مایوسی کا شکار
12-16 جنوری 1987 کو نئی دہلی (وگیان بھون ) میں ایک کا نفرنس ہوئی۔ اس میں پندرہ ملکوں کے فلسفی، سائنٹسٹ ، مصنف اور آرٹسٹ شریک ہوئے۔ اس پانچ روزہ کانفرنس کا عنوان تھا:نئے آغاز کی طرف:
Towards New Beginning
اس کانفرنس کا اہتمام مرکزی حکومت ہندنے کیا تھا۔ اس عالمی کا نفرنس میں مغر بی دنیا کی کئی ممتاز خواتین بھی شریک ہوئیں جواب بڑھاپے کی عمر میں ہیں اور انھوں نے اپنی پوری زندگی آزادی ِ نسواں کی تحریک چلانے میں گزاری ہے۔ مگراب وہ مایوسی کا شکار ہیں۔ آسڑیلیا کی جرمین گریر(پيدائش 1939) جو بین اقوامی شہرت کی مالک ہیں ، ان کے بارے میں انڈین اکسپریس (14 جنوری 1987) کے نامہ نگار کے الفاظ یہ ہیں کہ آج کل وہ بہت دھیمی نظر آتی ہیں ان کا وہ جوش جو فیمیل یونک(The Female Eunuch, 1970) نامي کتاب لکھنے کے وقت ان کے اندرتھا وہ حیرت انگیز طور پر غائب نظر آتا ہے۔ جرمین گر یر نے مغرب کی آزادیِ نسواں کی تحریک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کچھ مسائل حل کیے ہیں اور ہم کو کچھ نئے قسم کے مسائل میں مبتلا کر دیا ہے۔
Whither Women’s Lib?
They are feminists of different hues—Ms. Germaine Greer, the outspoken, aggressive writer from Australia, and Ms. Gisele Halimi, a Tunisian-born lawyer who spearheaded the women’s movement in France along with Simone de Beauvoir and others. But both voice a concern that is troubling feminists in the West today— Whither women’s lib? Ms. Greer seems more mellow today: the fire that raged in The Female Eunuch is strangely missing. ‘‘The movement has solved some problems and left us with a different set of problems,’’ exclaimed Ms. Greer. ‘‘Perhaps the problem was that we didn’t take our mothers with us. We left them behind, found them antiquated. And now that many of us are mothers ourselves with teenaged daughters, perhaps we understand our mothers better.’’ (Indian Express, January 14, 1987)
‘‘The West has no answers to the problems of inequality between sexes,’’ says the internationally acclaimed writer Germaine Greer. The erroneous belief of western women that the females in veils are unequal and the ones with make-up minus the head-cover are free and liberated has to be rejected. Referring to the prevalence of ‘‘wifebeating’’ even in the so-called civilized West, she asks, how about the unequal treatment meted out to females in the U.S. and England in the areas of wages and jobs? Well, one-fourth of the crimes in England emanate from violence against women. The man-woman relationship understood in the West as an extension of role-models is the primary cause of strain in the sexual relationships. All the western women identify themselves with the bahu—the bride—forgetting that the mother-in-law and the sister-in-law are also the specific role models to be played by females. She feels that childbearing for a woman is a unique investment: ‘‘The joys of motherhood fill the blanks that cannot be satiated in the specific husband-wife role models.’’ Known for her non-conformist and non-traditional views, Ms. Greer advocates ‘‘coitus interruptus’’ in the area of birth-control: "The array of occlusive devices, spermicidal creams, quinine pessaries, douches, syringes, abortifacient pills and rubber goods of all shapes and sizes are the ill-effects of a growing consumer-culture. These have achieved nothing but added strain in the sexual relationships.’’
