سب سے بڑی ضمانت
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تقویٰ والے لوگ اللہ کے محبوب ہیں (9:36)، ان کے لیے نہ خوف ہے اور نہ غم (7:35)، ان کے لیے خدا آسانی پیدا کرتا ہے (92:5)، ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے (3:172)، ان کے لیے زمین و آسمان کی برکتیں کھول دی جاتی ہیں (7:96)، ان کو اللہ کی خصوصی مدد ملتی ہے (3:125)، ان کے لیے اللہ گنجائش اور کشادگی پیدا کرتا ہے (65:2)، ان کے معاملات میں آسانی پیدا کی جاتی ہے (65:4)، وہ ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں (24:52)، انجام کار صرف ان کے لیے ہے (28:83)، وغیرہ۔
تقویٰ اہل ایمان کے لیے آخرت کی نجات کا ذریعہ ہے۔ اسی کے ساتھ وہ مخالفوں اور دشمنوں سے محفوظ رہنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ تقویٰ سے یہ عظیم فائدے کس طرح حاصل ہوتے ہیں، اس کے لیے مندرجہ ذیل روایت پر غور کیجیے:
إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، سَأَلَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ التَّقْوَى، فَقَالَ لَهُ:أَمَا سَلَكْتَ طَرِيقًا ذَا شَوْكٍ؟ قَالَ:بَلَى قَالَ:فَمَا عَمِلْتَ؟ قَالَ:شَمَّرْتُ وَاجْتَهَدْتُ، قَالَ:فَذَلِكَ التَّقْوَى (تفسير ابن كثير ، جلد1، صفحہ 164)۔ یعنی، حضرت عمر بن خطاب نے حضرت ابی بن کعب سے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ کبھی ایسے راستہ پر نہیں چلے جہاں کانٹے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ انہوں نے پوچھا کہ پھر آپ نے کیا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دامن سمیٹ لیے اور خوب بچ بچ کر چلا۔ انہوں نے کہا کہ بس یہی تقویٰ ہے۔
ابن المعتز نے تقویٰ کے اسی مفہوم کو اس طرح نظم کیا ہے:
خَلِّ الذُّنُوبَ صَغِيرَهَا وَكَبِيرَهَا ذَاكَ التُّقَى
وَاصْنَعْ كَمَاشٍ فَوْقَ أَرْ ضِ الشَّوْكِ يَحْذَرُ مَا يَرَى
تقویٰ یہ ہے کہ تم چھوٹے اور بڑے گناہوں کو چھوڑ دو، اور کانٹے دار زمین پر چلنے والا جس طرح بچ بچ کر چلتا ہے، اسی طرح تم بھی کرو۔
تقویٰ (وقی) کا اصل مفہوم بچاؤ ہے۔ یعنی اذیت اور ضرر والی چیزوں سے بچ کر رہنا (مفردات القرآن للراغب الاصفہانی، صفحہ 881) نجات اور کامیابی کو تقویٰ کے عمل سے وابستہ کر کے اللہ تعالیٰ نے زندگی کا اہم ترین راز بتایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی کو حاصل کرنے کی سب سے ضروری شرط ناکامی کے اسباب سے بچنا ہے۔ اس دنیا میں فائدہ اپنے آپ آ رہا ہے۔ شرط یہ ہے کہ آدمی ان نقصان والی چیزوں سے اپنے آپ کو بچائے جو آتے ہوئے فائدے کو اس کی طرف آنے میں مانع بن جائیں۔
گویا فائدہ اور کامیابی کا معاملہ عین وہی ہے جو سورج کا معاملہ ہے۔ سورج کی روشنی اپنے آپ ہر آدمی کی طرف بے پناہ مقدار میں آ رہی ہے۔ آدمی کے ذمہ جو کام ہے، وہ صرف یہ کہ وہ اپنے اور سورج کی روشنی کے درمیان کسی چیز کو آڑیا رکاوٹ نہ بننے دے۔ اسی طرح دنیا اور آخرت کی کامیابی کے لیے بھی آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ ان چیزوں سے بچے جو آنے والی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی ہوں۔ آدمی نے اگر اس کا اہتمام کر لیا تو کامیابی اس کی طرف آ کر رہے گی۔ وہ کسی حال میں رکنے والی نہیں۔
اس تقویٰ کا ایک پہلو یہ ہے کہ نفس اور شیطان کی ترغیبات سے اپنے آپ کو بچایا جائے۔ اور ان سے دور رہتے ہوئے زندگی گزاری جائے۔ مثلاً خدا کی یاد سے غافل ہونا ۔ آخرت کی پکڑ سے نہ ڈرنا، خدائی حدود کو توڑنا، اخلاق اور معاملات میں من مانی کارروائی کرنا۔ مخلوقات کی پرستش میں مبتلا ہونا، اس قسم کی تمام چیزیں انسان کو گھاٹے میں ڈالنے والی ہیں۔ وہ آدمی کو جہنم کی طرف لے جاتی ہیں۔ آدمی پر لازم ہے کہ وہ ان چیزوں سے پوری طرح اپنے آپ کو بچائے۔ جو ایسا کرے گا وہی جنت میں پہنچے گا۔
یہ تقویٰ جو اہل ایمان کے لیے آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے ، وہی ان کی دنیا کو سنوارنے کا بھی یقینی ذریعہ ہے۔
اس دنیا میں اچھے لوگ بھی ہیں اور شریر لوگ بھی۔ یہ شریر لوگ بدکلامی کریں گے۔ وہ طرح طرح سے تکلیف پہنچائیں گے۔ وہ اشتعال انگیز کارروائیاں کریں گے۔ وہ اسلام کے خلاف سازشیں کریں گے۔ وہ ایسے کام کریں گے جن سے اہل ایمان کے جذبات میں برہمی پیدا ہو جائے۔ مگر ایسے تمام مواقع پر اہل ایمان کو ہمیشہ صبر اور تقویٰ کی روش پر قائم رہنا ہے۔ برے انسان ان کی راہ میں کانٹے بچھائیں گے، مگر انہیں ان کانٹوں سے بچ کر اپنی زندگی کا راستہ طے کرنا ہے۔
