مقامِ نفوذ
مالی کو ایک پودا لگا نا تھا۔ اس نے باغ میں ایک گڑھا کھودا۔ اس کی زمین نرم کرنے کے لیے اس نے گڑھے میں ایک بالٹی پانی ڈالا۔ کچھ دیر کے بعد پانی سوکھ چکا تھا۔ دیکھنے پرمعلوم ہوا کہ یہاں زمین کے نیچے ایک سوراخ تھا۔ اس سوراخ سے سارا پانی نیچے چلا گیا۔
یہ فطرت کا اصول ہے جس کو پانی نے عملی طور پر برت کر دکھایا۔ پانی نے ایسا نہیں کیا کہ وہ گڑھے کی سخت جگہ پرٹکرا کر وہاں اپنا راستہ بنانے کی کوشش کرے۔ بلکہ اس نے گڑھے کے اندر اپنے لیے ایک مقام نفود (penetration point) تلاش کیا۔ اور وہاں سے راستہ بنا کر اندر داخل ہوگیا۔
فطرت کا یہی اصول انسانی زندگی کے لیے بھی ہے ۔ انسانی معاشرہ میں جب بھی آپ کو کوئی کام کرنا ہو خواہ وہ مادی معنوں میں کوئی دنیوی کام ہو یا اخروی معنے میں دعوت و تبلیغ کا کام، آپ کو سب سے پہلے اپنے ماحول کا مطالعہ کر کے یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کے لیے مقام نفوذ کیا ہے ۔ وہ کون سا نقطہ ہے جہاں پر عمل کر کے آپ بآسانی اپنے لیے ایک گزرگاہ پا سکتے ہیں۔ جہاں سے اپنے عمل کا آغاز کر کے آپ اپنے لیے مستقبل کی وسیع تر راہیں تلاش کر سکتے ہیں۔
انسان جب بھی کوئی منصوبہ بناتا ہے تو اس کا ایک آخری نشانہ ہوتا ہے مثلاً ایک مکان تعمیر کرنا ہو تو اس کا آخری نشانہ اوپر کی چھت ہو گا۔ لیکن آپ اپنے مکان کی تعمیر اوپر کی چھت سے نہیں کر سکتے۔ آپ کو لازمی طور پر اپنے مکان کا آغا ز اس کی بنیاد سے کرنا ہو گا۔
یہی معاملہ تمام انسانی کاموں کا ہے۔ ہر کام کا ایک نقطۂ آغاز ہے، اور دوسرا اس کا نقطۂ اختتام۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دونوں چیزوں کے فرق کو سمجھے۔ وہ اس حقیقت کو جانے کہ ابتدائی مقام سے آغاز کر کے وہ اپنے مطلوب اختتام تک تو پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے منصوبے کے اختتامی نقطے سے آغاز کرنا چاہے تو وہ کہیں بھی نہیں پہنچے گا ،خواہ وہ عمل کے نام پر صدیوں تک اپنی کوششیں جاری رکھے — یہی اس دنیا کے لیے خدا کا مقررکیا ہوا قانون ہے۔
عمل کے نقطۂ اختتام کو جاننا جوش ہے۔ اور عمل کے نقطۂ آغاز کو جاننا ہوش ۔
