از سرِنَو غور کرنے کی صلاحیت

مقلد انسان، عوامی مقولے کے مطابق، صرف لکیر کا فقیر ہو تا ہے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ کسی معاملے کا از سر نو اندازہ (reassessment) کر سکے۔ وہ ایک ہی مانوس ڈگر پر چلتا رہتا ہے، خواہ عملاً وہ سراسر بے نتیجہ کیوں نہ ہو۔ اس کے بر عکس اجتہادی مزاج رکھنے والا آدمی بار بار معاملات پر نظر ثانی کر تا ہے۔ وہ ماضی اور حال کا مطالعہ کر کے اپنے عمل کا نیا منصوبہ بناتا ہے۔ مقلد انسان اگر ماضی میں ہوتا ہے تو مجتہد انسان اس کے مقابلےمیں مستقبل میں۔

اس کی ایک مثال برصغیر ہند کے حالات میں ملتی ہے۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں جب ہندستان میں انگریزوں کا غلبہ ہو ا تو اس زمانے کے مسلم رہنما صرف ایک ہی بات سوچ سکے۔ اور وہ انگریزوں سے مسلح ٹکراؤ تھا۔ دار الحرب اور جنگ و قتال کے قدیم نظریات کے تحت ان کا جو ذہن بنا تھا وہ ان کو صرف ایک ہی سبق دیتا تھا اور وہ یہ کہ انگریزوں سے لڑکر ان بیرونی دشمنوں کا خاتمہ کر یں۔

اس مزاج کے تحت 1799ء میں سلطان ٹیپو انگریز کی فوجوں سے لڑ گئے۔ اگر چہ اس کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ وہ خود بھی ہلاک ہوئے اور ان کی وسیع سلطنت بھی ختم ہو گئی۔ انہیں نظریات کے تحت 1857ء میں مسلم رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف مسلح جنگ چھیڑدی۔ یہ جنگ مختلف شکلوں میں نصف صدی سے زیادہ لمبی مدت تک جاری رہی۔ اس کا نتیجہ بھی معلوم طور پر مسلم رہنماؤں کی یک طرفہ تباہی کی صورت میں نکلا۔ اس خونیں جنگ کا کوئی بھی فائدہ نہ اسلام کو ملا اور نہ مسلمانوں کو۔

یہ ان لوگوں کی مثال تھی جنہوں نے انگریزوں کے معاملے کو مقلدانہ نظر سے دیکھا۔ تاہم ٹھیک اسی معاملے میں مجتہدانہ نظر کی ایک مثال بھی تاریخ میں موجود ہے۔ یہ سید محمد رشیدرضا مصری (وفات 1935ء) کی مثال ہے۔ وہ 1912 ء (1330ھ ) میں مولانا شبلی نعمانی کی دعوت پر لکھنؤ آئے تھے تاکہ دارالعلوم ندوۃ العلما کے اجلاس میں شرکت کر سکیں۔ اس کے بعد وہ دارالعلوم دیو بند آئے جو اس وقت گویا انگریزوں کے خلاف تحریک کامرکز بنا ہوا تھا۔ اس موقع پر دار العلوم دیوبند میں ایک خصوصی جلسہ ہوا۔ دارالعلوم کی طرف سے مولانا انور شاہ کشمیری نے تقریر کی۔ اس کے بعد سید محمد رشید رضا نے جلسے کو خطاب کیا۔ انہوں نے اس موقع پر عربی زبان میں جو تقریر کی وہ  دارالعلوم دیو بند کی روداد (1330ھ) میں چھپی ہوئی موجود ہے۔ اس تقریر کا ایک حصہ یہ تھا:

’’اسلام کی اشاعت کا دوسراحصہ غیر مسلموں سے متعلق ہونا چاہیے ۔ ہندستان میں صدہاقسم کے بت پرست ہیں ، یہاں بتوں کو پوجنے والے ، درختوں اور پتھروں کے پوجنے والے ، چاند ، سورج، ستاروں اور نہایت لغویات اور خرافات کو پوجنے والے بھی موجود ہیں۔ پس اگر ہمارے پاس دعاۃ اور مبلغین کی ایک مضبوط جماعت موجود ہو تو ان لوگوں میں اسلام کی اشاعت اس قدر سرعت کے ساتھ ہو گی جو اس وقت ہمارے خیال میں بھی نہیں آسکتی۔ ہمیں عیسائیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ کامیابی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک خاص بات اور ہے جو ہر ایک دور اندیش مسلمان کی توجہ کے لائق ہے اور وہ یہ کہ ہندستان میں مسلمانوں کی تعداد غیر مسلموں کے مقابلے میں اس قدر کم ہے کہ ان کی ہستی کو اس ملک میں ہمیشہ معرض خطر میں سمجھنا چاہیے۔انگریزی حکومت نے ، جو عقل و عدل کی حکومت ہے، غیر مسلموں اور مسلمانوں کے درمیان موازنہ قائم کر رکھا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ موازنہ کسی وقت ٹوٹ جائے تو آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ کیا نتیجہ ہو گا؟ غالباً مسلمانوں کا وہی حشر ہو گا جو اندلس میں ہوا تھا۔ اس لیے ایک جماعت ہم میں ایسی ہونی چاہیے جو ان شبہات کو رفع کرے جو اسلام پر عائد کیے جاتے ہیں۔ یہ شبہات جو موجودہ زمانے کے علوم و فنون کی بنا پر پیدا ہو گئے ہیں، ان کا دور کرنا بہت ضروری ہے۔ مگر ان شبہات کا رفع کرنا بغیر فلسفۂ جدید کی واقفیت کے ناممکن ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس داعی جماعت کے اشخاص فلسفۂ جدید کے اہم مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں‘‘ (الجمعیة ویکلی، دہلی،2 فروری،1970ء، صفحہ 10)۔

سید محمد رشید رضا کی یہ تقریر مجتہدانہ بصیرت کی ایک مثال ہے۔ حالات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کر کے انہوں نے پیشگی طور پر یہ جان لیا تھا کہ غیر منقسم ہندستان میں مسلم اقلیت اور غیر مسلم اکثریت کے درمیان بظاہر جو موازنہ (balance) قائم ہے وہ ایک تیسری طاقت (انگریز) کی موجودگی کی بنا پر ہے۔ اس تیسری طاقت کے ہٹتے ہی اس کا قائم کردہ موازنہ اچانک ٹوٹ جائے گا۔ اس کے بعد جو صورت حال پیدا ہو گی اور اس سے بالکل مختلف ہو گی جو 1992ء میں بظاہر دکھائی دے رہی تھی۔ گویا سیاسی آزادی کا آنا مسلمانوں کے لیے  ایک نئے مسئلہ کا آنا ہو گا نہ کہ مسئلہ کا ختم ہونا۔

اس دور رس اندازےکی بنا پر سید رشید رضا نے ہندستان کے مسلم رہنماؤں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ میدان جنگ کے بجائے میدان دعوت میں سرگرم ہوں۔ وہ جنگی تیاری کے بجائے علمی تیاری کریں تاکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق مؤثر انداز میں دعوت و تبلیغ کا کام کرسکیں۔ مگر اس وقت کے مسلم رہنما انگریز سے نفرت میں اتنا زیادہ گم تھے کہ وہ یہ سوچ ہی نہ سکے کہ انگریز کی موجودگی میں کوئی مثبت کام کرنا بھی ان کے لیے ممکن ہو سکتا ہے۔ ایک عظیم تاریخی امکان استعمال ہوئے بغیر ختم ہو گیا۔ اور اس کا سبب صرف اجتہادی بصیرت کا فقدان تھا۔ یہاں ہم اجتہادی تأخر کی چند مثالیں دیں گے جن سے اندازہ ہو گا کہ مقلدانہ فکر کو اختیار کر نے کے نتیجے میں مسلمان کس قسم کے نقصانات سے دو چار ہوئے۔ اجتہادی عمل کو موقوف کرنے کے نتیجے میں کس طرح وہ دور جدید میں ایک بچھڑا ہوا قافلہ بن کر رہ گئے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion