عملی حالات کی رعایت
پیغمبر اسلام ﷺ نے ذی الحجہ 9ھ میں حج کا فریضہ ادا فرمایا۔ اس کو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان اکٹھا تھے۔ آپ نے اپنے خطبہ میں جو باتیں فرمائیں ان میں سے ایک وہ تھی جس کو انسانی مساوات کا اعلان کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے اس موقع پر یہ تاریخی الفاظ فرمائے کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر فضیلت نہیں۔ فضیلت کا تعلق صرف دین اور تقوی سے ہے۔
اس خطبہ کے تقریبا ڈھائی ماہ بعد مدینہ میں آپ کی وفات ہو گئی۔ آپ کی وفات کے بعد یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ کس کو خلیفہ بنایا جائے۔ مذکورہ اعلان کے مطابق بظاہر صرف یہ ہونا چاہیے تھا کہ دین اور تقوی کی بنیاد پر خلافت کا فیصلہ کیا جائے، نہ کہ نسل اور قبیلہ کی بنیادپر۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔
آپ کی وفات کے بعد مدینہ کی ایک چوپال ( ثقیفہ بنی ساعدہ) میں مسلمانوں کا اجتماع ہوا۔ لوگوں کا پہلار جحان یہ تھا کہ سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنایا جائے جو مدینہ کے ایک قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس وقت حضرت ابو بکر صدیق نے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث پیش کی کہ الأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ (انساب الاشراف للبلاذری، جلد 2، صفحہ 263)۔ یعنی خلیفہ یا امام قریش سے ہو گا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سعد بن عبادہ چونکہ قبیلہ قریش سے نہیں ہیں اس لیے ان کو خلیفہ نہیں بنایا جا سکتا۔ کسی قدر بحث کے بعد آخر کار لوگوں کا اس پر اتفاق ہو گیا کہ قبیلہ قریش ہی کے کسی شخص کو خلیفہ بنایا جائے۔ اس کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ اول مقرر ہوئے جو کہ قریش سےتعلق رکھتے تھے۔
بظاہریہ ایک متضادبات ہے۔پھرپیغمبراسلامﷺنےایساکیوں فرمایا۔اس کے پیچھے ایک عظیم حکمت تھی۔وہ یہ کہ خلیفہ یاحکمراں کوایک وسیع انسانی سماج پراحکام کا نفاذ کرنا ہوتا ہے۔اس کےلیے ضروری ہےکہ لوگ خلیفہ کی اطاعت کےذریعہ وہ مقصدحاصل نہیں ہوسکتاجواسلامی خلافت کامقصودہے۔
قدیم عرب میں سیکڑوں سال کی تاریخ کےنتیجہ میں قریش کےلوگوں کو سرداری کا درجہ حاصل ہوگيا تھا۔ عوامی نفسیات کسی ایسےشخص کی سیادت کوآسانی کے ساتھ قبول کرلیتی تھی جس کا تعلق قریش کےقبیلے سے ہو۔ اسی سماجی صورت حال کی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ الأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ (مسند احمد، حدیث نمبر 12307)۔ یہ کوئی ابدی حکم نہیں تھا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ کسی قوم میں جس گروہ کو قریش جیسی سیاسی حیثیت حاصل ہوجائے، اسی گروہ کےکسی فرد کو قوم کے اوپر حاکم بنایا جائے۔
اس سےمعلوم ہوتاہےکہ عملیت (pragmatism) بھی رسول اللہﷺکی سنتوں میں سےایک سنت ہے۔ انفرادی معاملہ میں ایک شخص کوہمیشہ نظری معیار سامنے رکھنا چاہیے۔ مگر اجتماعی معاملات میں بعض اوقات نظری معیار قابل عمل نہیں ہوتا،اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ ایسے معاملہ میں نظری معیار کو چھوڑ کر عملی تقاضے کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ اگرایسانہ کیا جائے تو زندگی کا نظام ہموار طور پر نہیں چل سکتا۔
