اخلاقی سلوک
دنیا میں جب لوگ مل جل کر رہتے ہیں تو بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کا سابقہ دوسرے سے پڑتا ہے۔ گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی۔ ایسے مواقع پر دوسروں کے ساتھ شرافت اور انصاف کا معاملہ کرنا اچھا اخلاق ہے ، اور پستی اور بے انصافی کے ساتھ معاملہ کرنا برا اخلاق۔
اچھے اخلاق کی سب سے پہلی پہچان یہ ہے کہ آپ اپنے دل سے دوسروں کے خیر خواہ ہوں۔ آپ ہمیشہ دوسروں کا بھلا چاہیں۔ دوسروں کے لیے آپ کے دل میں محبت ہو ، نفرت نہ ہو۔ دوسروں کی ترقی کو دیکھ کر آپ کے اندر جلن نہ پیدا ہو اور دوسروں کو برے حال میں دیکھ کر آپ انھیں حقیر نہ سمجھیں ۔ دوسروں کے بارے میں آپ کوئی بات سنیں تو آپ اس کو اچھے معنی میں لیں ، اس کی وجہ سے آپ دوسروں کے بارے میں بدگمان نہ ہو جائیں۔
دوسروں کا خیر خواہ بننے کی پہچان کیا ہے ۔ اس کی سادہ پہچان یہ ہے کہ دوسروں کے لیے آپ وہی پسند کرنے لگیں جو آپ خود اپنے لیے پسند کرتے ہیں ۔ آپ کو یہ پسند ہے کہ دوسرے لوگ آپ کا اعتراف کریں تو آپ بھی اسی طرح دوسروں کا اعتراف کریں۔ آپ کو پسند ہے کہ کوئی آپ کو بے عزت نہ کرے تو آپ بھی اسی طرح دوسروں کو کبھی بے عزت نہ کریں۔ آپ کو پسند ہے کہ کوئی آپ کا مال بے جا طور پر نہ لے تو آپ بھی دوسروں کا مال بے جا طور پر لینے سے پوری طرح اپنے آپ کو بچائیں۔ دنیا میں آدمی کا سابقہ جب دوسروں سے پیش آتا ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ کبھی دوسروں کے ساتھ اس کو شکایت ہو جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر خوش اخلاقی کے رویہ پر قائم رہنے کی ایک ہی لازمی شرط ہے ۔ وہ یہ کہ آپ کے اندر اعراض کرنے اور بھلا دینے کی عادت ہو ۔
دوسروں کی زبان سے آپ کے لیے کڑوا بول نکلے مگر آپ دوسروں کو اپنا کڑوا بول نہ سنائیں ۔ دوسروں سے آپ کو کوئی چوٹ لگ جائے تو آپ ایسا نہ کریں کہ آپ بھی اس کے خلاف انتقامی جذبہ لے کر بیٹھ جائیں۔ دوسرا آپ کو نظر انداز کر رہا ہو، اس وقت بھی آپ ایسا نہ کریں کہ اپنے آپ کو اس سے کاٹ لیں۔ اس دنیا میں اچھے اخلاق پر قائم رہنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی برے اخلاق والوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرے۔ اور برائی کے جواب میں بھی اچھائی کانمونہ پیش کرے۔
اچھے اور برے اخلاق کا بہت زیادہ تعلق زبان سے ہوتا ہے۔ کڑوا بول بد اخلاقی کی علامت ہے اور میٹھا بول خوش اخلاقی کی علامت ۔ زبان سے نکلے ہوئے کچھ الفاظ ایک شخص کو آپ کا دشمن بنا سکتے ہیں۔ اور اسی زبان سے نکلے ہوئے کچھ اور الفاظ کا اثر یہ ہوسکتا ہے کہ ان کوسننے والا آپ کا قریبی دوست بن جائے ۔
اخلاق کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ آپ کے اندر دوسروں کے لیے فیاضی اور اعلیٰ ظرفی کے جذبات ہوں۔ دوسروں کی سخت بات کو بر داشت کر کے آپ ان کے ساتھ نرم بات بولیں۔ دوسرے سے آپ کو نقصان پہنچے تب بھی آپ اس کو نفع پہنچائیں۔ دوسرے سے آپ کو کچھ نہ ملنے والا ہو تب بھی آپ اس کو دینے کی کوشش کریں۔ دوسرا آپ کو اشتعال دلائے تب بھی آپ مشتعل ہوئے بغیر اس کے ساتھ شرافت کا معاملہ کریں ۔
اخلاق اس بہتر سلوک کا نام ہے جس میں شرافت ، خیر خواہی اور اعلیٰ ظرفی کی اسپرٹ پائی جائے ۔ بااخلاق انسان وہ ہے جس کی زندگی میں سورج کی روشنی اور پھول کی مہک جیسی خصوصیات پیدا ہو جائیں ۔
اچھا سماج بنانے کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ اچھا اخلاق ہے۔جس سماج کے افراد اچھے اخلاق والے ہوں، جو ایک دوسرے کے ساتھ اخلاق اور انسانیت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے زندگی گزاریں ، وہ سماج یقیناً بہتر سماج ہو گا۔
بہتر اخلاقی سماج ہی کا دوسرا نام بہتر انسانی سماج ہے۔ سماج کو اونچا اٹھانا ہے تو اخلاق کو اونچا اٹھائیے۔ سماج کو درست کرنا ہے تو اس کے افراد کو اخلاقی اعتبار سے درست کیجیے۔ یہی بہتر سماج بنانے کا واحد یقینی راستہ ہے۔ اس کے سوا اُس کا اور کوئی راستہ نہیں ۔
_________________________________________
نوٹ:آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے 4فروری 1993کو نشر کیا گیا۔
