وقت کا استعمال

پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ کشادگی کا انتظار کرنا افضل عبادت ہے:أفْضلُ الْعِبادةِ ‌انْتظارُ ‌الْفَرَجِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3571)۔ یہ ایک حکیمانہ بات ہے جو خدا کے پیغمبر نے ہمیں بتائی ۔ وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے الجھے ہوئے معاملات میں اکثر کسی مسئلہ کا سادہ حل یہ ہوتا ہے کہ اس کو انتظار کے خانہ میں ڈال دیا جائے۔

خدا نے اس دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں سارے اسباب ہمیشہ اصلاح اور تعمیر کے لیے کام کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ راستہ میں کوئی گندگی ڈال دیں تو فور لاکھوں کی تعداد میں بیکٹیریا وہاں جمع ہو جاتے ہیں تاکہ اس کو تحلیل (decompose) کرکے اس کو مفید گیس میں تبدیل کو سکیں ۔ یہی فطرت کے پورے نظام کا حال ہے۔ اس لیے انتظار کی پالیسی اس دنیا میں کوئی بے عملی کی پالیسی نہیں۔ وہ عین عمل کی پالیسی ہے کیوں کہ انسان کا انتظار کرنا گو یا فطرت کو یہ موقع دینا ہے کروہ حرکت میں آکر اس کے مسئلہ کو زیادہ بہترطو پر حل کردے۔ اس بات کوشاعر نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے :

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں          ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

ایک بار میں ایک بڑے شہر میں گیا۔ وہاں میری ملاقات ایک تاجر سے ہوئی۔ وہ سخت پریشان تھے۔ حتیٰ کہ ان کا بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے ایک تجارتی سامان تیار کیا۔ مگر جب وہ اس کو مارکیٹ میں لائے تو انھیں بر وقت خریدار نہ مل سکے ۔ ان کا سامان گودام میں ڈھیر ہو کر رہ گیا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے کوئی دعا یا عمل بتائیے جس سے میں اس تجارتی بحران سے نکل سکوں۔

میں نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بجائے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر ایک نصیحت لکھی اور اس کا غذ کو ایک لفافہ میں بند کر کے انھیں دے دیا۔ میں نے کہا کہ اس لفافہ کو آپ دس دن کے بعد کھولیے گا۔ اس لفافہ کے اندر جو کاغذ بند تھا اس پر میں نے مذکورہ حدیث کی روشنی میں ایک مختصر جملہ ان الفاظ میں لکھا تھا:اپنے معاملہ کو انتظار کے خانہ میں ڈال دیجیے۔

ڈیڑھ سال کے بعد مذکورہ تاجر کی طرف سے ایک خط میرے پاس آیا۔ اس میں انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ آپ کے مشورہ کے مطابق میں نے انتظار کی پالیسی اختیار کی۔ اس کا نتیجہ نہایت شاندار نکلا۔ اللہ کے فضل سے میر اسار امال نفع کے ساتھ فروخت ہوگیا۔ میرا پھنسا ہواروپیہ ہے خالی ہو گیا ہے اور اب میں ایک نیا کاروبار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہوں۔

ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ اخلاقی عمل کا عظیم قانون خدا کے بعد یہ ہے کہ وقت کا احترام کیا جائے:

The great rule of moral conduct is, next to God, to respect time.

خدا کاحق انسان پر یہ ہے کہ وہ خدا کی پرستش کرے ۔ خدا سب سے بڑا ہے ۔ وہ انسان کا خالق اور مالک ہے۔ وہی سب کچھ دینے والا ہے۔ اس لیے وہی ان کا حقدار ہے کہ سب سے زیادہ اس کی تعظیم کی جائے ۔ اِسی کا نام پرستش یا عبادت ہے۔

وقت موجودہ دنیا میں انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ ہم جو کچھ کرتے ہیں سب کا سب وقت کے دائرہ میں کرتے ہیں ۔ جہاں وقت ختم ہو جائے وہاں انسان کا عمل بھی ختم ہو جاتا ہے۔

اس لیے انسان کو سب سے زیادہ وقت کا پاس و لحاظ کرنا چاہیے ۔ وقت کو ضائع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس جو سب سے بڑی دولت تھی اس کو اس نے ضائع کر دیا۔ وقت کو اگر آپ استعمال نہ کریں تو وہ آپ کے پاس ٹھہرا نہیں رہے گا بلکہ چلا جائے گا۔ اور پھر کبھی لوٹ کر آپ کے پاس نہیں آئے گا ۔ وقت کا جولمحہ کھویا گیا وہ ابدی طور پر کھویا گیا۔ اس کو شاعر نے سادہ طورپر ان لفظوں میں بیان کیا ہے:

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

شیکسپیئر جومشہور انگریزی ادیب اور شاعر ہے، اس کا ایک قول یہ ہے کہ — میں نےوقت کو برباد کیا تھا اب وقت مجھ کو بربا دکر رہا ہے:

I wasted time and now doth time waste me.

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو وقت مجھے ملا تھا وہ میرے لیے عمل کا یا ترقی کی طرف بڑھنے کا ایک لمحہ تھا۔ جب میں نے اس ملے ہوئے وقت کو استعمال نہیں کیا تو اس کے بعد یہ ہوا کہ میں ترقی کی طرف اپناسفر بھی جاری نہ کر سکا جس کا نتیجہ ابدی محرومی تھا۔ اس طرح اب میں محرومی کی صورت میں اپنے ضیاع وقت کی قیمت ادا کر رہا ہوں ۔

گول برن (Goulbum) کا ایک قول اس قابل ہے کہ ہر آدمی اس کو یا د کر لے۔ وہ اس کواس طرح محفوظ کرلے کہ وہ ہمیشہ اس کے دماغ میں مستحضر رہے ۔ وہ قول یہ ہے کہ زندگی میں کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں جس کے ضائع کرنے کا ہم تحمل کر سکیں:

There is not a single moment in life that we can afford to lose.

وقت کو کھو ناعمل کے مواقع کو کھونا ہے۔ جس نے عمل کے مواقع کو کھو دیا اس نے گویا کہ اپنا سب کچھ کھو دیا۔ وقت کو کھونے کے بعد کوئی بھی چیز باقی نہیں رہتی جس کو پانے کے لیے کوئی شخص جد و جہد کرے۔

وقت کو صحیح طور پر استعمال کرنے کے لیے زندگی میں انضباط (ڈسپلن) پیدا کر نالازمی طور پرضروری ہے۔ اس کی چند ضروری تدبیریں یہ ہیں۔

1۔  صبح کو سویرے اٹھنا۔ رات آرام کرنے کے لیے ہے اور دن کام کرنے کے لیے۔ آدمی جتنا زیادہ سویرے اٹھے گا اتنا ہی زیادہ وہ اپنے دن کو مفید طور پر استعمال کر سکے گا۔ اگر آپ اپنے ملےہوئے وقت کو مفید بنانا چاہتے ہیں تو صبح کو سویرے اٹھنے کی عادت ڈالیے۔

2۔  اپنا احتساب کرنا۔ شام کو جب آپ سونے کے لیے بستر پر لیٹتے ہیں تو یہ سوچیے کہ آج کا دن آپ نے کیسا گزارا۔آپ نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ کون سا کام آپ کا صحیح تھا اور کون سا کام غلط۔ اپنے آج کے دن کو آپ اور زیادہ بہتر کس طرح بنا سکتے تھے۔ حال کا یہ احتساب آپ کے مستقبل کوزیادہ بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔

3۔ ڈائری کا استعمال ۔ ہمیشہ اپنے پاس ایک پاکٹ ڈائری رکھیے۔ اس میں ہر روز کے مشاہدات اور تجربات کو مختصر طور پر لکھتے رہیے۔ یہ ڈائری آپ کے لیے نہ صرف ایک یادداشت ہو گی بلکہ وہ آپ کے لیے ایک ریگو لیٹر بھی بن جائے گی۔ وہ آپ کی زندگی کی بہترین گائڈ ثابت ہوگی۔

__________________________________________

نوٹ:آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے 29 جون 1995 کو نشر کیا گیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion