تنقید اور اجتہاد

تنقید اور تقلید دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جہاں تقلید ہو گی وہاں تنقید نہیں ہو گی۔ اور جہاں تنقید ہوگی وہاں تقلید نہیں ہوگی۔ اجتہاد کا معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے۔اجتہاد لازمی طور پر تنقید چاہتا ہے۔ جہاں تنقید کا ماحول نہ ہو وہاں بھی اجتہاد کا عمل جاری نہیں ہو سکتا۔

 تاہم تنقید کو تنقید ہونا چاہیے نہ کہ تنقیص۔ تنقید علمی اور منطقی تجزیہ کا نام ہے۔ اس کے بر عکس تنقیص کا سارا انحصار عیب جوئی اور الزام تراشی پر ہو تا ہے۔ تنقید اگر تنقیص کی صورت اختیار کر لے تو وہ سب و شتم ہو گا نہ کہ حقیقی معنوں میں تنقید۔

مثال کے طور پر صلیبی جنگوں کے بعد مسیحی پادریوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کتابیں لکھیں۔ انہوں نے عربوں کی تصویر یہ بنائی کہ وہ ایک وحشی قوم ہیں۔ اس کا ایک ثبوت ان کے بیان کے مطابق یہ تھا کہ دوسرے اسلامی خلیفہ عمر فاروق نے جب مصر فتح کیا تو اس وقت وہاں کے شہر اسکندریہ میں ایک بڑا کتب خانہ تھا۔ خلیفۂ اسلام کے حکم سے یہ پورا کتب خانہ جلا دیا گیا۔ اس کی تمام قیمتی کتابیں تباہ ہو گئیں۔

اس معاملے میں مسیحی پادریوں کے جواب کی ایک صورت یہ تھی کہ یہ کہا جائے کہ یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں۔ وہ صلیبی جنگوں میں شکست کا بدلہ لے رہے ہیں۔انہوں نے سازش کے تحت کتب خانہ جلانے کی یہ کہانی بنائی ہے ، وغیرہ۔ اس قسم کی باتیں تنقید نہیں ہیں بلکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہ صرف سب وشتم ہیں۔ اس طرح کی باتیں مسیحی پادریوں کے الزام کا علمی جواب نہیں۔

 مگر بعد کو بعض اہل علم نے اس معاملے کی تحقیق کی اور خالص تاریخی شواہد کے ذریعہ یہ ثابت کیا کہ یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے کہ حضرت عمر فاروق کے حکم سے اسکندریہ کا کتب خانہ جلایا گیا۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی فتح کے وقت یہ کتب خانہ سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ عربوں نے 642ء میں مصر کو فتح کیا۔

جب کہ اس سے بہت پہلے 48ء میں رومی حاکم جولیس سیزر کے حکم سے اسکندریہ کے اس کتب خانہ کو تباہ کیا جا چکا تھا۔ جواب کا یہ دوسرا طریقہ علمی تنقید کی مثال ہے )تفصیل کے لیے دیکھیے فلپ کے ہٹی کی کتاب ہسٹری آف دی عربس، صفحہ 166(۔

 تنقید کوئی برائی نہیں، تنقید ذہنی ترقی (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔ تنقیدی ماحول کے بغیر ذہنی ترقی کا عمل جاری نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے لیے جو انتخاب (choice) ہے وہ تنقید اور بے تنقید میں نہیں ہے بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں ہے۔ تنقید کو ختم کرنے کے بعد جو چیز ہمارے حصے میں آئے گی وہ ذہنی ارتقاء کا خاتمہ ہوگا نہ کہ سادہ طور پر صرف تنقید کا خاتمہ۔

 اجتہاد کا عمل بحث و مباحثہ (discussion) کے درمیان جاری ہوتا ہے۔ اجتہاد دراصل معلوم سے نامعلوم تک پہنچنے کا دوسرا نام ہے۔ کچھ باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ کچھ مسائل ہوتے ہیں جن کا جواب ہمیں درکار ہو تا ہے۔ اب اگر کھلے اظہار خیال کا ماحول ہو تو ہر شخص آزادانہ طور پر اپنی رائے کو بیان کرے گا۔ اب افکار کا ٹکراؤ وجود میں آئے گا۔ اس طرح آزادانہ فکری تبادلہ کے دوران معاملہ کے نئے پہلو سامنے آئیں گے۔ اس کے بعد تنقیح کا عمل شروع ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ تحقیقی رائے سامنے آجائے گی جو ہماری فکری تلاش کا اصل مقصود تھی۔ اسی فکری عمل کا نام اجتہاد ہے۔

نظری اور عملی دونوں پہلوؤں سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ اجتہاد زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اجتہاد کسی گروہ کے لیے ترقی کا ضامن ہے۔ جس گروہ میں اجتہاد کا عمل رک جائے اس کے درمیان ترقی کا عمل بھی رک جائے گا۔ مگر اجتہاد کے عمل کو درست طور پر جاری ہونے کے لیے تنقید لازمی طور پر ضروری ہے۔ اجتہاد کا فائدہ انہیں لوگوں کو مل سکتا ہے جو تنقید کو گوارا کریں۔ جن لوگوں کے اندر یہ مزاج نہ ہو کہ وہ تنقید کو کھلے طور پر سنیں اور کھلے دل کے ساتھ اس کو قبول کر لیں ان کے حصہ میں کبھی وہ فکری خوش قسمتی نہیں آئے گی جس کو مجتہدانہ رائے قائم کرنا کہا جا تا ہے۔ اس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں دو متقابل مثالیں درج کی جاتی ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion