نظامِ فطرت

یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان کچھ مسائل میں مبتلا ہیں۔ مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ صبح و شام اس پر لکھتا اور بولتا رہتا ہے۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ تمام مسائل اغیار کے ظلم و سازش کی پیداوار ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے تمام مسائل اغیار کی سازشوں کا نتیجہ ہیں اور ان کا حل یہ ہے کہ ان سازشوں کے خلاف لڑائی کی جائے۔

 مگر یہ صرف غلط فکری ہے، اور یہ غلط فکری ہی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ان حضرات کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے فطرت کے ایک قانون کو غیر قوموں کی سازش سمجھ لیا۔ حالاں کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے بارش سے پیدا ہونے والی کیچڑ کا الزام انسانوں کو دیا جانے لگے۔

 یہ فطرت کا قانون ہے کہ دنیا میں انسانوں کے درمیان مقابلہ ہو ، ایک گروہ دوسرے گروہ کے خلاف چیلنج بنے۔ اسی نظام فطرت کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے جھٹکا لگتا ہے کوئی شخص یا گروہ دوسرے کو دھکیل کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ نظام انسانی ترقی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

ایسی حالت میں زد میں آنے والا گروہ اگر شکایت اور احتجاج کرے تو اس کا کوئی عملی فائدہ نہیں۔ اس کے بجائے اس کو چاہیے کہ وہ از سرنو اپنے آپ کو مستحکم بنائے۔ وہ صبر کے اصول کو اختیار کر کے اپنی تیاری کرے۔ وہ تلافی مافات کے اصول کو اختیار کر کے خود اپنے آپ پر عمل کرے۔

موجودہ زمانے میں نئی قوتیں ظاہر ہوئیں۔ مثلاًٹکنالوجی، سائنٹفک ایجوکیشن وغیرہ۔ مسلمان ان نئی قوتوں میں دوسری قوموں سے بچھڑ گئے۔ اسی بنا پر ہر جگہ وہ دوسری قوموں کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ اب اس کا حل صرف یہ ہے کہ مسلمان اپنی علمی اور عملی کمیوں کو دور کریں ، یہاں تک کہ ان کا وجود خوددوسری قوموں کے لیے چیلنج بن جائے۔

 یہی اس دنیا میں کامیابی کی واحد ممکن تدبیر ہے۔ جہاں تک موجودہ قسم کی احتجاجی سیاست یا مطالباتی ہنگاموں کا تعلق ہے ، اس سے مسلمانوں کو کچھ بھی ملنے والا نہیں۔ خواہ ان کو مزید ایک سوسال تک جاری رکھا جائے ایسے احتجاجات انسان کے خلاف نہیں ہیں۔ بلکہ وہ خالق فطرت کے خلاف ہیں اور کون ہے جو خالق فطرت سے لڑ کر کامیاب ہو۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion