دو تاریخی تجربے
سلیمان بن عبدالملک (م 99ھ) کی منقبت کے لیے یہ کافی ہے کہ اس نے خلافت راشدہ کی زریں فہرست میں پانچویں خلیفہ راشد (عمر بن عبدالعزیز) کا اضافہ کیا۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسی اموی حکمراں کے خانہ میں تاریخ ان واقعات کو بھی لکھتی ہے جن کا آخری نتیجہ ان دو عظیم ترین المیوں کی شکل میں برآمد ہوا جن میں سے ایک کا نام اسپین اور دوسرے کا نام ہندوستان ہے۔ اگر سلیمان بن عبداللہ نے اسپین میں طارق کو اور ہندوستان میں محمد بن قاسم کو معتوب کر کے واپس نہ بلایا ہوتا تو شاید ان دونوں ملکوں کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جو بعد کے دور میں ہمیں نظر آتی ہے۔
اسپین میں کیا ہوا
سلیمان بن عبدالملک نے تخت خلافت پر بیٹھنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ محض ایک ذاتی شکایت کی بنا پر موسی بن نصیر گورنر افریقہ اور اس کے سپہ سالار طارق بن زیاد(فاتح اسپین) کو ان کے عہدوں سے معزول کر کے واپس بلالیا۔ اور اول الذکر کو قید اور دوسرے کو نظر بند کر دیا۔ اس کے قدرتی نتیجہ کے طور پر اسپین کی مسلم حکومت اور مرکز خلافت کے درمیان آغاز ہی میں حریفانہ جذبات پیدا ہوگئے۔ 132ھ میں جب ایک خون آشام انقلاب کے بعد دمشق کی اموی سلطنت ختم ہوئی اور نئے دارالخلافہ بغداد میں عباسی خلافت قائم ہوئی تو اموی خاندان کا ایک لٹا ہوا شہزادہ عبدالرحمٰن الداخل اسپین پہنچا اور وہاں کے حالات سے فائدہ اٹھا کر اسپین میں اپنی حکومت قائم کرلی۔ بنوامیہ کہ ایک فرد کی یہ کامیابی عباسیوں کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ اسی طرح اسپین اور مرکز خلافت کے درمیان رقابت کی ایک اور وجہ پیدا ہوگئی اور نتیجۃً باہمی آویزشوں کا وہ لامتناہی سلسلہ چلا جو صرف اس وقت ختم ہوا جب اسپین میں خود مسلم سلطنت ختم ہوگئی۔
مرکز خلافت اور اسپین کی یہ رقابت یہاں تک بڑھی کہ جس خلافت نے طارق بن زیاد کو بھاری کمک دے کر اسپین کی مہم پر بھیجا تھا اسی خلافت نے فرانس کے بادشاہ شارلیمین کو اکسایا کہ وہ اسپین پر حملہ کرے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسپین میں ایک عام خانہ جنگی اور بغاوت کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ ہر علاقہ کا گورنر نرخودمختاری کا خواب دیکھنے لگا۔ امیر قرطبہ کے رشتہ داروں نے اس نازک وقت کو اسپین کے تاج و تخت کے لیے سازش کرنے کا سنہری موقع سمجھا۔ مقامی عیسائیوں کو شہ ملی کہ وہ باغی مسلمانوں کو ساتھ لے کر ہر جگہ شورش پیدا کرتے رہیں۔ اسپین کی اموی خلافت کے بعد اسپین کا ملک چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستوں میں تقسیم ہوگیا جنہوں نے قرطبہ اشبیلیہ، غرناطہ، بلنیہ، طلیطلہ، مالقاوغیرہ شہروں کو اپنا ا پنا دارالحکومت بنالیا۔
طارق بن زیادہ92ھ(711ء) میں اسپین میں داخل ہوا تھا اور897ھ (1492ء) میں اسپین سے مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ آٹھ سو برسوں کی اس طویل مدت کا کوئی دن ایسا نہیں گزرا جو بغاوتوں اور شورشوں سے خالی ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ اسپین کو اکثر بہت لائق مسلم حکمراں ملے۔ عدل و انصاف کے اعتبار سے بھی اور تمدن و سیاست کے اعتبار سے بھی۔ اور بلاشبہ انہوں نے مشکل حالات کے باوجود تمدن اور سیاست دانی کے اعتبار سے اسپین میں ایک عظیم تاریخ بنائی۔ مگر اندرونی حالات اور مرکز خلافت کی شہ کی بناء پر ملک کی عیسائی رعایا مسلسل بغاوتوں پر مائل رہتی تھی جس کی وجہ سے وہ ماحول نہ بن سکا جس میں اس اہم ترین کام کی بنیاد پڑتی۔ جس کے لیے اسلام نے کشور کشائی اور جہاں بانی کے میدان میں قدم رکھا تھا۔ یعنی اشاعت دین کا کام عرب اور اطراف عرب کے اکثر ممالک جتنی مدت میں مکمل طور پر اسلامی آبادی کے ملک بن گئے اس سے بہت زیادہ مدت پانے کے باوجود اسپین اسلامی آبادی کا ملک نہ بن سکا۔
اسپین میں مسلم حکومت کی مثال تقریباً ویسی ہی ہے جیسے آزادی سے قبل ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت کی مثال۔ انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے سوسالہ دور حکومت میں ملک کو زبردست تمدنی ترقیات سے مالا مال کیا۔ اگرچہ انہوں نے وہ غلطی نہیں کی جو اسپین کے مسلمانوں نے کی تھی۔ انہوں نے سارے ملک میں عیسائی مشنریوں کا جال بچھا دیا اور ان کو بے پناہ سہولتیں عطا کیں مگر مسیحی مذہب میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اس ملک کی آبادی کو اپنا ہم عقیدہ بنا لیتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب ہندوستان سے انگریزوں کی ہوا اکھڑی تو عالی شان عمارتیں اور بڑے بڑے پل ان کے کام نہ آ سکے اور انہیں ہندوستان چھوڑ کر وطن واپس جانا پڑا۔
طارق بن زیاد نے جس اسلامی جذبے کے تحت اسپین کی سرزمین پر قدم رکھا تھا اگر وہ جذبہ جاری رہتا اور وہاں مستحکم حکومت کی روایت قائم ہو سکتی تو اسپین میں مسلمانوں کے سوا کسی کا وجود نہ ہوتا۔ دریا پار کرنے کے بعد اپنی طویل دعا میں اس نے: رَبِّ لا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكافِرِينَ دَيَّاراً (71:26) کی آیت بطور بددعا نہیں دہرائی تھی۔ بلکہ یہ اپنے اس عزم کا اظہار تھا کہ وہ اس ملک کو کفر و شرک سے خالی کر کے اسلام کا گہوارہ بنا دینا چاہتا ہے۔ مسلم اسپین کی ابتدائی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مگر چند ہی برس بعد وہاں کی سیاست کا رخ اس طرح بدلا کہ تبلیغ دین کا کام پس پشت پڑ گیا۔132ھ میں جب مرکز خلافت میں تبدیلی ہوئی اور نبوامیہ کی جگہ نبوعباس کی سلطنت قائم ہوئی تو اس ذہن کو مزید تقویت ملی۔ کیوں کہ عباسیوں کو جتنی دلچسپی تمدن اور علوم و فنون کی ترقی سے تھی اتنی دین کی اشاعت سے نہیں تھی۔ اس طرح بغداد کے اثر سے قرطبہ تمدن اور علوم وفنون کا مرکز تو بن گیا مگر وہ اشاعت دین کا مرکز نہ بن سکا۔
چنانچہ اسپین میں جب حالات بدلے تو وہاں کی مسلم اقلیت پر عیسائی اکثریت آنا فاناً غالب آگئی اور الحمرا کا بے مثال محل مسلمانوں کے کچھ کام نہ آ سکا۔ چونکہ عام آبادی میں عیسائیوں کو غلبہ حاصل تھا اس لیے904ھ میں قرطبہ کو زیر کرنے کے بعد جب مسلمانوں کے خلاف داروگیر شروع ہوئی تو ان کے لیے وہاں چھپنے کی بھی کوئی جگہ نہیں تھی۔ عیسائیوں نے غالب آتے ہی تمام ملک میں اپنی مذہبی عدالتیں قائم کر دیں جن میں ہر روز ہزاروں مسلمان گرفتار کر کے لائے جاتے اور طرح طرح کے جھوٹے الزامات لگا کر آگ میں جلا دیے جاتے۔904ھ میں ایک عام حکم جاری کیا گیا کہ ہر وہ شخص جو مسلمان ہے وہ دین مسیحی قبول کر لے ورنہ جہاں اس کو پایا جائے گا قتل کر دیا جائے گا۔ کچھ مسلمان جہازوں پر سوار ہو کر افریقہ کے لیے روانہ ہوئے مگر ان کو ساحل افریقہ تک پہنچنے سے پہلے ہی سمندر میں غرق کر دیا گیا۔ آخر کار کوئی ایک بھی توحید پرست سرزمین اسپین میں باقی نہ رہا۔ عیسائیوں نے سب کو یا تو تلوار کے گھاٹ اتار دیا۔ یا سمندر میں ڈبو دیا۔ یا آگ میں جلا ڈالا۔
———2———
خلفائے اربعہ کے بعد اسلامی حکومت بنی امیہ کے ہاتھ میں چلی گئی جس کے بانی امیر معاویہ (وفات60ھ) تھے اس سلسلہ حکومت کا پانچواں فرماں رواعبدالملک بن مروان تھا۔ 86ھ میں عبدالملک کا انتقال ہوا۔ انتقال سے پہلے اس نے اپنے دونوں بیٹوں ولید اور سلیمان کو ولی عہد مقرر کر دیا۔ اس نے تمام صوبوں کے گورنروں اور عاملوں کے نام فرامین جاری کیے کہ عیدالفطر کے اجتماع میں یکم شوال86ھ کو ولید و سلیمان کی ولی عہدی کے لیے بیعت لی جائے۔ چنانچہ تمام ممالک اسلامی میں تاریخ مقررہ پر ان دونوں کی ولی عہدی کے لیے بیعت لی گئی۔ یہی موقعہ ہے جب کہ مدینہ کے مشہور محدث سعید بن مسیب کو بیعت سے انکار کرنے پر درے لگائے گئے۔
عبدالملک بن مروان(86-23ھ) کے انتقال کے بعد جب اس کا بڑا لڑکا ولید تخت پر بیٹھا تو اس نے یہ کوشش شروع کی کہ اپنے بعد تخت کی وراثت اپنے بھائی(سلیمان) کے بجائے اپنے بیٹے(عبدالعزیز) کی طرف منتقل کر دے۔ ولید بن عبدالملک نے پہلے اپنے بھائی سلیمان کو لکھا کہ وہ ازخود ولی عہدی سے دست بردار ہو جائے۔ جب سلیمان اس کے لیے تیار نہ ہوا تو اس نے دوسری تدبیر کی۔ اس نے تمام والیان ملک اور ممتاز افراد کو اپنے حق میں ہموار کیا اور طے کیا کہ ایک روز کسی خاص اجتماع کے موقع پر تمام ممالک اسلامی میں سلیمان بن عبدالملک کی ولیعہدی کی منسوخی کا اعلان کر دیا جائے اور اس کے بجائے عبدالعزیز بن ولیعہدی کی ولی عہدی پر لوگوں سے بیعت لے لی جائے۔
مگر اس منصوبہ کی تکمیل سے پہلے15 جمادی الثانی96ھ(فروری815ء) میں اس کا انتقال ہوگیا۔ ولید بن عبدالملک کے انتقال کے بعد سلیمان بن عبدالملک تخت نشین ہوا تو قدرتی طور پر وہ ان سرداروں کا دشمن ہوگیا جنہوں نے اس کو تخت سے محروم کرنے کی سازش میں اس کے بھائی ولید کا ساتھ دیا تھا۔ انہیں میں سے ایک حجاج بن یوسف تھا جو مشرق کے اسلامی ممالک کا وائسرائے تھا اور مغربی ممالک کا وائسراے موسی بن نصیر۔ حجاج کا صدر مقام عراق تھا اور موسیٰ بن نصیر کا قیروان۔ ان دونوں نے ولید کے منصوبہ کی حمایت کی تھی اس لیے دونوں سلیمان کی نظر میں وہ بدترین دشمن تھے جن سے سب سے پہلے نمٹنا نئے حکمراں کے لیے ضروری تھا۔
حجاج سلیمان بن عبدالملک کی تخت نشینی سے آٹھ ماہ پہلے شوال95ھ میں انتقال کر گیا تھا۔ اس لیے سلیمان اب حجاج بن یوسف کو نہیں پا سکتا تھا۔ تاہم حجاج کے رشتے دار اس کے انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے موجود تھے جن میں سرفہرست حجاج کے ابن عم اور داماد محمد بن قاسم کا نام تھا جس نے سندھ(موجودہ پاکستان) میں غیر معمولی فاتحانہ کارنامے دکھا کر حجاج کی شہرت میں اضافہ کیا تھا۔
محمد بن قاسم نہایت اعلیٰ درجہ کی قابلیت رکھنے والا سپہ سالار تھا۔ ایک مورخ کے الفاظ میں ’’اس نے سندھ و ہند کی فتوحات میں ایک طرف اپنے آپ کو رستم و سکندر سے زیادہ بڑا بہادر ثابت کیا تو دوسری طرف نوشیروان عادل سے بڑھ کر عادل و رعایا پرور ظاہر ہوا۔‘‘ یہ نوجوان فتح مند سردار سندھ و پنجاب میں اتنی تیزی سے گھس رہا تھا اور بستیوں کی بستیاں اس کے اثر سے اس طرح دائرہ اسلام میں داخل ہوتی چلی جا رہی تھیں کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عنقریب سارا علاقہ ایک اسلامی علاقہ بن جائےگا۔
ہندوستان کی مہم پر محمد بن قاسم کو حجاج ہی نے روانہ کیا تھا اس کے لیے حجاج نے کتنا اہتمام کیا تھا اس کا اندازہ چند مثالوں سے ہوگا۔
1۔ حجاج نے دیگر تمام سازوسامان کے علاوہ30 ہزار دینار خصوصی طور پر محمد بن قاسم کے ہمراہ کیے تھے تاکہ ناگہانی ضرورت کے وقت کام آ سکیں (تاریخ سند، میر معصوم، صفحہ80) کہا جاتا ہے کہ فوج کشی کی اس مہم پر کل6 کروڑ درہم صرف ہوئے تھے۔
2۔ فراہمی سامان کا حجاج کو اس قدر خیال تھا کہ اس نے سوچا کہ محمد بن قاسم کو عربوں کی عادت کی بناء پر کھانے میں سرکہ کی ضرورت ہوگی۔ چنانچہ اس نے بہت سی روئی سرکہ میں تر کر کے خشک کرایا اور اس کو محمد بن قاسم کے پاس روانہ کیا اور لکھا کہ جب سرکہ کھانے کا جی چاہے تو اس کو پانی میں بھگو کر نچوڑ لیا کرنا۔
3۔ پانچ منجنیقیں جو بھاری ہونے کی وجہ سے خشکی کے راستے سے روانہ نہ ہو سکتی تھیں، ایک بڑے جہاز پر لدوا کر ساحل سندھ کی طرف روانہ کیں۔ یہ منجنیقیں اتنی بڑی تھیں کہ ان میں سے ہر ایک کو چلانے کے پانچسو آدمیوں کی ضرورت ہوتی تھی۔
4۔ اس پوری مہم کے دوران حجاج اور محمد بن قاسم کے درمیان ڈاک کا سلسلہ جاری رہا۔ حجاج بصرہ میں تھا اور محمد بن قاسم سندھ میں ۔ مگر انتظام یہ تھا کہ ہر تیسرے روز ایک خط حجاج لکھتا تھا اور اسی طرح محمد بن قاسم بھی ساری مصروفیتوں کے باوجود ہر تیسرے روز حجاج کے نام مفصل حالات تحریر کرتا۔ ڈاک کی روانگی کے لیے ایسے خاص انتظامات کیے گئے تھے کہ اگرچہ دیبل(سندھ) اور بصرہ میں ہزاروں کوس کا فاصلہ تھا۔ مگر برابر ساتویں روز بصرہ سے دیبل اوردیبل سے بصرہ دونوں کے خطوط پہنچ جاتے تھے۔
