عورت کا درجہ
عورت کا درجہ اسلام میں وہی ہے جو مرد کا درجہ ہے ( بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ) آل عمران، 3:195۔ حیثیت اور حقوق اور آخرت کے انعامات میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ البتہ اسلام کے نزدیک مرد مرد ہے اور عورت عورت۔ زندگی کا نظام چلانے میں دونوں برابر کے شریک ہیں تاہم اسلام نے دونوں کے درمیان تقسیم کار کا اصول رکھا ہے ، نہ کہ یکسانیتِ کار کا اصول۔
اسلام اس کو پسند نہیں کرتا کہ دونوں میں سے کوئی صنف اپنے کو کم سمجھے اور ایک دوسرے کی نقل کرنے کی کوشش کرے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے:
لَعَنَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَلَعَنَ الْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ(سنن الترمذی،حديث نمبر2784)۔یعنی، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کے مشابہ بنیں ، اور ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے جو مردوں کے مشابہ بنیں۔
انسانیت کو مرد اور عورت کی صنفی تقسیم کے ساتھ پیدا کرنا براہِ راست خالق کی منصوبہ بندی ہے۔ اس تقسیم کو باقی رکھنے ہی میں انسانی زندگی کی ترقی ہے۔ جو مرد یا عورت اس تقسیم کو توڑنے کی کوشش کرے وہ گویا نظام ِ فطرت کوتو ڑ تا ہے۔ نظامِ فطرت کو توڑنا صرف تخریب ہے، وہ کسی درجہ میں بھی تعمیر کا کام نہیں۔
اسلام کے نزدیک مرد اور عورت ایک دوسرے کامثنی (duplicates)نہیں ہیں ، بلکہ وہ ایک دوسرے کا تکملہ (complements)ہیں۔ یعنی ایسا نہیں کہ جو مرد ہے وہی عورت ہے اور جو عورت ہے وہی مر د ہے۔ بلکہ دونوں میں نا قابلِ عبو رقسم کے حیا تیاتی فرق پائے جاتے ہیں۔ یہ فرق تقسیم کار کی حکمت پر مبنی ہیں۔ وہ اس اعتبار سے ہیں کہ مرد کی کمی کی تلافی عورت کرے اور عورت کے اندر جو کمی ہے وہ مرد کے ذریعہ پوری ہو۔
مرد اور عورت کے بارے میں اسلام کا تصور دونوں صنفوں کی فطری ساخت میں ثابت شدہ فرق پر مبنی ہے۔ یہ ایک حیاتیاتی حقیقت ہے کہ مرد اور عورت کی ساخت میں فرق ہے۔ مرد اپنی پیدائشی ساخت كے اعتبار سے ’’ باہر‘‘ کے کام کے لیے موزوں ہے۔ اور عورت اپنی پیدائشی ساخت کے اعتبار سے ’’اندر‘‘ کے کام کے لیے موزوں ہے۔ اسی فرق اور تقسیم پر اسلام کے تمام قوانین بنا ئے گئے ہیں۔ مرد اور عورت کے معاشرتی مقام کے بارے میں اسلام کی تعلیمات تقسیم عمل کے اصول پر مبنی ہیں ، نہ کہ اشتراکِ عمل کے اصول پر۔
