جنت کی حقیقت
جنت کیا ہے۔ جنت انسان کی تلاش کا جواب ہے۔ انسان اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے، جہاں وہ ایک انوکھے استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ وسیع کائنات کا ہر جزء اپنے آپ میں مکمل ہے۔ یہاں صرف انسان ہے جو اپنے آپ میں مکمل نہیں۔ پوری کائنات ایک بے نقص (zero-defect) کائنات ہے۔ یہاں صرف انسان ہے جو استثنائی طورپر ناقص وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔
کائنات میں ہر طرف یقین(certainty) ہے۔ اس کے برعکس، انسان کی دنیا میں غیریقینیت (uncertainty) عام ہے۔ بقیہ کائنات میں کہیں خوف (fear) دکھائی نہیں دیتا، مگر انسان ہمیشہ خوف اور اندیشے سے دوچار رہتا ہے۔ بقیہ کائنات میں ہر طرف تسکین (satisfaction) کی حالت ہے، اور انسان کی زندگی میں بے تسکینی (dissatisfaction) کی حالت ہے۔ بقیہ کائنات میں ہر چیز کا حال یہ ہے کہ جو کچھ اس کو چاہیے، وہ سب اس کو مل رہا ہے، مگر انسان اس دنیا کی واحد مخلوق ہے، جو اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ جو کچھ اس نے چاہا، وہ اس کو نہیں ملا۔ بقیہ کائنات بُرائی سے پاک (evil-free) کائنات ہے۔ مگر انسان استثنائی طورپر اس مسئلے سے دوچار ہے، جس کو برائی کا مسئلہ (problem of evil) کہا جاتا ہے۔
جنت اسی سوال کا جواب ہے۔ جنت کا تصور بتاتا ہے کہ انسان کے لیے بھی وہ سب کچھ پوری طرح موجود ہے، جو بقیہ کائنات کو ملا ہوا ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ بقیہ کائنات کو اپنا مطلوب آج میں مل رہا ہے، جب کہ انسان کو اس کا مطلوب کل میں ملے گا۔ دونوں کے معاملات کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر ایسا ہے کہ بقیہ کائنات کے پاس کل (tomorrow) کا تصور نہیں۔ یہ صرف انسان ہے، جو استثنائی طور پر کل کے تصور میں جیتا ہے۔