ہر آدمی کے لیے سب سے پہلا کام
ابو تمام (231-188ھ) دمشق کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ وہ ایک غریب آدمی تھا اور قاہرہ کی مسجد عمرو بن عاص میں پانی بھرتا تھا۔ اپنے زمانہ کے مطابق شاعری میں طبع آزمائی کرنے لگا، یہاں تک کہ شاعر بن گیا۔ اس کے اشعار کا دیوان چھپ چکا ہے اس کے علاوہ اس کی دو تصانیف الحماسہ اور فحول الشعرا ء ہیں جن میں شاعروں کے کلام کا انتخاب درج کیا ہے۔ یہ انتخاب اتنا عمدہ ہے کہ جب وہ سامنے آیا تو لوگ کہنے لگے:اس کا انتخاب اس کی اپنی شاعری سے بہتر ہے‘‘۔
الحماسہ کی شکل میں جو انتخاب ہے، وہ اس نے محض اتفاقاً کیا تھا۔ ایک شخص کے یہاں ایک بار اس کو قیام کرنا پڑا۔ وہاں مختلف شعرا کے کلام کا ذخیرہ موجود تھا۔ کوئی دوسرا مشغلہ نہ ہونے کی وجہ سے اس نے انتخاب شروع کر دیا۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک کام میں اپنی عمر صرف کر دیتا ہے۔ حالانکہ اس کی زیادہ قیمت نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، کوئی دوسراکام اس سے محض ضمنی طور پر ہو جاتا ہے اور وہ زیادہ قیمتی قرار پاتا ہے۔
اکثر اوقات آدمی کے لیے بہترین بات یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے طبع زاد کام کا کریڈٹ لینے کا شوق نہ کرے۔ بلکہ کسی دوسرے کے کام میں شریک و معاون بن جائے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت پسندی پر اپنے کو راضی کر سکیں۔
