اللہ کو بہت یاد کرو

حافظ حامد حسن علوی (1959-1872) اعظم گڑھ کے ایک صاحب طریقت بزرگ تھے۔ ان کے خلیفہ مولانا سعید احمد صاحب مرحوم نے ایک بار حافظ صاحب قبلہ سے پوچھا کہ قرآن میں آتا ہے کہ اللہ کا ذکر کثیر کرو(احزاب41) اس کا مطلب کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے بہت سے لوگوں سے پوچھا کہ ذکر کثیر(بہت یاد) کا اطلاق کتنے عدد پر ہوتاہے تو لوگوں نے مختلف اعداد بتائے۔ کسی نے کہا25 ہزار بار اللہ کا نام لینا ذکر کثیر ہے، کسی نے کہا50 ہزار بار ذکر کرنا ذکر کثیر ہے۔ مگر25 ہزار یا50 ہزار تو گنتی کی حد نہیں ہیں۔ ان سے آگے بھی گنتیاں ہیں۔ اس قسم کے کسی محدود عددی نصاب کو ذکر کثیر کیسے کہا جا سکتا ہے۔ خدا لامحدود ہے، اس لیے اس کاذکر کثیر بھی ایسی گنتی پر ختم ہونا چاہیے جو گنتی کی آخری حد ہو۔

حافظ حامد حسن علوی نے جواب دیا: ذکر کے معنی ہیں عدم نسیان۔ نہ بھولنے کی حالت۔ مثلاً ایک شخص کو حکومت کا افسر یہ حکم سنا دے کہ اتوار کے دن تم کو پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔ تو اس خبر کو سننے کے بعد اگرچہ وہ آدمی روزمرہ کے معمولات میں مشغول نظر آئے گا۔ وہ کھائے پئے گا، بیوی بچوں کے ساتھ رہے گا۔ مگر اس کا ذہن ہر لمحہ پھانسی کے ذکر(یاد) میں مشغول رہے گا۔ وہ کسی حال میں بھی اس سے غافل نہ ہو پائے گا۔ بس اس مثال سے ذکر کی حقیقت سمجھ سکتے ہو۔

 ذکر حقیقتاً ایک مستقل یاد کا نام ہے، نہ کہ کوئی عددی نصاب پورا کرنے کا۔ جب آدمی اللہ کو پا لیتا ہے تو وہ اس کی روح میں سما جاتا ہے، وہ اس کے خون میں تیرنے لگتا ہے۔ ہر موقع پر اس کو خدا کا خیال آتا رہتا ہے۔ زندگی کا ہر واقعہ اس کو خدا کی یاد دلانے والا بن جاتا ہے۔ اسی کا نام ذکر ہے۔ یہ یاد کبھی سینہ کی کسک بن کر اس کو تڑپا دیتی ہے۔ کبھی اس کے دل کو پگھلا کر آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑتی ہے۔ کبھی خوف یا محبت کے کلمہ کی صورت میں اس کی زبان پر آ جاتی ہے۔ کبھی شکر یا دعا بن کر اس کی زبان سے ٹپک پڑتی ہے۔

 ذکر کسی قسم کے رٹے ہوئے الفاظ کو دہرانا نہیں ہے، ذکر دل کی ایک حالت کا نام ہے۔ دل کے اندر اٹھنے والی یہ موجیں کبھی الفاظ کی صورت میں بھی ظاہر ہو جاتی ہیں، یہ الفاظ ذکر و دعا کے معروف الفاظ بھی ہو سکتے ہیں اور غیر معروف الفاظ بھی، وہ عربی میں بھی ہو سکتے ہیں اور آدمی کی اپنی مادری زبان میں بھی۔ مگر ذکر یقینی طور پر کسی قسم کے تکرار الفاظ کا نام نہیں ہے بلکہ اس قلبی حالت کا نام ہے جس کے نتیجہ میں خدا کو یاد کرنے والے الفاظ زبان سے نکل پڑتے ہیں۔ الفاظ کی تکرار کو ذکر کہنا ایسا ہی ہے جیسے ریکارڈ کی آواز کو ایک زندہ انسان کا کلام کہا جائے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion