مذہب اور پرسنل لا
سپریم کورٹ کی مذکورہ دو رکنی ڈویژن بنچ کے 31 صفحہ کے فیصلہ (مئی 1995) میں اس قسم کی قانون سازی کا جواز یہ کہہ کر نکالا گیا ہے کہ نکاح و طلاق کے معاملے کا تعلق مذہب سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ملکی قانون سے ہے۔ جسٹس کلدیپ سنگھ اپنے فیصلہ میں لکھتے ہیں کہ دستور کی دفعہ44 اس تصور پر مبنی ہے کہ مہذب سماج میں مذہب اور پرسنل لا کے درمیان کوئی لازمی تعلق نہیں۔ اس کی دفعہ25 مذہبی آزادی کی ضمانت دیتی ہے جب کہ دفعہ 44 سماجی تعلقات اور پرسنل لا کو مذہب سے الگ کر رہی ہے:
Article 44 is based on the concept that there is no necessary connection between religion and personal law in a civilised society. Article 25 guarantees religious freedom whereas Article 44 seeks to divest religion from social relations and personal Law.
یہ سراسر بے بنیاد بات ہے۔ مذہب کا تعلق، تمام علماء مذہب کے اتفاق کے مطابق ، تین چیزوں سے ہے۔ عقیدہ، عبادت، اخلاقی اقدار (ethical values) اور اخلاقی اقدار میں بلاشبہ یہ بات سرفہرست ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان جائز جنسی تعلق کی صورت کیا ہو۔ نکاح کا تعلق اسی اخلاقی مسئلہ سے ہے ، اس لیے وہ لازمی طور پر مذہب میں شامل ہے۔
مذہب اور پرسنل لا کا یہ تعلق اتنا زیادہ واضح ہے کہ خود ڈویژن بنچ کے اسی فیصلہ میں اس کا اعتراف موجود ہے۔ چنانچہ بنچ کے دوسرے رکن جسٹس آر این سہا ے اپنے علاحدہ فیصلہ میں لکھتے ہیں کہ شادی، وراثت، طلاق، کنورزن اپنی نوعیت اور حیثیت میں اتنا ہی مذہبی ہیں جتنا کہ عقیدہ۔ آگ کے کنارے سات پھیرا کرنا یا قاضی کے سامنے ایجاب و قبول کرنا بھی اتنا ہی عقیدہ اور ضمیر کا مسئلہ ہے جتنا کہ خود عبادت:
Marriage, inheritance, divorce, conversion are as much religious in nature and content as any other belief or faith. Going round the fire seven rounds or giving consent before Qazi are as much matter of faith and conscience as the worship itself.
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی دلیل سے نکاح کے معاملے کو مذہب سے جدا نہیں کیا جاسکتا اور جب نکاح و طلاق کا معاملہ مذہب کا معاملہ ہے تو دستور کی دفعہ25 کے مطابق ، کسی بھی پارلیمنٹ یا کسی بھی ادارہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی گروہ کے اس مسلّمہ حق کو اس سے چھین لے اور اس کی مرضی کے بغیر اس کے اوپر ایسا قانون نافذ کرے جو مذکورہ دفعہ کے مطابق ، اس کے مذہبی معاملے میں مداخلت کے ہم معنی ہو۔