(The Hindustan Times, January 12, 1987)
Ms. Halimi is more frank. ‘‘It is a bad time for the women’s movement” she admitted. ‘‘It is down at the moment and we are trying to find the reasons for it. Perhaps we got everything women wanted too fast—contraception, abortion, and divorce. And the problems that face women today are not strong enough to give the movement new force and strength.” Women have very specific values and morals. ‘‘They have a different view of humanity. I am not saying that it is better than that of men, but it is different. And women have to prove that they are women, and not men,’’ she emphasized. (Indian Express, January 14, 1987)
جر مین گر یر اپنی جوانی کی عمر میں اتنی آزاد خیال تھیں کہ وہ نکاح کے طریقہ کو ختم کرنے کی وکیل بنی ہوئی تھیں۔ مگر اب وہ بدل چکی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ شاید مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی ماؤں کو اپنے ساتھ نہیں لیا۔ ہم نے انھیں پیچھے چھوڑدیا اور ان کو قدامت پر ست سمجھ لیا۔ اب جب کہ ہم میں سے اکثر ماں بن چکی ہیں۔ اور ہمارے ساتھ لڑکیاں ہیں تواب ہم مسائل کو کسی قدر مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ شاید اب ہم اپنی ماؤں کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مغرب کے پاس مرد اور عورت کے درمیان نا برابر ی کے مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے۔ مغربی عورت کا یہ خیال غلط ہے کہ پردہ دار عورتوں کو برابر ی حاصل نہیں ہے اور وہ عورتیں جو بنا ؤ سنگار کے ساتھ اور کھلے سر ہوتی ہیں وہ آزادہیں۔ اس فکر کو اب ردکردیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ نام نہاد مہذب مغرب میں بھی عورتوں کے مارنے کے واقعات موجود ہیں۔ مز ید یہ کہ امریکا اور انگلینڈ جیسے ملکوں میں بھی تنخواہ اور ملازمت کے معاملے میں عورتوں کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے۔ انگلینڈ میں جرائم کی چوتھائی تعداد عورتوں کے خلاف تشدد سے متعلق ہے۔امریکا کی 15 فی صد عورتوں کو ان کے شوہر یا بوائے فرینڈ مارتے پیٹتے ہیں۔ (ٹیلی گراف 11 اکتوبر 1987)
فرانس کی مز ہلیمی اس معاملہ میں اور بھی زیادہ کھل کر بولتی ہیں۔انھوں نے اعتراف کیا کہ خواتین نے جو کچھ چاہا تھا وہ سب انھوں نے پالیا۔ مگر ان کا مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ انھوں نے کہا کہ عورتیں بہت مخصوص قسم کی اخلاقی اقدار رکھتی ہیں۔ انسانیت کے بارے میں وہ ایک مختلف نقطۂ نظر کی حا مل ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورتوں کا نقطۂ نظر بہتر ہے ،اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ عورتوں کا نقطۂ نظر مختلف ہے۔ عورتوں کو چا ہیے کہ وہ اپنے کو عورت ثابت کریں، نہ کہ غیر حقیقی طور پر مرد بننے کی کوشش کریں۔ (انڈين ايكسپريس، 14 جنوري 1987)
مذہب کی تعلیمات کے مطابق عورت کا ’’ رول ماڈل ‘‘ یہ تھا کہ وہ گھر کو سنبھالے اور بچوں کی تر بیت کرے۔ موجودہ زمانہ میں عورتوں کا رول ماڈل یہ بناياگیا کہ وہ با ہر کی زندگی میں نکلیں اور ہر شعبہ میں بالکل مردوں کی طرح کام کریں۔ یہ دوسرا رول ماڈل تجربے کے بعد قابل عمل ثابت نہ ہوسکا۔ اپنے بڑھاپے کی عمر میں وہی مغربی خواتین پرانے رول ماڈل کی حمایت کر رہی ہیں جنھوں نے اپنی جوانی کی عمر میں نئے رول ماڈل کی پر جوش وکالت کی تھی۔
کیا اس کے بعد بھی مذہب کے بتائے ہوئے رول ما ڈل کی معقولیت پر شبہ کرنے کی کو ئی گنجائش باقی رہتی ہے۔
