میدان عمل میں

اسما ء بنت ابوبکر ہجرت سے 27 سال پہلے پیدا ہوئیں۔ مکہ میں  جب انھوں نے اسلام قبول کیا تو مسلمانو ں کی تعداد سترہ تھی۔ حضرت ابو بکر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی توان کے پاس تقریباً چھ ہزار درہم تھے ، وہ سب ساتھ لے گئے تھے۔

حضرت ابو بکر کے والد ابو قحافہ جونا بینا ہو گئے تھے۔ بعد کو پوتیوں کے پاس تسلی کے لیے آئے اور کہنے لگے:میر اخیال ہے کہ ابو بکر نے اپنے جانے کا صدمہ بھی تم کو پہنچایا اور مال بھی شایدسب لے گیا۔ اسماء کہتی ہیں کہ میں  نے اپنے دادا سے کہا، وہ تو ہمارے لیے بہت کچھ چھوڑ گئے ہیں۔ یہ کہہ کر میں  نے چھوٹے چھوٹے پتھر جمع کیے۔ اور اس طاق میں  بھر دیا جس میں  میرے والد کے درہم پڑے رہتے تھے۔ اور ان کے اوپر ایک کپڑا ڈال کر دادا کا ہاتھ اس کپڑے پر رکھ دیا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ درہم سے بھرے ہوئے ہیں۔ کہا خیر یہ ابوبکر نے اچھا کیا۔ اس سے تم لوگوں کے گزارہ کی صورت ہوجائے گی۔ اسماء کہتی ہیں کہ خدا کی قسم کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا۔ میں  نے صرف دادا کی تسلی کے لیے یہ صورت اختیار کی تھی۔(سيرت ابن هشام جلد1، صفحه 489)

حضرت اسما ء کی شادی حضرت زبیر سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد جب دونوں ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو اس وقت جو حال ہوا وہ صحیح بخاری میں  ان کی زبان سے اس طرح نقل ہوا ہے:

’’جب میرا نکاح زبیر سے ہوا تو ان کے پاس نہ مال تھا نہ جائیداد۔ نہ کوئی خادم کام کرنے والا۔ نہ کوئی اور چیز۔ ایک اونٹ پانی لاد کرلانے کے لیے تھا اور ایک گھوڑا۔ میں  ہی اونٹ کے لیے گھاس وغیر ہ لاتی تھی اور کھجور کی گٹھلیاں کوٹ کر دانہ کے طور پر کھلاتی تھی۔ میں  ہی پانی بھر کرلاتی اور پانی کا ڈول پھٹ جاتا تو اس کو آپ ہی سیتی تھی۔ مجھ ہی کو گھوڑے کی ساری خدمت کرنی ہوتی تھی۔ اس کے ساتھ گھر کاسارا کام بھی انجام دینا ہوتا۔ ان سب کاموں میں  گھوڑے کی خبر گیری میرے لیے زیادہ مشقت کی چیز تھی۔ روٹی البتہ مجھ کو اچھی طرح پکا نا نہیں آتی تھی۔ اس لیے جب روٹی پکانا ہوتا تو میں  آٹا گوندھ کر اپنے پڑوس کی انصار عورتوں کے یہاں لے جاتی۔ وہ بڑی مخلص عورتیں تھیں۔ میری روٹی بھی پکادیتیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچنے پر زبیر کو ایک زمین جاگیر کے طور پر دےدی جو مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر تھی۔ میں  وہاں کام کے لیے جایا کرتی اور وہاں سے اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں لاد کر لاتی۔ ایک بار میں  اس طرح آرہی تھی اور گٹھری میرے سر پر تھی۔ راستہ میں  نبی صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے۔ وہ اونٹ پر آرہے تھے اور انصار کی ایک جماعت ساتھ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر اونٹ کو ٹھہرایا۔ اور اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تاکہ میں  اس پر بیٹھ جاؤں۔ مجھے مردوں کے ساتھ جاتے ہوئے شرم آئی اور یہ بھی خیال آیا کہ زبیر کو غیرت بہت زیادہ ہے ان کو یہ نا گوارنہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے انداز سے سمجھ گئے کہ مجھ کو اونٹ پر بیٹھتے ہوئے شرم آرہی ہے چنا نچہ آپ آگے بڑھ گئے۔

میں  گھر پر آئی اور زبیر کو پورا قصہ سنایا۔ میں  نے کہا کہ مجھے مردوں کے ساتھ اونٹ پر بیٹھتے ہوئے شرم آئی اور تمہاری غیرت کا بھی خیال آیا۔ زبیر نے کہا ، خداکی قسم ، تمہارا گٹھلیاںسر پر رکھ کر لانا میرے لیے اس سے بھی زیادہ گراں ہے۔‘‘ (صحيح البخاري، حديث نمبر 4928)

مدینہ کی زندگی میں  عورتوں کے اس طرح کے کثرت سے واقعات ہیں۔ اس وقت عورتیں نہ صرف گھر کا بلکہ باہر کا بھی اکثر کام کرتی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مرد زیادہ تر جہاد اور تبلیغ دین وغیرہ میں  مشغول رہتے تھے۔ ان کو موقع نہیں ملتا تھا کہ گھر کی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ چنانچہ ان کی عورتوں نے گھر کے کاروبار کو سنبھال لیا تھا۔ حتی کہ جانوروں کی دیکھ بھال اورزراعت اور باغبانی بھی وہ کرنے لگی تھیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion