یک طرفہ ایڈجسٹمنٹ
جب بھی دوآدمیوں یاگروہوں کےدرمیان کوئی نزاع پیداہوتوہرفریق کی یہ کوشش ہوتی ہےکہ وہ دوسرےفریق سے اپنی بات منوائے،وہ دوسرےفریق سے اپنے مزعومہ حق کووصول کرے۔مگریہ طریقہ سراسرغیرفطری ہے۔اس طریقہ کاواحدانجام یہ ہےکہ وقتی مسئلہ ایک لامتناہی مسئلہ بن جائے۔مزیدیہ کہ اصل مسئلہ توختم نہ ہو اور نئے مسئلے پیدا ہوکر معاملہ کو پیچیدہ تربنا دیں۔
نزاعی مسئلہ کا کامیاب حل صرف ایک ہے۔ اور وہ یک طرفہ مفاہمت (unilateral adjustment)ہے۔ دونوں میں سے جو فریق پہلے یک طرفہ مفاہمت پر راضی ہوجائےوہی ہمیشہ کامیاب ہوتاہے۔اورجوفریق راضی نہ ہواس کوہمیشہ یہ قیمت دینی پڑتی ہےکہ وہ معاملہ کےاس خاتمہ پرذلت کےساتھ راضی ہوجس پرابتدائی مرحلہ میں عزت کےساتھ سمجھوتہ ہوسکتاتھامگراس وقت اس نےسمجھوتہ نہیں کیا۔
قرآن میں اس اصول کودولفظ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:وَالصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128)۔ یعنی، صلح بہترہے:
Reconciliation is the best.
قرآن میں یہ آیت ازدواجی نزاع کے ذیل میں آئی ہے۔ مگر یہ ایک عمومی اصول ہے، اور اس کاتعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔
صلح(reconciliation)کاالٹالفظ جنگ ہے۔جنگ کی نفسیات یہ ہےکہ ہرآدمی دوسرےکوزیرکرکےاپناحق وصول کرناچاہتاہے۔اس کےبرعکس، صلح کاطریقہ دو اور لو (give and take) کے اصول پر قائم ہے۔ اس دوسرے طریقہ میں ہر فریق یہ کوشش کرتاہےکہ ٹکراؤکی نوبت نہ آئےاورپُرامن بات چیت کےذریعہ دوطرفہ رضامندی سےمسئلہ حل ہوجائے۔
جنگ کےطریقہ میں ہرفریق کی نظرموجودپرہوتی ہے۔یعنی جو چیز سامنے موجود ہے اس پرقبضہ کرنا۔جولوگ جنگ کی نفسیات کاشکارہوں وہ موجودپرقبضہ کوجیت اور موجود کے کھونےکوہارسمجھتےہیں۔مگرصلح کی نفسیات والاانسان حال کے بجائےمستقبل کو دیکھتا ہے۔ اس کی بصیرت اس کوبتاتی ہےکہ جوکچھ بروقت سامنےنظرآتاہے،اس سےبہت زیادہ وہ ہے جواگرچہ بروقت نظرنہیں آتامگردانشمندانہ عمل کےذریعہ اس کوحاصل کیا جاسکتا ہے۔ جنگ پسندآدمی کی نظرحال میں اٹکی ہوئی ہوتی ہےاورصلح پسندآدمی کی نظرمستقبل کی طرف متوجہ رہتی ہے۔یہی مستقبل بینی تمام بڑی بڑی کامیابیوں کاواحدرازہے۔
