باصلاحیت آدمی مواقع دنیا کے مقابلہ میں مواقع دین کے لیے اپنے آپ کو وقف کرسکے۔ یہ قربانی کی وہ قسم ہے جو کسی آدمی کو عظیم مجاہد بنا دیتی ہے، اور مولانا مرحوم بلاشبہ اس معنٰی میں دور جدید کے مجاہدِ اسلام تھے۔
مولانا مجاہد الاسلام قاسمی کی متنوع خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے ہر دل عزیز اوصاف کی بنا پر ہر طبقہ کے درمیان مقبول تھے۔ مسلمانوں کے ہر مکتب فکر کے درمیان اُن کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ ایک ممتاز عالم ہونے کے ساتھ ایک مقبول رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ نئی نسل کے درمیان ایسے لوگ پیدا ہوں جو مولانا مرحوم کی راہ پر چلیں ۔ ملت کے درمیان ایسے افراد کا خلا نہ ہونے پائے جن کو بیک وقت علمی استناد بھی حاصل ہو اور اسی کے ساتھ عوام کی مقبولیت بھی۔ مولانا مرحوم کی زندگی جدید مسلم نسل کو یہ مثبت پیغام دیتی ہے کہ— میری موت کو ماتم کا عنوان نہ بناؤ، بلکہ اُس کو عزمِ نو کا عنوان بناؤ۔ ملت کے کام کو میں نے جہاں چھوڑا ہے وہاں سے آغاز کرکے آگے بڑھو۔ تعمیرِ ملت کے عمل کو مسلسل جاری رکھو۔ یہاں تک کہ تم اُس کی آخری منزل پر پہنچ جاؤ۔ (الرسالہ، جون 2002)
