تعمیر کی طاقت
چینی مفکر کنفیوشش کا قول ہے۔ ’’ایک چھوٹا چراغ روشن کرنا اس سے بہتر ہے کہ تم تاریکی کو برا کہو‘‘ کیونکہ تاریکی کو برا کہہ کر ہم تاریکی کو دور نہیں کر سکتے ۔ لیکن ہم اگر تاریکی میں ایک چراغ جلا دیں تو تاریکی اپنے آپ جاتی رہے گی ۔
رات نے اگر آپ کے چاروں طرف اندھیرا پھیلا دیا ہو تو اس کے خلاف لفظوں کا طوفان اٹھا کر آپ اس سے نجات نہیں پاسکتے ۔ البتہ اگر آپ ایک شمع حاصل کر کے اس کو جلادیں تو آپ دیکھیں گے کہ رات کے باوجود آپ کا ماحول روشن ہو گیا ہے ۔
برائی کو ختم کرنا ہے تو بھلائی کا آغاز کر دیجیے ۔ آپ کو لوگوں کی طرف سے بدسلوکی کا تجربہ ہو تو آپ ان سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آئیے ۔ لوگ ظالم بنے ہوئے ہوں تو آپ انصاف کرنا شروع کر دیجیے لوگ آپ کے ساتھ امتیاز برت رہے ہوں تو آپ اس پر صبر کر کے اپنی کمیوں کی تلافی میں لگ جائیے ۔ لوگ آپ کو اپنی تنقیدوں کا نشانہ بنائے ہوئے ہوں تو آپ ان کو نظر انداز کر کے اپنے اصل کام میں مصروف ہو جائیے۔ یہی کسی مسئلہ کو حل کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ اس کے سوا جتنے طریقے ہیں وہ مسئلہ کو الجھانے والے ہیں نہ کہ مسئلہ کو حل کرنے والے ۔
ایک مسلم نوجوان ایک مسجد میں امام مقرر ہوئے ۔ اس مسجد کے بارے میں مشہور تھا کہ یہاں کوئی امام ٹھہرتا نہیں ۔ وہاں جتنے امام آئے سب تھوڑے تھوڑے دن کے بعد بیزار ہو کر چلے گئے۔ مسجد کے لوگ اماموں کو بہت کم تخواہ دیتے تھے۔ ان کو عزت کی نظر سے تو دیکھنے کا سوال ہی نہ تھا۔
نوجوان کے اندر تعمیری مزاج تھا۔ اس نے سوچا، میرے پیش رو جو چیز مطالبہ کے ذریعہ حاصل نہ کر سکے ، میں اس کو ان شاء اللہ عمل کے ذریعہ حاصل کروں گا۔ اس نے خاموشی کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ وہ نہ صرف اپنے مقررہ فرائض کو بحسن و خوبی ادا کرے گا۔ بلکہ فرائض سے زیادہ کام کرنے کی کوشش کرے گا۔ وہ مسجد کی صفائی کا پہلے سے زیادہ اہتمام کرتا۔ مسجد سے ملی ہوئی زمین پہلے خالی پڑی رہتی تھی اب اس نے اس کی صفائی کر کے وہاں سبزی اور پھول لگا دیئے اور آبپاشی اور محنت کر کے اس کو سبزہ زار بنا دیا۔ محلہ کے لڑکے جو صبح وشام کھیل کو دمیں رہتے تھے ان کو مسجد میں بلا کر پڑھانا شروع کر دیا ۔ اسی کے ساتھ وہ لوگوں کی تلخ باتوں کا جواب بھی میٹھے انداز میں دیتا ۔ وہ لوگوں کی بدسلوکی کے باوجود ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا۔
اس قسم کے کاموں کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے مسجد والوں کے دل جیت لیے ۔ لوگ اس سے اتنا خوش ہوئے کہ اپنے آپ اس کی تنخواہ بڑھا دی۔ اس کو کثرت سے تحفے تحائف ملنے لگے ۔ ہر آدمی اس کو عزت کی نظر سے دیکھنے لگا۔ لوگوں کی خواہش ہوئی کہ اس کے لیے ایسا انتظام کریں کہ وہ یہاں مستقل رہنے لگے۔ یہاں سے چھوڑ کر کہیں اور نہ جائے ۔ چنانچہ اس کے لیے مسجد سے متصل ایک رہائشی کوارٹر بنا دیا گیا تا کہ وہ اپنے گھر والوں کو وہاں لائے اور دل جمعی کے ساتھ وہاں رہے ۔
زندگی کا یہی راز ہے جس کو شیکسپیئر نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے— ’’تمہیں کیا چاہیے ، جو کچھ بھی تمہیں چاہیے اس کو مسکراہٹ کی طاقت سے حاصل کرو نہ کہ تلوار کی طاقت سے‘‘۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے محض وقتی جذبات کے تحت کام کرتے ہیں ۔ اگروہ سوچ سمجھ کر کام کریں تو انہیں معلوم ہو کہ وہ جو کچھ تلوار کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کو وہ ’’مسکراہٹ‘‘ کے ذریعہ زیادہ بہتر طور پر حاصل کر سکتے ہیں۔
آدمی کو بیک وقت دو چیزوں کی ضرورت ہے ۔ پیسہ اور اخلاق ۔ پیسہ آپ کو آپ کی ضرورتیں دیتا ہے اور اخلاق آپ کو لوگوں کے درمیان اچھی طرح رہنے کے قابل بناتا ہے ۔ آدمی کو اگر اپنی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے پیسہ چاہیے تو اسی کے ساتھ اس کو لوگوں سے اچھا نباہ کرنے کے لیے اچھا اخلاق بھی چاہیے مگر اکثر آدمی پہلی چیز حاصل کرنے کے لیے محنت کرتے ہیں اور دوسری چیز حاصل کرنا بھول جاتے ہیں۔ چین کی ایک کہاوت میں ان دونوں چیزوں کی اہمیت کو بڑی خوبی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے— ’’اگر تمہارے پاس دو پیسے ہوں تو ایک سے روٹی خرید واور دوسرے سے پھول۔ روٹی تمہیں زندگی دے گی اور پھول تم کو جینے کا فن سکھائے گا‘‘۔
