دوسری مثال

ایک طرف ہٹلر کی یہ تاریخ ہے۔ دوسری طرف اسی یورپ میں برطانیہ کی ایک تاریخ ہے۔ برطانیہ میں اس کے بالکل برعکس انداز میں ایک’’پارٹی‘‘بنی۔ جو عام طور پر فیبین سوسائٹی کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کا طریق فکر اور اس کا انداز اس سے مختلف تھا جو ہٹلر کا اور اس کی نیشنل سوشلسٹ (نازی) پارٹی کا تھا۔ فیبین سوسائٹی برطانیہ میں کبھی عوامی مقبولیت حاصل نہ کر سکی مگر اس نے برطانیہ کے لیے جو کام کیا وہ نازی پارٹی کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ اہم تھا۔

 فیبین سوسائٹی لندن میں 1883میں قائم ہوئی۔ اس کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کی برائیوں کو دور کرنا تھا۔ اس سوسائٹی میں ابتداء ً جو لوگ شریک ہوئے ان میں سے ایک جارج برنارڈشا (1950-1886) تھا۔ برنارڈشا اپنے اندر عوام پسند تقریر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ چنانچہ اس کی تقریروں نے اس تحریک کے گرد ایک بھیڑ جمع کر دی۔ نوجوان برنارڈشا نے اس کے بعد عوامی مظاہرہ کا منصوبہ بنایا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک جلوس نکالا۔ اس جلوس میں زیادہ تر درمیانی طبقہ کے لوگ شامل تھے۔ یہ لوگ جب مارچ کرتے ہوئے لندن کے ان علاقوں میں پہنچے جہاں بڑے بڑے دولت مند رہتے تھے تو ان کے کچھ افراد تشدد پر اتر آئے اور توڑ پھوڑ کرنے لگے۔

 اس پہلے تجربہ کے بعد ہی فیبین سوسائٹی کے رہنما جلوس اور مظاہرہ کے سخت مخالف ہوگئے انھوں نے کہا کہ عوام کو’’پرامن مظاہرہ‘‘ کا پابند رکھنا انتہائی حد تک مشکل ہے۔ اس لیے ہم اپنی اصلاحی جدوجہد کو مظاہرہ کے بغیر چلائیں گے۔ اس کے بعد فیبین سوسائٹی پریس، اجتماعات، علمی ریسرچ وغیرہ جیسے غیر مظاہراتی طریقوں کی پابند رہ کر کام کرنے لگی۔ فیبین سوسائٹی نے تدریجی طریقہ کار کی ناگزیریت (inevitableness of gradualism) پر زور دیا۔ اس تحریک کے لوگ سوشلزم کو مانتے تھے مگر وہ، ارتقائی سوشلزم کا عقیدہ رکھتے تھے، نہ کہ انقلابی سوشلزم کا:

The Fabians put their faith in evolutionary socialism rather than in revolution (Encyclopedia Britannica, Vol. 4, p. 20).

غیر مظاہراتی طریق عمل اختیار کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ موجودہ دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کام میں اپنے آپ کو روکنا پڑتا ہے۔ توسیع کے بجائے استحکام پر قانع ہونا پڑتا ہے۔ شہرت اور مقبولیت کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے آپ کو گمنامی میں دفن کرنے کے لیے راضی ہونا پڑتا ہے۔ چنانچہ فیبین سوسائٹی کے ساتھ یہ سب کچھ پیش آیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ فیبین سوسائٹی نے برطانیہ میں ایک زبردست تاریخ بنائی۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برطانی عظمت کو قائم کرنے کے لیے اس کے رہنماؤں کو اپنی ذاتی عظمت سے دست بردار ہو جانا پڑا۔

اپنے معتدل طرز فکر اور اپنے غیر عوامی طریق کار فیبین سوسائٹی کو یہ قیمت دینی پڑی کہ وہ کبھی برطانیہ کی مقبول عام تحریک نہ بن سکی۔1946کا زمانہ اس کا عروج کا زمانہ شمار کیا جاتا ہے۔ مگر اس عروج کے زمانے میں بھی فیبین سوسائٹی کے ممبروں کی تعداد8400 سے زیادہ نہ تھی۔ وہ ہمیشہ ’’خواص‘‘ کی تحریک شمار کی جاتی رہی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ فیبین سوسائٹی نے اپنی خاموش فکری سرگرمیوں کے ذریعے برطانیہ کے ذہین طبقہ پر گہرا اثر ڈالا۔ ملک کی عام آبادی میں اس کے ارکان کی تعداد اگرچہ ایک فیصد سے زیادہ نہ تھی۔ مگر اعلیٰ ترین اذہان کی قابل لحاظ تعداد اس سے متاثر ہوگئی۔ چنانچہ اس کے ممبروں کی فہرست میں جارج برنارڈشا، سڈنی ویب اور کلیمنٹ اٹیلی جیسے لوگوں کے نام شامل ہیں۔

فیبین سوسائٹی کے ارکان اگلے مرحلہ میں برطانیہ کی لیبر پارٹی میں شریک ہوگئے۔ یہ لوگ لیبر پارٹی میں اس حد تک داخل ہوئے کہ وہ اس کا دماغ بن گئے۔ چنانچہ1945 کے انتخابات میں لیبر پارٹی برطانیہ میں برسراقتدار آئی تو اس کے ممبران پارلیمنٹ کی نصف تعداد وہ تھی جو فیبین سوسائٹی سے تعلق رکھتی تھی۔ پارٹی کے لیڈر کلیمنٹ اٹیلی بھی اس کے ایک ممبر تھے۔ فیبین سوسائٹی ملک کی مجموعی آبادی میں بمشکل ایک فیصد تھی مگر حکمراں پارٹی میں اس کی تعداد پچاس فیصد تک پہنچ گئی۔

1945 سے پہلے برطانیہ میں سرونسٹن چرچل کی پارٹی برسراقتدار تھی۔ اس وقت برطانیہ کے نو آبادیاتی مقبوضات میں آزادی کی تحریکیں چل رہی تھیں۔ بظاہر برطانیہ کی طاقت ان تحریکوں کو دبانے میں ناکام ثابت ہو رہی تھی۔ مگر چرچل نے برطانی مقبوضات کو آزاد کرنے کا مطالبہ بے نیازانہ طور پر رد کر دیا۔ انھوں نے پارلیمنٹ میں اپنی تاریخی تقریر میں کہا تھا کہ وہ ملک معظم کے وزیراعظم اس لیے نہیں بنے ہیں کہ سلطنت برطانیہ کے خاتمہ کی تقریب کی صدارت کریں:

He had not become His Majesty`s first minister to preside over the liquidation of His Majesty`s empire.

ونسٹن چرچل کی پالیسی برطانیہ کو اسی قسم کے انجام کی طرف لے جانے والی تھی جہاں ہٹلر نے جرمنی کو پہنچایا تھا۔ یعنی اپنے مقبوضہ ممالک سے پرتشدد جنگ اور بالآخر ظلم کا ٹائٹل لے کر ان کی آزادی پر راضی ہونا۔

 مگر1945 میں جب لیبر پارٹی برسراقتدار آئی تو اس نے اپنے فیبین ممبروں کے زیر اثر پورے معاملے پر ازسرنو غور کرنا شروع کیا۔ ان کے حقیقت پسندانہ انداز فکر نے انہیں بتایا کہ نوآبادیاتی ممالک کو موجودہ حالات میں زیادہ دیر تک اپنے قبضہ میں رکھنا ناممکن ہے۔ جدید حالات کے نتیجہ میں بہرحال ایک نہ ایک دن وہ آزاد ہو کر رہیں گے۔ لیکن اگر برطانیہ پرامن طور پر انہیں آزاد کر دے تو یہ اس کے لیے کھونے سے زیادہ پانے کے ہم معنی ثابت ہوگا۔ یہ دراصل فیبین دماغ ہی تھا جس کے تحت برطانیہ نے1947 میں یہ تاریخی فیصلہ کیا کہ وہ ہندستان کو (اور اس کے بعد دوسرے ممالک کو) پُر امن طور پر آزاد کر دے۔

اس حقیقت پسندانہ فیصلہ کا زبردست فائدہ برطانیہ کو ملا۔ ایک طرف اس کے عالمی اقتصادی فائدے بڑی حد تک محفوظ رہے۔ دوسری طرف برٹش کامن ویلتھ کی صورت میں اس نے مزید کم ازکم نصف صدی تک اپنے عالمی سیاسی وقار کا تحفظ کر لیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion