یک طرفہ طریقہ
دہلی کے ایک انگریزی اخبار میں میں نے ایک آرٹیکل پڑھا۔ اس کا عنوان تھا دو طرفہ طریقہ بہترین طریقہ ہے(bilateralism is best)۔ یعنی، دو فریقوں کے درمیان نزاع ہو تو اس کو حل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں’’ففٹی ففٹی‘‘ پر راضی ہو جائیں۔ پچاس فیصد ذمہ داری ایک فریق لے اور پچاس فیصد ذمہ داری دوسرا فریق لے۔ اور اس طرح معاملے کو ختم کر دیا جائے۔
یہ بات گرامر کے لحاظ سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہے۔ کیوں کہ وہ موجودہ دنیا میں ناقابل عمل ہے۔ اس دنیا میں کوئی نزاع اسی وقت ختم ہو سکتی ہے جب کہ ایک فریق یک طرفہ طور پر اس کو ختم کرنے پر راضی ہو جائے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ یک طرفہ طریقہ بہترین طریقہ ہے:
Unilateralism is best
پیغمبر اسلامؐ نے جھگڑوں اور شکایتوں کو ختم کرنے کا یہی طریقہ بتایا ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ: أَحْسِنْ إِلَى مَنْ أَسَاءَ إِلَيْكَ (معجم ابن الأعرابي، حدیث نمبر 1507)۔ یعنی، جو شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کرے، اس کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو۔ یعنی ردعمل کا طریقہ اختیار نہ کرو۔ اور نہ اس کا انتظار کرو کہ دوسرا فریق پچاس فیصد جھکے تو تم بھی پچاس فیصد جھک جاؤ۔ اس کے برعکس، خدا پرست انسان کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ یک طرفہ حسن سلوک کا طریقہ اختیار کرے۔ اسی یک طرفہ حسن اخلاق کا دوسرا نام صبر ہے۔ اور اسی صبر میں بہتر انسانی سماج کا راز چھپا ہوا ہے۔
