یونی کلچر نیشن یا ملٹی کلچر نیشن
ہندستان میں پچھلے سو سال سے دو مختلف سیاسی گروپ موجود رہے ہیں اور آج بھی وہ الگ الگ ناموں کے ساتھ موجود ہیں۔ ایک وہ جو سیکولر آئیڈیالوجی پر ملک کی تعمیر کرنا چاہتا ہے اور دوسرا وہ جو ہندو آئیڈیالوجی پر ہندوستانی سماج کو ڈھالنا چاہتا ہے۔ دونوں کے نظریات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ہندستان میں تمام لوگوں کے لیے یکساں سول کوڈ بنایا جانا چاہیے۔
لیکن اگر غیرجانبدارانہ انداز سے دیکھا جائے تو یونیفارم سول کوڈ دونوں ہی کے نظریات کے خلاف ہے۔ اگر وہ اپنے نظریہ میں مخلص ہوں تو ہرگز انہیں اس قسم کے تصور کی حمایت نہیں کرنا چاہیے۔
سیکولرزم کا مطلب ہے— مذہب کے معاملے میں اسٹیٹ کا عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی اختیار کرنا۔ لوگوں کو اپنے عقیدہ و مذہب کی آزادی دیتے ہوئے صرف مشترک دنیوی امور کا انتظام و انصرام کرنا۔ یہی سیکولرزم کا عالمی سطح پر متفقہ مفہوم ہے اور اسی مفہوم کے مطابق دستور ہند کی تشکیل کی گئی ہے۔
کچھ لوگ سیکولرزم کی تشریح اس طرح کرتے ہیں گویا کہ وہ خود ایک مذہب ہے اور تمام مروجہ مذاہب کو ختم کرکے نجی دائرہ سے لے کر اجتماعی دائرہ تک زندگی کے تمام پہلوؤں کو اپنے دائرہ میں لینا چاہتا ہے۔ مگر یہ انتہا پسندی ہے۔ اس قسم کے انتہا پسند لوگ ہر مذہب اور ہر نظام میں ہوتے ہیں۔ چنانچہ خود اسلام میں ایسے انتہا پسند لوگ موجود ہیں جو اسلام کی ایسی تشریح کرتے ہیں، جس میں اسلام سیاست اور جنگ کا مذہب بن جاتا ہے۔ مگر یہ غلو اور تشدد ہے، وہ اسلام کی صحیح نمائندگی نہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سیکولرزم اور یونیفارم سول کوڈ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ہندستان کا سیکولر گروپ اگر واقعۃً سیکولر گروپ ہے تو اس کو یونیفارم سول کوڈ کی بات نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ انفرادی دائرہ میں مذہبی آزادی سیکولرزم کا بنیادی اصول ہے۔
دوسرا گروہ وہ ہے جو ہندو آئیڈیالوجی کی بنیاد پر کھڑا ہونا چاہتا ہے اس گروہ کو جاننا چاہیے کہ اگر وہ ہندو آئیڈیالوجی میں عقیدہ رکھتا ہے تو یہ خود اس کے اپنے عقیدہ کے خلاف ہوگا کہ وہ ہر طبقہ اور فرقہ کو ایک ہی سول کوڈ کے تحت لانے کی کوشش کرے۔
ہندو آئیڈیالوجی کا بنیادی اصول سرو دھرم سمبھاوا ہے۔ یعنی سب دھرم سچے ہیں۔ ہندو ازم کی بنیادی صفت یہ ہے کہ وہ کثرت میں وحدت(unity in diversity) کو مانتا ہے۔ اس کے نزدیک حقیقت کے ظاہری فارم مختلف ہوتے ہیں مگر اندرونی حقیقت ایک ہوتی ہے۔ گویا ہندو ازم کا عقیدہ ہے— انیکتا میں ایکتا کو دیکھنا۔
سول کوڈ یا کسی بھی کوڈ کا تعلق ظاہری فارم سے ہے نہ کہ اندرونی اسپرٹ سے۔ ایسی حالت میں یہ ہندو نقطہ نظر کے خلاف ہوگا کہ مختلف گروپوں کے پرسنل لا کو ختم کرکے سب کے لیے صرف ایک کوڈ جاری کرنے کی کوشش کی جائے۔
دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک(مثلاً برطانیہ، جرمنی، فرانس وغیرہ) میں ملٹی کلچر نیشن کا اصول رائج ہے۔ سنگاپور جیسے چھوٹے ملک سے لے کر امریکہ جیسے بڑے ملک تک ہر جگہ اسی اصول کو اختیار کرکے ترقی ہو رہی ہے۔ سوویت یونین غالباً واحد ملک ہے جہاں یونی کلچر نیشن بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے لیے ہر قسم کی ریاستی طاقت استعمال کی گئی۔ مگر یونی کلچر نیشن تو نہیں بنی، البتہ خود سوویت یونین ٹوٹ کر ختم ہوگیا۔ تاریخ عالم کے یہ تجربات ہماری آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں یکسانیت کا تعلق تاریخ سے ہے نہ کہ قانون سے۔ اگر کسی سماج میں تاریخی عمل کے ذریعہ یکساں کلچر آ جائے تو وہاں یکساں کوڈ بھی بن جائے گا۔ اس سے پہلے ایسا ہونا ممکن نہیں۔