محمد بن قاسم نے 95ھ میں ملتان فتح کیا۔ اب پورا سندھ اس کے قبضہ میں تھا۔ بحرعرب سے لے کر حدود کشمیر تک تمام راجاؤں اور سرداروں نے اسلام کی عظمت کو تسلیم کر لیا تھا۔ اب اس نے پورے برصغیر میں اسلام کی اشاعت کا منصوبہ بنایا اور قنوج کی طرف کوچ کرنا شروع کیا۔ اس کا خیال تھا کہ قنوج پر قبضہ کرنے کے بعد بقیہ علاقوں کی فتوحات کا دروازہ کھل جائے گا۔ مگر96ھ میں سلیمان بن عبدالملک تخت نشین ہوا۔ اس کو حجاج کے متعلقین سے حجاج کا بدلہ لینا تھا۔ اس نے ایک طرف حجاج کے بعد یزید بن مہلب کو عراق کا والی مقرر کیا اور ایک خارجی المذہب صالح بن عبداللہ کو خراج وصول کرنے کی خدمت سپرد کی۔ یہ دونوں حجاج کے بدترین دشمن تھے۔ چنانچہ سلیمان کے حکم کے مطابق ان دونوں نے نسل عقیل(خاندان حجاج) کے لوگوں کو طرح طرح سے ماخوذ کر کے قتل کرنا شروع کیا۔
دوسری طرف سلیمان نے محمد بن قاسم کو ولایت سندھ سے معزول کرنے کا حکم جاری کر دیا جس کا قصور اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ وہ حجاج بن یوسف کا ابن عم اور داماد تھا اور حجاج کانامور عزیز ہونے کی بناء پر اس کو ہلاک کر کے سلیمان اپنے انتقامی جوش کو ٹھنڈا کر سکتا تھا۔ سلیمان نے محمد بن قاسم کی جگہ یزید بن ابی کبشہ کو سندھ کا حاکم مقرر کیا۔ نیا حاکم دربار خلافت کا حکم لے کر سندھ پہنچا۔ اس نے محمد بن قاسم کو گرفتار کیا اور مجرموں کی طرح اس کو ٹاٹ کے کپڑے پہنائے۔ ہاتھ پاؤں میں زنجیریں ڈالیں اور معاویہ بن مہلب کی حراست میں عراق روانہ کیا۔ یہ بھی محمد بن قاسم کی سعادت مندی تھی۔ ورنہ سندھ میں وہ اتنا مقبول تھا کہ وہ خلیفہ کے حکم سے بغاوت کر کے خودیزید اور مہلب کو گرفتار کر سکتا تھا۔
فتوح ا لبلدان (صفحہ 464)کے بیان کے مطابق عربی کا مشہور شعر اسی وقت محمد بن قاسم کی زبان پر جاری ہوا تھا:
أَضَاعُونِي، وَأَيَّ فَتًى أَضَاعُوا لِيَوْمِ كَرِيهَةٍ وَسِدَادِ ثَغْرِ
لوگوں نے مجھے ضائع کر دیا اور کیسے جوان کو ضائع کیا۔ وہ جو مصیبت کے دن کام آئے اور سرحدوں کو محفوظ رکھے۔
اس کے بعد محمد بن قاسم کو دمشق لے جایا گیا۔ وہاں سلیمان کے حکم سے وہ واسط کے جیل خانہ میں قید کر دیا گیا۔ اس پر داروغہ جیل کی حیثیت سے صالح بن عبدالرحمٰن مسلط تھا جس نے اس کو جیل میں طرح طرح کی تکلیفیں دے کر مار ڈالا۔
ایک مورخ ان واقعات کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’اگر ولید بن عبدالملک کی زندگی کچھ روز اور وفا کرتی۔ یاسلیمان ہی عقل و ہوش سے کام لے کر محمد بن قاسم کو چھوڑ دیتا تو شاید ایشیا کی تاریخ کچھ اور ہوتی‘‘۔
یہی مورخ مزید لکھتا ہے’’محمد بن قاسم کے زمانہ میں خلقت خدا کثرت سے اسلام قبول کرتی جا رہی تھی۔ تبلیغ دین کی جو سچی اور صحیح کوشش اس نے چند روز میں کر کے دکھا دی۔ بعد کی بڑی بڑی سلطنتیں صدیوں میں بھی نہ کر سکیں۔ اس نو عمر سپہ سالار نے چند روز کی حکمرانی میں جو گہرا اثر ڈال دیا تھا۔ ویسا اثر پٹھانوں اور مغلوں کی سلطنتیں پانچ سو برس میں بھی ملک پر نہیں ڈال سکیں۔ سندھ کے علاوہ بقیہ ملک میں آج مسلمان تھوڑے ہیں اور ملک پر کوئی اثر نہیں رکھتے۔ بخلاف اس کے سندھ میں سب سے بڑا غلبہ مسلمانوں کو حاصل ہے اور یہ صرف عربوں اور خاصتاً محمد بن قاسم کی دین ہے‘‘۔
